کرونا کے بعد کی دُنیا؟

کرونا کے بعد کی دُنیا؟
کرونا کے بعد کی دُنیا؟

  



انسانوں کی معلوم تاریخ میں کئی ایسے بڑے واقعات رونما ہوئے کہ ان واقعات کے بعد کی دُنیا کو ”ما بعد“کی دنیا کہا گیا۔ انگریزی میں ایسے واقعات کے لئےPost کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ جیسے 1918ء کے بعد کی دُنیا کو ”پوسٹ ورلڈ وار ون“کے نام سے یاد کیا جا تا ہے۔ 1945ء کے دور کو بعد میں ”پوسٹ سیکنڈ ورلڈ وار“ کے نام سے یاد کیا گیا۔ 1991ء کے بعد کے زمانے کو سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کی دُنیا اور 2001ء میں نیو یارک کے ٹاورز پر حملوں کے بعد کی دُنیا کو 9/11کے بعد کی دنیا قرار دیا جا تا ہے۔یہ تما م ایسے واقعات تھے، جنہوں نے دنیا کو ہی بدل کر رکھ دیا۔ دُنیا کے معاشی، سیاسی، سماجی، تہذیبی اور دیگر رویے ان بڑے بڑے واقعات کے بعد تبدیل ہوکر رہ گئے۔ اب کرونا وائرس نے جس طرح پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا اس کو دیکھ کر بھی یہی کہا جا سکتا ہے کہ کرونا کے بعد کی دنیا بھی ویسی نہیں رہے گی، جیسی اس وائرس کے پھیلنے سے پہلے تھی۔گزشتہ تین سو سال کی ہر بڑی ایجاد، سائنسی تحقیق، بڑی بڑی بیماریوں کو کنٹرول کرنے والی ادویات، ٹیکنالوجی، غرض ہر بڑی ایجاد کامرکز مغرب ہی رہاہے،مگر آج یہی مغرب اس وائرس کو لے کر فی الحال بے بسی کی ایک تصو یر دکھائی دے رہاہے……کیسے دیکھتے ہی دیکھتے چین سے نکلنے والا یہ وائرس دُنیا کے دوسرے علاقوں کی طرح یورپ اور امریکہ میں بھی جا پہنچا اور دیکھتے ہی دیکھتے امریکہ، بر طانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، سپین جیسے ممالک اس وائرس کی لپیٹ میں آ گئے۔

اب سے چند روز پہلے تک کو ن یہ سوچ سکتا تھا کہ امریکہ کے بڑے بڑے شہر یوں لا ک ڈاؤن ہو جا ئیں گے۔ کاروبار، با زار، منڈیاں، ہوٹل، سیاحتی مقامات، تفریحی مراکز، حتیٰ کہ سکول، کالج اور یونیورسٹیوں تک کو بند کر دیا جا ئے گا۔کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ یورپ کے طا قتور ترین ملک جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل کو یہ اعلان کرنا پڑے گا کہ 70فیصد جرمن آبادی کو اس وائرس سے خطرہ ہے۔ نیل فرگوسن جیسے اتنے بڑے سائنس دان کو اپنی تحقیق کی بنا پر یہ کہنا پڑے گا کہ اس وائرس کے باعث برطانیہ میں 510,000اور امریکہ میں 22 لاکھ افراد مر سکتے ہیں …… اس ماہ کے آغاز میں عالمی معاشی ماہرین نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اگر کرونا ایک حد تک ہی رہاتو دُنیا کی معاشی جی ڈی پی کو 77ارب ڈالر کا نقصان ہو گا اور اگر اس نے زیادہ تباہی کی تو 347ارب ڈالرز کا نقصان ہو گا، تاہم اب جس طرح دنیا کے بڑے بڑے تجا رتی مراکز بند ہو رہے ہیں اور عالمی کا روبا ر بری طرح سے متا ثر ہو رہا ہے،اس کو دیکھ کر عالمی معاشی ماہرین کے مطابق کرونا کے باعث اتنا بڑانقصان ہو رہا ہے،جس کا ابھی اندازہ بھی لگانا ممکن نہیں ہے۔ صرف سیاحت کے شعبے میں ہی عالمی معیشت کو 50ارب ڈالرز کا نقصان ہوچکا ہے۔

اب ذرا تصور کیجئے کہ اگر عالمی طور پر صورت حال اتنی گھمبیر ہے تو ایسے میں تیسر ی دُنیا کے ممالک کا کیا حال ہو گا؟ پا کستان جو پہلے ہی ایک طرح کی معا شی کساد با زاری کا سامنا کر رہا تھا، کاروبار ڈوب رہے تھے، بے روزگا ری بڑھ رہی تھی،ملازمتیں کم ہو رہی تھیں، میڈیا سمیت پرائیویٹ شعبے میں ڈاؤن سائزنگ جا ری تھی، ایسے میں کر ونا کا یہ نیا عذاب پا کستانی معیشت کو مزید کتنا نقصان پہنچا ئے گا؟”ایشین ڈویلپمنٹ بینک“نے کرونا کو لے کر پاکستان کی معیشت کے حوالے سے اپنی رپورٹ پیش کی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق اگر کرونا زیادہ نہ پھیلا تو پاکستانی معیشت کو 16ملین ڈالر اور زیادہ پھیلنے کی صورت میں 61ملین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے، جبکہ 9لاکھ سے زیادہ افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں۔کورونا کو لے کر جہاں تک پا کستانی حکومت، اداروں اور عوام کے رویوں کا تعلق ہے تو ان میں ابھی بہتری کی بہت زیادہ گنجائش ہے۔ ظاہر ہے کہ کرونا مغرب سمیت دُنیا کے ہر خطے کو متا ثر کر رہا ہے، ایسے میں پا کستان کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ یہاں پر کرونا کا مسئلہ سرے سے جنم ہی نہ لیتا، مگر یہاں پر سپریم کو رٹ کے مشا ہدات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جن میں کرونا کے لئے حکومت پاکستان کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

