کرونا وائرس اور ہمارا اجتماعی رویہ:

کرونا وائرس اور ہمارا اجتماعی رویہ:
کرونا وائرس اور ہمارا اجتماعی رویہ:

  



اللہ تبارک و تعالٰی کا شکر ھے کہ ھمارے ملک اور اس علاقے کے بڑے چھوٹے زندہ افراد کو 1947 میں آزادی کے نتیجے میں لاکھوں افراد کی شہادت اور بے گھری کے بعد کسی بڑی آفت,وبا یا قتل و غارت گری کا سامنا کرنا نہیں پڑا, البتہ پاک بھارت جنگوں کے بعد دشمن کی طرف سے مسلط کردہ دہشت گردی ھوتی رھی,جس کا مقابلہ ھماری بہادر افواج اور عام لوگوں نے بہت بڑے امتحان سے گزرے بغیر بڑے حوصلے,تدبر اور جرآت سے کیا, لیکن پچھلے ستر سال میں اللہ کے فضل و کرم کے طفیل کسی بڑی آفت سے حفاظت نے ھم زندہ لوگوں کی اکثریت کو ناگہانی وبا یا آفت کے بہیمانہ اثرات اور نتائج سے خاصی حد تک لاپرواہ اور بینیاز کر دیا, چنانچہ اس وقت کے لوگوں کی اکثریت کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئیحکومت کے حفاظتی اقدامات,سکول,کالج,دفاتر,تجارتی مراکز کو بند کرکے زیادہ وقت گھروں میں گزارنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کو مذاق سمجھتے ھوئے سیر سہاٹے کرنے اور پکنک منانے کے انداز میں چھٹیاں گزارنے کا ذریعہ سمجھ رھی ھے, جو یقیناً لمحہ فکریہ ہے،اب سے سوسال پہلے پچھلی صدی کے اوائل میں اس علاقے میں طاعون کی وبا پھیلی تھی,جس کا سامنا کرنے والا اب شاید ھی کوئی شخص زندہ ھو,البتہ جوانی کے دنوں میں میں نے اپنے بزرگوں سے اس موذی وبا سے ہلاکتوں اور تباھیوں کا عبرتناک احوال سنا تھا،

میرے نانا طاعون کی وبا پھیلنے پر بقول انکے, گھبرو جوان تھے, وہ سترہ بھائی تھے جو اس وبا کے بعد صرف چار رہ گئے, نانا کے بڑے بھائی کی آڑھت تھی اور وہ پیاز ذخیرہ کر لیتے تھے, اس وقت کسی نے بتایا کہ پیاز جراثیم جذب یا ختم کر دیتا ھے, چنانچہ تین بھائی تو زیادہ وقت پیاز کے سٹور میں ھی گزارتے اور جیبوں میں پیاز رکھنے کے علاوہ کچا پیاز کھاتے تھے, اموات کا یہ حال تھا کہ ایک بھاء یا عزیز کو دفنا کے آتے تو گھر پہنچنے پر دو مزید میتیں تیار ھوتی تھیں,نوبت یہاں تک پہنچی کہ لوگوں نے میتوں کو نہلائے اور کفنائے بغیر ھی گڑھے کھود کر دفنانا شروع کردیا تھا, ایک بھائی اتنا خوف زدہ ھوا کہ لدھیانہ شہر سے بھاگ گیا،کئی سال بعد واپس آ کر بتایا کہ وہ بمبئی چلا گیا تھا،

اسی طرح میری اہلیہ کے چار چچا تھے, دو اسی طاعون کی نذر ھو گئے, دو گھر کیا,شہر چھوڑ کر اپنے آبائی گاؤں میں لوگوں سے الگ تھلگ کھلی جگہ پر رھنے لگے تو بچ گئے،تاریخ میں درج ہے کہ خلیفہ دوم حضرت عمرِفاروق رض کے عہد میں یہی وبا پھیلی تو آپ نے چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا موقوف کر دیا تھا۔

اب بھی ہمیں دنیا کے مختلف علاقوں میں ہزاروں سال پہلے کے بڑے اور آباد شہروں کے جو بیآباد آثار نظر آتے ھیں, ان میں زیادہ تر شہر ایسی وباؤں کی وجہ سے ھی بیآباد ھوئے, ورنہ ہنستے بستے گھروں اور شہروں کو کون چھوڑتا ہے،ہم سب کو اللہ تعالٰی کے حضور اس موذی وبا سے محفوظ رھنے کی دعا بھی کرنی چاھئیے,اور اسکے ساتھ ساتھ اس عذاب سے بچنے کیلئے تمام احتیاطی تدابیر سنجیدگی سے اختیار کرنی چاھئیں, اب تو آبادی بھی اتنی زیادہ گھنی,اور وسائل اتنے مہنگے ھیں کہ چھپ کر رھنے کی کوئی کھلی،صحت افزا جگہ اور زندہ رھنے کیلئے سستی اشیاء بھی خواب و خیال ھوتی جا رھی ھیں, اوپر سے ھمارے زیادہ تر تجارتی احباب اور طبقے اِلا ماشااللہ, اتنے بیحِس,لالچی اور خودغرض ھو چکے ھیں، کہ اِس وقت اس وبا سے بچنے یا محفوظ رھنے کی ہر چیز,دوا اور سہولت کو ذخیرہ کرکے زیادہ منافع کمانے کی فکر میں غلطاں ھیں, اور یہ بھول گئے ھیں کہ وہ اور اْن کے اہل و عیال بھی اسی ماحول اور معاشرے میں رہ رھے ھیں, جنہیں خود بھی اس موذی وبا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ھے, اگر انکی یا انکے عزیزوں کی اموات ھونے لگیں تو انکی ذخیرہ کردہ ادویات,اشیاء اور حفاظتی چیزیں انکی قبروں میں انہیں کیا فائدہ پہنچا سکیں گی, خدانخواستہ،اللہ پاک ہم سب کو اس موذی وبا سے محفوظ رکھے اور اس سے بچنے کیلئے ھمدردی,محبت,اپنائیت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ نبردآزما ھونے کی توفیق،ہمت اور اتفاق نصیب کرے

مزید : رائے /کالم