ہسپتالوں میں بیرونی امراض کے شعبے بند کر دیئے جائیں

ہسپتالوں میں بیرونی امراض کے شعبے بند کر دیئے جائیں

  

ملتان کے نشتر ہسپتال میں کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر بھی متاثر ہو گئے،متاثرہ ڈاکٹروں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ مسلسل تین دن اور تین راتوں سے ڈیوٹی دے رہے تھے، اِس دوران وہ تیز بخار اور کھانسی میں مبتلا ہو گئے،جس کے بعد متاثرہ ڈاکٹروں کا ٹیسٹ کیا گیا، جس کی رپورٹس کا انتظار ہے،ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق ڈاکٹروں نے ہسپتال میں مکمل حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ہڑتال کر دی ہے ان کا مطالبہ ہے کہ آئسولیشن وارڈ میں ڈاکٹروں کی ڈیوٹی چھ سے آٹھ گھنٹے کی جائے، پشاور سے ایک دوسری اطلاع کے مطابق پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ہسپتال کے تمام عملے کو حفاظتی کِٹس دی جائیں، ہسپتالوں میں سکریننگ سنٹر بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ابھی تک ہسپتالوں کے بیرونی مریضوں کے شعبے(او پی ڈی) بھی بند نہیں ہوئے۔

کرونا وائرس کی روک تھام اور تحفظ کے سلسلے میں اب تک عالمی ادارہئ صحت کے واسطے سے جو تجاویز سامنے آئی ہیں اُن کا تعلق زیادہ تر حفظِ ماتقدم سے ہے اور ان پر عمل کر کے ہی اس وائرس کے حملے سے بچا جا سکتا ہے۔دن میں متعدد بار ہاتھ دھونے کی ہدایت بھی کی گئی ہے اور ہجوم والی جگہوں سے گریز کرنے کے لئے کہا گیا ہے اِس لئے بعض حلقوں کی طرف سے شٹ ڈاؤن کی تجاویز بھی آ رہی ہیں،لیکن حیرت کی بات ہے کہ جو حفاظتی تدابیر ہر جگہ اختیار کرنے کے لئے کہا جا رہا ہے اُن پر اگر کسی جگہ عمل نہیں ہو رہا تو وہ ہسپتالوں کے بیرونی مریضوں کے شعبے ہیں، ریل گاڑیاں تو اِس لئے روکی جا رہی ہیں کہ کہیں کرونا وائرس ان ٹرینوں پر سفر کر کے دور دراز علاقوں میں نہ پہنچ جائے،انٹر سٹی بسیں بھی بند کی جا رہی ہیں،گھروں میں بھی شادی کی تقریبات پر پابندی ہے،ہوٹلوں اور ریستورانوں کے اوقات محدود کر دیئے گئے ہیں اور رات دس بجے کے بعد یہ کھلے نہیں رہ سکتے،لیکن پولیس نے کھلے ہوئے ریستورانوں کو بند کرانے کے ساتھ ساتھ ایسی دکانیں بھی بند کرانا شروع کر دی ہیں،جنہیں قانوناً کھلی رکھنے کی اجازت ہے۔