ماہرین بھی یہ بات کر رہے ہیں کہ اگر حکومت تفتان سے آنے والے زائرین کے معاملے میں احتیاط کا مظاہرہ کرتی تو کورونا سے کافی حد تک بچا سکتا تھا۔اس معاملے میں جہاں تک وزیراعظم عمران خان کی تقریر کا تعلق ہے،اگر ان کی تقر یر کا تقابل ایسے ممالک کے حکمرانوں کی تقر یروں سے کیا جائے، جو کورونا سے بُری طرح سے متا ثر ہو رہے ہیں تو معلوم ہوگا کہ ایسے ممالک، خاص طور پر مغربی ممالک کے حکمران کرونا کے معاملے میں اپنی اپنی قوم سے خطاب کے دوران جہاں ایک طرف کورونا کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کر رہے ہیں تو دوسری طرف معیشت کی صورتِ حال سے بھی اپنی قوم کو آگاہ کر رہے ہیں …… جیسے کس شعبے میں کتنا نقصان ہوا، کس ادارے میں ہوئے نقصان کا ازالہ کیسے کیا جائے گا؟ اور سب سے بڑھ کر کورونا کے باعث معاشی کساد بازاری سے کیسے مقابلہ کیا جائے گا؟ مگر عمران خان کے خطاب میں اس معاشی کساد بازاری سے نمٹنے کے لئے کوئی ٹھوس پرو گرام پیش نہیں کیا گیا۔عمران خان نے اپنے خطاب میں کورونا سے نمٹنے کے لئے جن احتیا طی تدا بیر کا ذکر کیا، ان سے تو ہر کوئی اب واقف ہو چکا ہے۔ ضروری تھا کہ عوام کو بتاتے کہ پاکستان میں اس کرونا کے مقابلے کے لئے کیا کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں؟انہوں نے اپنے خطاب میں بلوچستان کی صوبائی حکومت کی تعریف کی،حالانکہ میڈیا اور غیر جا نبدار حلقوں کی جانب سے بلوچستان حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

دوسری طرف ان کے خطاب میں سندھ کی صوبائی حکومت کے اقدامات کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔ یہ حقیقت ہے کہ قومی اور غیر جانبدار عالمی ادارے بھی سندھ کی گورننس کو لے کر بہت زیادہ اعتراضات کرتے آئے ہیں۔ سندھ حکومت میں کرپشن، لوٹ مار، غبن، اقرباء پروری اور بدانتظامی جیسے مسائل پر کسی بھی غیر جانبدار شخص کو اختلاف نہیں، مگر دوسری طرف اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ کرونا کو لے کر سندھ حکومت کے اقدامات کو پاکستان کے غیر جانبدار حلقوں کے ساتھ ساتھ عالمی حوالے سے بھی پذیرائی ملی۔اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ پا کستان میں عالمی ادارہئ صحت ”ورلڈ ہیلتھ آرگنا زیزیشن“ کے ترجمان ماہی پالا نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے کراچی میں کئے گئے انتظامات اور ہسپتالوں کا دورہ کیا اور اس دورے کے بعد سرکاری طور پر یہ بیان جا ری کیا کہ کر ونا کو لے کر پا کستان میں جو انتظامات کئے گئے ہیں، وہ انتہائی تسلی بخش ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ ریمارکس پیپلز پارٹی کے کسی سیاست دان کے نہیں، بلکہ ایک غیر جانبدار شخص کی طرف سے سامنے آ رہے ہیں۔ ان کو سرے سے تسلیم ہی نہ کرنا نہ صرف سیاست ہے، بلکہ سر اسر زیا دتی بھی ہے۔ دوسری طرف کرونا کو لے کر پنجاب، خاص طور پر لاہور میں کئے گئے انتظامات کوکسی بھی طور پر تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ گز شتہ آٹھ، دس دنوں سے لاہور کے ہسپتالوں میں کر ونا کے حوالے سے کئے گئے انتظامات پرمَیں خود محکمہ صحت کے کئی عہدیداروں اور کئی ڈاکٹروں کے ساتھ بات چیت کر کے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ لاہور اور پنجاب میں اس حوالے سے ابھی بہت سے اہم اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ کرونا صرف پا کستان ہی نہیں، بلکہ پوری دُنیا کے لئے ایک چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ جیسا کہ کالم کے آغاز میں ذکر کیا گیا کہ کرونا کو لے کر وہ مغرب بھی پریشان ہے، جہاں پر گزشتہ تین سو سال سے ہر طرح کی ایجادات اور تحقیق ہو رہی ہے۔اس موقع کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ہمیں چاہئے کہ ہر طرح کی سیاست سے با لا تر ہو کر اس بحران سے مقابلہ کرنے کی تیاری کریں۔

مزید : رائے /کالم