لاک ڈاؤن سے ناک ڈاؤن تک

لاک ڈاؤن سے ناک ڈاؤن تک
لاک ڈاؤن سے ناک ڈاؤن تک

  



کورونا اب ایک حقیقی عفریت بن چکا ہے۔ عالمی جغرافیائی تقسیم کو پامال کرتے ہوئے180 سے زائد ممالک پر حملہ آور ہو چکا ہے۔ لاکھوں انسان اس کا شکار ہو چکے ہیں اور شکار ہو رہے ہیں۔ ہزاروں اس کے چنگل سے رہائی بھی پا چکے ہیں، ہزاروں ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ شکار ہونے،رہائی پانے اور ہلاک ہونے کا عمل تسلسل سے جاری ہے، لیکن اس عفریت کی ہلاکت خیزیاں بڑھتی ہی چلی جا رہی ہیں۔ دنیا کی تیز ترین ترقی کرتی ہوئی چینی قوم پر یہ وائرس سب سے پہلے حملہ آور ہوا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس قوم کے عالمی عظمت اور شکوہ کی حتمی منزل کی طرف بڑھتے ہوئے قدم رک گئے۔ اس کی چلتی دوڑتی صنعتی مشین کی رفتار ٹھہرنے لگی۔ تعمیر و ترقی کا پہیہ گویاجمود کا شکار ہو گیا۔ چین کے عالمی معاشی طاقت بننے کے لگتے تخمینے سب زیر و زبر ہو گئے …… پھر ہم نے دیکھا کہ دنیا کے مہذب ترین خطے یورپ میں بھی اس عفریت نے سر اٹھایا۔ اٹلی پر حملہ آور ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے اٹلی کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ 6کروڑ کی پوری آبادی لاک ڈاؤن کی زد میں آ گئی۔

دنیا کی نظریں چین کے ووہان شہر سے اٹھ کر اٹلی پر جا لگیں،پھر عالمی ادارے نے اسے، یعنی اٹلی کو وباء کا مرکز قرار دے دیا…… اور پھر چل سو چل۔ امریکہ، برطانیہ، کوریا سے ہوتے ہوتے یہ عفریت ایران کے راستے ہم پر بھی حملہ آور ہو چکا ہے۔ پوری دنیا اس عفریت کی زد میں آ چکی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اسے عالمی وباء قرار دے چکی ہے۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے اس سے نمٹنے کے لئے خطیر رقم مختص کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ ترقی یافتہ اقوام نے غریب ممالک کو اس سے نمٹنے کے لئے دست تعاون بھی بڑھانے شروع کر دیئے ہیں۔ امدادی رقوم کی ترسیل شروع بھی ہو چکی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ جیسی تہذیب و ترقی یافتہ اقوام نے اس عفریت سے نمٹنے کے لئے ہنگامی اقدامات ہی اٹھانا شروع نہیں کئے، بلکہ ان کاوشوں کو جنگی بنیادوں پر منظم کرنے پر بھی غور و فکر شروع کر دیا ہے۔ہمارے ہاں بھی اس حوالے سے آوازیں اٹھنا شروع ہو چکی ہیں۔

ہمارے وزیراعظم عمران خان اپنی تقریر میں قوم کو بتا چکے ہیں کہ ہماری استعداد اور وسائل کم ہیں۔ پاکستان کے پاس کسی بڑے بحران سے نمٹنے کی صلاحیت بھی نہیں ہے اور وسائل بھی نہیں ہیں۔اس بارے میں قطعاً دو آراء نہیں پائی جاتیں کہ عوامی خدمات مہیا کرنے والے ہمارے سرکاری سیٹ اَپ میں اتنی استعداد ہی نہیں ہے کہ وہ عمومی حالات میں بھی سہولتیں فراہم کر سکے۔ وسائل کی کمی اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہے، لیکن دستیاب وسائل کے ساتھ مناسب سروس ڈلیوری بھی ان کے بس میں نہیں۔ کسی ہنگامی صورت سے نمٹنا تو قطعاً ان کے اختیار میں نہیں ہے، اس لئے وزیراعظم کی بات درست اور مبنی برحقائق نظر آتی ہے کہ کورونا کے مزید پھیلنے کا خدشہ ہے اور ہمارے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں ہے کہ ہم جرائیت و فراست کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں۔ ہمیں گھبرانا نہیں، بلکہ اس سے لڑنا ہے، کیونکہ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی آپشن ہی نہیں ہے۔ایک ذمہ دار شہری کے طور پر ہمیں اپنی تمام تر توجہ اس آفت سے مقابلہ کرنے اور اسے شکست دینے پر مرکوز کرنا چاہیے۔

حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟ وہ کیا کر رہی ہے؟ اس حوالے سے ہمیں تنقید پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ ہماری حکومت جیسی بھی ہے اور جو بھی کر رہی ہے، وہ ٹھیک ہے، وہ جو کچھ بھی کر سکتی ہے کر رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سوچیں کہ بطور فرد ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہم مشکل کے ساتھ ہیں یا اس کے حل کے لئے مستعد ہیں؟ہمارا شمار نقادوں میں ہے یا مسئلہ حل کرنے کے لئے ہماری کاوشیں جاری ہیں؟…… ذرا آتش نمرود کے حوالے سے چڑیا جیسے پرندے کا واقعہ ذہن میں لائیں کہ ایک ننھا پرندہ اپنی چونچ میں پانی کا قطرہ لے کر آتا کہ وہ آگ پر ڈالے، تاکہ وہ بجھ جائے، لیکن آگ کی تمازت اس قدر تھی کہ وہ اس سے فاصلے پر ہی پہنچ کر منہ کھول دیتا اور پھر واپس دوبارہ پانی لینے کے لئے روانہ ہو جاتا۔ کسی عقل مند نے اس سے پوچھا کہ کیا اس طرح تم آگ بجھا پاؤ گے۔ اس نے جواب دیا ہرگز نہیں۔ تو پھر تم یہ سب کچھ کیوں کر رہے ہو؟ عقل مند نے پرندے سے پوچھا۔

ذرا ننھے پرندے کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔ اس نے کہا یہ بات طے شدہ ہے کہ میری کاوشیں ہرگزہرگزاس آتشِ نمرود کو سرد نہیں کر سکیں گی، لیکن میں اپنا نام ابراہیم علیہ السلام کے جانبازوں میں لکھوانا چاہتا ہوں، تاکہ روزِ محشر مَیں ان کے ساتھ کھڑا ہو سکوں۔ میرا شمار آگ دھکانے والوں میں نہیں، بلکہ آگ بجھانے والوں میں ہو۔ کیا خوبصورت تصور ہے۔ اب وقت حکومت کی استعداد اور صلاحیتوں پر سوال اٹھانے کا نہیں، بلکہ مثبت کاوشیں کرنے کا ہے۔ میڈیکل ایمرجنسی کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ پنجاب حکومت نے چینی ماڈل پر ایک فیلڈ ہسپتال بنانے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس کے لئے کسی پی سی ون کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس منصوبے پر 250ملین روپے خرچ ہوں گے۔ ابتدائی رقم جاری بھی کر دی گئی ہے۔ سرکاری کاوشوں میں بہت سی کمزوریاں ہوں گی، لیکن یہ وقت ان خامیوں کو زیر بحث لانے کا نہیں، بلکہ جو کچھ اور جیسے تیسے بھی کیا جا رہا ہے، اسے تکمیل تک پہنچانے کے لئے ہمیں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے……وباء کی ابتداء چین سے ہوئی،کورونا نے اپنی شدت کے ساتھ چین پر حملہ کیا، لیکن چینی قوم نے یکجہتی کے ساتھ 100دنوں کے اندر اندر اس کا رخ موڑ دیا ہے۔ اب چین نے اس وباء پر قابو پا لیا ہے،اس کا پھیلاؤ روک دیا گیا ہے۔ وہاں اب بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ زندگی اپنے عمومی موڈ کی طرف لوٹنا شروع ہو گئی ہے۔ چینی قوم نے اس عفریت پر قابو پا کر ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ عظیم قوم ہے۔ ہمیں ان سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