ایک طرف تو یہ حفاظتی اقدامات ہیں اور دوسری طرف ہسپتالوں میں برتی جانے والی بے احتیاطی،بلکہ لاپرواہی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ خود ڈاکٹر ہی وائرس کی زد میں آنے لگے ہیں،ڈاکٹروں نے حفاظتی کِٹس کا مطالبہ کیا تھا،لیکن یہ ہر جگہ میسر نہیں ہیں۔انسان کی مسلسل کام کرنے کی ایک استعداد ہے،جس کو وہ غیر معینہ مدت کے لئے نہیں بڑھا سکتا،دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں اسے چند گھنٹے بہرحال آرام کے لئے چاہئیں، جس کے بغیر اس کی تمام ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں متاثر ہو جاتی ہیں، ڈاکٹر آرام کا یہ وقفہ کم تو کر سکتا ہے،لیکن اس سے مکمل طور پر اغماض نہیں برتا جا سکتا، اگر ایسا ہو گا تو وہ خود بیمار ہو گا،ہو سکتا ہے ملتان سے آنے والی یہ اطلاع مبالغہ آمیز ہو کہ وہاں ڈاکٹروں کو مسلسل تین تین دن ڈیوٹی دینا پڑ رہی ہے،لیکن اگر یہ اطلاع درست ہے تو ڈاکٹروں کا یہ حق ہے کہ وہ اس پر احتجاج کریں، وہ اگرایسا کر رہے ہیں تو اسے سرسری طور پر دیکھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ہسپتالوں کے بیرونی مریضوں کے شعبے میں ہر قسم کے مریض آتے ہیں۔اِن مریضوں کے اندر کرونا وائرس کے متاثرین بھی ہوتے ہوں گے تو یہ صورتِ حال تشویشناک ہے اگر ایک مریض صحت یاب ہونے کے لئے ہسپتال آتا ہے اور اس کی سنگین بیماری خود دوسرے مریضوں یا ڈاکٹروں کو متاثر کرتی ہے تو اسے بے احتیاطی ہی سے موسوم کیا جائے گا،اِس لئے تمام صوبائی حکومتوں کو ڈاکٹروں کے اس مطالبے پر غور کرنا چاہئے کہ جب تک کرونا وائرس کا حملہ موجود ہے اس وقت تک بیرونی علاج کے شعبے بند کر دیئے چاہئیں،ڈاکٹروں کا یہ مطالبہ بھی جائز ہے کہ آئسولیشن سنٹر الگ تھلگ مقامات پر بنائے جائیں اگر یہ ہسپتالوں کے عین درمیان میں بنا دیئے جائیں گے، تو پھر ان کے بنانے کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا اور دوسرے وارڈوں سے گزر کر آئسولیشن میں آنا جانا باقی مریضوں کے لئے خطرے کا باعث بنے گا۔

کرونا وائرس جوں جوں زیادہ پھیل رہا ہے اور مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے توں توں لوگوں کا تشویش میں مبتلا ہونا بھی فطری ہے۔اگرچہ اُنہیں بار بار کہا جا رہا ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں، لیکن جس انداز سے گزشتہ چند دِنوں میں وائرس تیزی سے پھیلا ہے اس سے گھبراہٹ بھی بڑھ رہی ہے۔ اٹلی بھی شروع شروع میں وائرس کی آمد سے گھبرایا نہیں تھا اور باقی ممالک کے مقابلے میں وہاں حفاظتی انتظامات تاخیر سے کئے گئے اور نتیجہ یہ ہے کہ آج وہاں ہلاکتوں کی تعداد چین سے بھی بڑھ گئی ہے۔ وہاں ریٹائرڈ ڈاکٹر بھی سروس کے لئے بلائے گئے ہیں اور دس ہزار میڈیکل کے طلباء بھی مریض دیکھ رہے ہیں،ہسپتالوں میں کوئی جگہ نہیں رہی،ہمارے ہاں تو ویسے بھی طبی سہولتوں کا فقدان ہے۔اگر ایمرجنسی میں بعض اقدامات کئے بھی جا رہے ہیں تو وہ بھی محدود ہیں ایسے میں اگر ڈاکٹر بھی بیمار ہونے لگے تو مریضوں کا خیال کون رکھے گا،اِس لئے ڈاکٹروں کا یہ مطالبہ مان لینا چاہئے کہ او پی ڈی بند کر دیئے جائیں اور آئسولیشن سنٹر صحیح معنوں میں ہسپتالوں میں الگ تھلگ مقامات پر بنائے جائیں،اس بارے میں جلد فیصلہ کرنا ملک کے وسیع تر مفاد میں ضروری ہے۔ ڈاکٹروں سے اتنا ہی کام لینا چاہئے جتنا اُن کی جسمانی استعداد ہے ان پر اس سے زیادہ بوجھ ڈالا گیا تو شعبہ صحت کا پورا نظام ہی لڑکھڑا جائے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -