مقبوضہ کشمیر پر مکمل، تسلط مودی سرکار وادی میں 37مرکزی قوانین کے نفاذ کا حکم

مقبوضہ کشمیر پر مکمل، تسلط مودی سرکار وادی میں 37مرکزی قوانین کے نفاذ کا حکم

  



نئی دہلی(آئی این پی)بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر پر مکمل قبضے کے سلسلے میں مودی حکومت نے علاقے میں 37مرکزی قوانین کے نفاذ کا حکم دیدیا۔ وزارت داخلہ امور کے جاری کردہ حکم کو بھارت کے گزٹ میں شامل کیا گیا ہے جس میں تمام 37مرکزی قوانین کا تذکرہ کیا گیا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مرکزی کابینہ کی منظوری کے بعد جاری ہونیوالے اس حکم کے ذریعہ جموں و کشمیر میں کنکر نٹ لسٹ میں 37مرکزی قوانین کو نافذ کرنے کی اجازت ہوگی۔اس نئے آرڈر کو جموں وکشمیر تنظیم نو (مرکزی قوانین کی موافقت)آرڈر، 2020ء کہا جائیگا۔5اگست 2019کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد یہ دفعات جموں و کشمیر کے وسطی خطہ جموں و کشمیر میں فوری طور پر عمل میں آئیں گی۔مذکورہ 37ہندوستانی قوانین میں سے کچھ میں آل انڈیا سروسز ایکٹ، مردم شماری ایکٹ، سنٹرل گڈز اینڈ سروسز ٹیکس ایکٹ، انکم ٹیکس ایکٹ، انوسلیسی اور دیوالیہ پن ایکٹ جیسے اہم ایکٹ شامل ہیں، جو پہلے جموں و کشمیر پر لاگو نہیں تھے، لیکن اب ہوں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں ان قوانین میں ترمیم لائی جائیگی۔ایڈوکیٹس ایکٹ، 1961 (1961- 25)۔ آل انڈیا سروسز ایکٹ، 1951 (1951 -61) قدیم یادگاریں اور آثار قدیمہ کی سائٹیں ایکٹ 1958 (1958- 24)ثالثی اور مفاہمت کا ایکٹ، 1996 (1996 - 26)مردم شماری ایکٹ، 1948 (1948 - 37) مرکزی سامان اور خدمات ٹیکس ایکٹ، 2017 (2017 - 12) سینماٹوگراف ایکٹ، 1952 (1952 - 37)ضابطہ اخلاق، 1908 (1908 - 5) ضابطہ فوجداری ضابطہ، 1973 (1974 - 2) شماریات کا مجموعہ، 2008 (2007 - 07) کمیشن آف انکوائری ایکٹ، 1952 (1952 - 60) کورٹ فیس ایکٹ، 1870 (1870 - 7)دانتوں کا ایکٹ، 1948 (1948 - 16)۔

مقبوضہ کشمیر

مزید : صفحہ اول