وفاقی حکومت کو کرونا وائرس کی تشخیص کرنیوالی لیبارٹری 7روز میں قائم کرنیکا حکم

وفاقی حکومت کو کرونا وائرس کی تشخیص کرنیوالی لیبارٹری 7روز میں قائم کرنیکا ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان کی سربراہی میں قائم 4رکنی فل بنچ نے کرونا وائرس کیس میں وزیراعظم کے ّمعاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا، اٹارنی جنرل اوروفاقی سیکرٹری صحت کو 24مارچ کے لئے طلبی کے نوٹس جاری کرتے ہوئے اب تک کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے سرکاری سطح پر کئے گئے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ ایک ہفتے میں لیبارٹری بننی چاہئے جس میں کرونا کے مکمل ٹیسٹ ہوں،میڈیا کے ذریعے ایس او پیز کی تشہیر کریں،پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو اعتماد میں لیں، حکومت اب کیا کر رہی ہے اور آگے کیا کرنا ہے اس پر رپورٹ دیں،جیلیں قیدیوں سے بری طرح بھری ہوئی ہیں، وہاں کیا انتظامات ہیں؟چیف جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ کتنی سرکاری جگہوں پرٹیسٹنگ ہورہی ہے؟ سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ پنجاب عثمان نے بتایا کہ دو جگہوں پر ٹیسٹنگ کی سہولت ہے، فاضل جج نے کہا کہ کیا دو جگہیں 10 کروڑ عوام کے لئے کافی ہیں؟فاضل بنچ نے ریمارکس دیئے کہ ہم حکومت کے لئے کوئی مشکلات پیدا نہیں کرنا چاہتے،آپ ایک کمرے میں چار چار مریضوں کو رکھیں گے توکرونا پرکیسے کنٹرول ہوگا؟ سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ نے بتایا کہ بہالپور میں قرنطینہ بنا رہے ہیں،ڈی جی خان میں بنا ہوا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ بہاولپورقرنطینہ مرکز میں لوگوں کو بہتر طریقے سے نہیں رکھا گیا،آپ دو دو ہزار کلومیٹر سے لوگ قرنطینہ میں لا رہے جو راستے میں مرض پھیلا رہے ہوں گے۔جسٹس شاہد جمیل نے پوچھا کہ آپ قرنطینہ میں کیوں ٹیسٹ کرکے نہیں لاتے؟اس پر سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ نے کہا کہ تفتان سے متعلق وفاقی حکومت سے پوچھا جانا چاہیے، جس پر چیف جسٹس نے کہا ہم وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کررہے ہیں،دنیا میں قرنطینہ کا مطلب مشتبہ افراد کوالگ الگ رکھنا ہے،اگر ایک کمرے میں چار چار لوگ رکھ دیں گے تو کیا سہولت دے رہے ہیں۔

کرونا وائرس

مزید : ملتان صفحہ آخر /صفحہ آخر