دوسری قوم جو ہمارے لئے نمونہ ہو سکتی ہے، شمالی کوریا ہے۔ اس نے بھی اس عفریت پر قابو پا لیا ہے۔ شمالی کوریا میں زندگی بڑی منظم اور مربوط ہے۔ وہاں ڈکٹیٹرشپ ہے، طویل عرصے سے ایک خاندان کی حکمرانی ہے۔ حکومت کی عوام پر مکمل گرفت ہے۔ حکومت نے کورونا وائرس کے خلاف جنگ کی جو حکمت عملی تیار کی، عوام نے اس پر من و عن عمل درآمد کیا۔ ویسے شمالی کوریا میں عوام کے پاس اس کے سوا کوئی اور آپشن بھی نہیں ہوتا کہ وہ سرکاری احکامات پر آنکھیں بند کرکے بلا چون و چرا عمل کریں۔ کورونا وائرس کے خلاف جنگ بھی اسی لئے جیت لی گئی کہ عوام نے اس جنگ میں حکومت کا مکمل طور پر ساتھ دیا۔ قومی یکجہتی کے ذریعے اس عفریت کو شکست دی۔

برطانیہ بھی لنگر لنگوٹ کس کر اس عفریت سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہو چکا ہے۔ لاک ڈاؤن کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ لاک ڈاؤن کا مقصد لوگوں کو گھروں میں بٹھانا مقصود نہیں،بلکہ لاک ڈاؤن ایک سٹرٹیجی کے طور پر اختیار کیا جا رہا ہے، تاکہ بیمار کو صحت مند سے علیحدہ کیا جا سکے۔ انہوں نے طے کر لیا ہے کہ ہر ایک شہری کا ٹیسٹ کیا جائے گا۔ ہر شہری، بچہ، بڑا، جوان و بوڑھا،عورت و مرد، ہی میل و شی میل، سب کورونا وائرس ٹیسٹ سے گزریں گے۔اس طرح متاثرہ انسان کو صحت مند افراد سے الگ کرکے ہسپتال میں داخل کیا جائے گا۔ ظاہر ہے یہ ایک حتمی طریق کار ہے، 100فیصد کامیابی کا راستہ، وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کا طریقہ۔ اس میں شک نہیں کہ یہ طریق کار مشکل اور مہنگا ہے۔ اس کے لئے وقت اور سرمایہ درکار ہے۔ عزم و ہمت چاہیے،کیونکہ اس کے علاوہ اس وباء کو پھیلنے سے روکنے کا کوئی اور فوری طریق کار نظر نہیں آ رہا۔ برطانوی قوم اس راہ پر چل نکلی ہے۔ اس نے کامیابی کی شاہراہ پر پہلا قدم رکھ دیا ہے۔

کامیابی اس کے بھی ایسے ہی قدم چومے گی، جس طرح چینی اور کورین اقوام کے چومے ہیں۔امریکہ نے وباء سے نمٹنے کے لئے 1000 ارب ڈالر کے پیکیج کا اعلان کر دیا ہے۔دراصل یہ بھی کورونا کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ دیگر اقوام بھی اپنی اپنی صلاحیت اور وسائل کے مطابق اس وباء سے نمٹنے کے لئے مستعد ہو گئی ہیں۔ ہم نے بھی کاوشیں شروع کر دی ہیں، لیکن ابھی تک کسی مربوط اور منظوم منصوبے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ کوئی حکمت عملی،کوئی سٹرٹیجی اس کے سوا سامنے نہیں آئی کہ آمد و رفت اور میل ملاپ کے امکانات کو کم کر دیا جائے۔ آئسولیشن کے ذریعے اس وباء کے پھیلنے کو روکنے کی کاوشیں یقینا درست اور قابلِ ستائش ہیں، لیکن یہ کافی نہیں ہیں۔ابھی تک عوام کو منظم کرنے اور عفریت کے خلاف جنگ میں شامل کرنے کی کوئی حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہلچل اور خوف و ہراس پھیلانے کی بجائے قوم کو آمادہئ پیکار کرنے کی منظم منصوبہ بندی کی جائے۔ فوری اور اسی وقت، ایسا نہ ہو کہ پھر دیر ہو جائے۔

مزید : رائے /کالم