سچائیوں کی رعنائیاں کبھی ماند نہیں پڑتیں

سچائیوں کی رعنائیاں کبھی ماند نہیں پڑتیں
سچائیوں کی رعنائیاں کبھی ماند نہیں پڑتیں

  



ایسا ہے کہ ہمارے کان سچ سننے کے عادی نہیں نہ ہی ہمیں سچ کے ساز پر گائے جانے والے سچائیوں کے نغمے بھلے لگتے ہیں سچ ایک تلخی ہے اور زندگی میں اور بھی کئی تلخیاں ہیں غربت کی تلخیاں، بیروزگاری کی تلخیاں،مہنگائی کی تلخیاں، ناانصافی کی تلخیاں،ان تلخیوں کی حقیقت شاہوں پر آشکار کی جائے تو ان پر گراں گذرتی ہے سچائی کی تلخی تو انکی نازک مزاجی پہ بار ہے ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ حاکم کو آئینہ نہیں دکھاتے انہیں سچ نہیں سناتے سچ انہیں من نہیں بھاتا سچ کی پاداش میں یہ الزامات کا دفتر کھول دیتے ہیں سچ انہیں سچا نہیں لگتا جھوٹ انہیں اچھا لگتا ہے جھوٹی تعریف۔جھوٹے وعدے۔جھوٹی باتیں۔جھوٹے خواب۔ جھوٹ کا پلندہ۔جھوٹ کا دھندہ انہیں پسند ہے پچھلے دنوں جنگ، جیو کے سربراہ میر شکیل الرحمن کو نیب کی جانب سے گرفتار کیا گیا تو معلوم ہوا کہ سچ کتنا کڑوا ہوتا ہے جناب عمران خان صاحب کی انتخابی مہم کے ایک جلسے کے بعد جب ایک چینل یہاں تک کوریج دے رہا تھا کہ جلسہ ہوجانے اور عوام کے چلے جانے کے بعد ایک نمائندہ بتاتا ہے کہ ناظرین یہ وہ جگہ ہے، جہاں جلسہ ہوا دیکھئے لائٹیں بجھ چکی ہیں، کرسیاں اٹھائی جارہی ہیں تو میری حیرانی نہ گئی کہ اتنی کوریج شاید ہی کسی کے حصے میں آئی ہو…… ’جیو‘بھی دیگر چینلز کی طرح عمران خان صاحب کے جلسوں کو برابر کوریج دیتا رہا،جس کے نتیجے میں عمران خان صاحب مسند نشیں ہوئے……

لیکن’خان اعظم‘ جیسے ہی اقتدار کے گھوڑے پر سوار ہوئے تو جیسے جیسے اقتدار کا گھوڑا سرپٹ دوڑتا گیا ’خان اعظم‘ میڈیا کی خدمات کو فراموش کرتے چلے گئے، میڈٖیا تو رہا ایک طرف عوامی مسائل سے دور ہوتے گئے عوام سے کئے وعدوں سے ہی انحراف کرتے گئے، اب اخبارات اور ٹی وی چینلز عوامی مسائل اجا گر تو کریں گے ہی اس سے ’خان اعظم‘ کے ماتھے کی شکنیں بڑھتی جائیں تو کیا کیجئے؟ کیا سچ دکھانے اور سنانے کی پاداش میں میڈیا ہاؤسز کے مالکان پہ یلغار کر دی جائے؟ یہی ہوا جنگ، جیو کا سربراہ زیر عتاب آگیا، لیکن اس سے سچائیوں کی رعنائیاں ماند تو نہیں پڑجائیں گی، بلکہ سچ اور بھی زیادہ سامنے آگیا۔ میر شکیل الرحمن کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے معاملے پر نیب کے نوٹس پر نیب لاہور کے دفتر میں پیش ہوئے تھے اور یہ گرفتاری اس لئے بھی قابل اعتراض ہے کہ جب کوئی آپ کے حضور پیش ہوتا ہو تو گرفتاری کی ضرورت کیونکر پیش آئے، پھر جس زمین کو عذر بنا کر ہنگامہ کیا گیا۔ اس کے بارے میں میر شکیل الرحمان بتا چکے ہیں کہ وہ زمین نجی پارٹی سے خریدی اور تمام ضروری ٹیکس اور ڈیوٹی ادا کی تھی، جس کی ان کے پاس مکمل دستاویزات موجود ہیں۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کی ضمانت منظور کی عدالت نے کہانیب میں یا تو نیت خراب ہے یا اہلیت کا فقدان ہے جسٹس مقبول باقر نے کہا نیب کے پاس ضمانت کی درخواست خارج کروانے کی کوئی بنیاد نہیں نیب میں کام کرنے کی صلاحیت نہیں یا نیت کا مسئلہ ہے۔

کچھ کاروباری حضرات جب وزیر اعظم اور آرمی چیف جناب جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کے پاس جارہے تھے کہ ایسے حالات میں وہ کاروبار نہیں کر سکتے، جب انہیں ہراساں کیا جاتا ہوتو وزیر اعظم نے ان سے وعدہ کیا کہ انہیں غیر ضروری تنگ نہیں کیا جائے گا پھر میڈیا کی ایک بڑی کاروباری شخصیت کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بھلا لفظوں کی پھواربھی مقید ہوتی ہے، جس زرخیز ذہن میں خوشنما لفظوں کے پھول اگتے ہوں، ان کی خوشبوؤں کو قید کیسے کیا جا سکتا ہے۔ تخلیق تو زندان کے تاریک کونوں میں بھی جنم لیتی ہے جسکی روشنی قید خانوں کی آہنی دیواروں سے نکل آتی ہے۔ اس بات کا ادراک آخر کیوں نہیں کیا جاتا کہ صحافت کا سورج طلوع ہوجائے تو اسکا اجالا روکا نہیں جا سکتا۔ ادھردنیا میں پھیلی وبا سے پاکستان محفوظ تھا لیکن ناقص حکمت عملی سے پاکستان میں اضافہ ہوا مراد علی شاہ نے اپنے صوبے میں قابل قدر انتظامات کئے اسی طرح تفتان بارڈر پر اگر حکومت باقاعدہ انتظامات کرتی تو حالات مختلف ہوتے علامہ ناصر عباس نے تفتان بارڈر پرناکافی بندوبست کو وزارت صحت کی نالائقی لاپرواہی کہا ہے شاہد خاقان عباسی کہہ چکے کہ تفتان بارڈر پربیمار صحت مند زائرین کو ایک ساتھ رکھا گیا ٹی وی چینلز بھی تفتان بارڈر پر حکومتی انتظامات کی قلعی کھول چکے ہیں اب میڈیا یہ حقائق نہ دکھائے تو کیا کرے؟ اقتدار سے قبل ’خان اعظم‘میڈیا پہ صدقے واری جاتے تھے اور آج فرماتے ہیں اخبارات نہ پڑھئے ٹی وی نہ دیکھئے، یعنی بے خبر رہئے حکومت کیا کررہی ہے عوام کے ساتھ کیا ہورہا ہے کچھ نہ جانئے ’خان اعظم‘ آپکا اقتدار ابھی تک عوامی دکھ درد کا مداوا نہیں کر سکا الٹا اس میں اضافہ ہوچکا ہے بے روزگاری، مہنگائی،لاقانونیت پہلے سے زیادہ ہے ’خان اعظم‘ دیکھئے کسی زعم میں مبتلا نہ رہئے گا،اقتدار کے منظر چشم زدن میں بدل جاتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم