کراچی میں کرونا سے پہلی ہلاکت، سندھ کے عوام کو 3روز تک گھروں میں رہنے کی ہدایت، پاک افغان سرحد فوری کھولنے کا حکم، لاک ڈاؤن کے حالات ہیں نہ اس کے لئے وسائل، صورتحال کا روزانہ کی بنیاد پر جائز لیں گے، عمران بلو چستان میں 21 روز کیلئے جزوی لاک ڈاؤن

کراچی میں کرونا سے پہلی ہلاکت، سندھ کے عوام کو 3روز تک گھروں میں رہنے کی ...

  



کراچی، اسلام آباد، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) کرونا وائرس کے باعث صوبہ سندھ میں بھی ایک مریض انتقال کرگیا اور متاثرہ مر یضو ں کی تعداد 238 ہے۔ملک بھر میں مجموعی طور پر اب تک 3 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے عوام سے آئندہ 3 روز تک گھروں میں رہنے کی اپیل کردی۔ و ز یراعلیٰ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ آئندہ تین دن تک سب مکمل طور پر آئسولیشن میں جائیں۔انہوں نے کہا کہ آپ کا گھروں میں رہناخود آپ کیلئے اور ہم سب کے لیے ضروری ہے۔ دوسری جانب صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے کراچی میں اتوار سے کرفیو کے نفاذ کی خبروں کو افوا قرار دے دیا۔سعید غنی کا کہنا تھا سوشل میڈیا پر کراچی میں کرفیو کی خبریں غلط ہیں، ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا مگر عوام سے صرف گھروں پر رہنے کی اپیل ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام ہفتہ، اتوار اور یوم پاکستان کی عام تعطیل پر گھروں پر رہیں اور اِن تعطیلات میں گھروں سے نکلنے سے باز رہیں۔وزیر صحت سندھ نے کراچی میں کرونا سے پہلی ہلاکت کی تصدیق کر دی عذرا پیچوہو کا کہنا تھا 77 سالہ شخص کو کل نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، مریض کو دوسری بیماری بھی تھی، کرونا کے باعث ہلاکت ہوئی، ہم لوگوں تک پہنچ رہے ہیں اس لئے سندھ میں زیادہ کیسز نظر آ رہے ہیں، سندھ نے سب سے زیادہ کیسز کی تشخیص کی، جیسے ہی اطلاع ملتی ہے ہم ٹیسٹنگ کرتے ہیں۔۔پنجاب میں بھی کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 78 ہوگئی جس میں 45 نئے کیس شامل ہیں۔ خیبرپختونخوا میں 23 اور بلوچستان میں تعداد 81 ہوگئی۔ گلگت بلتستان میں 12 اور آزاد کشمیر میں بھی ایک کیس رپورٹ ہوا۔ شہر اقتدار میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 7 ہے دوسری طرف بلوچستان حکومت نے کرونا وباء سے نمٹنے کیلئے21 دن تک جزوی لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے،تمام بڑے شاپنگ مالز،مارکیٹیں 3 ہفتے کیلئے بند رہیں گی،اس ضمن میں نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق بین الصوبائی،صوبائی،انٹرسٹی پبلک ٹرانسپورٹ بھی 3 ہفتے کیلئے بند رہے گی۔شاہ محمود قریشی نے کہا ہے ملتان انڈسٹریل اسٹیٹ میں سب سے بڑا قرنطینہ قائم کر دیا گیا جو 3 ہزار کمروں پر مشتمل ہے، ایران سے لوٹنے والے 1247 زائرین کو قرنطینہ منتقل کر دیا گیا جنہیں الگ الگ کمروں میں رکھا گیا ہے، ہر کمرے میں، ہر زائر کو الگ چارپائی، بستر، چپل، صابن اور دیگر اشیاء دستیاب ہونگیکرونا وائرس کے باعث تشویش ناک ہوتی صورتحال میں مزید تین یورپی ممالک نے پاکستان میں ویزہ آپریشنز معطل کر دیئے۔ پاکستان میں سوئٹزر لینڈ، سویڈن اور نیدرلینڈز کے سفارت خانوں نے ویزہ ا?پریشنز عارضی طور پر معطل کر دیئے، تینوں ممالک کے پاکستان میں موجود سفارتخانوں اور قونصل خانوں نے پاکستانی شہریوں سے ہر قسم کی ویزہ درخواستیں وصول کرنا بند کردی ہیں۔ویزہ درخواستیں جمع کرانے کیلئے پہلے سے لی گئی تمام اپوائنٹ منٹس منسوخ کر دی گئی ہیں دوسری طرفحکومت پاکستان کی جانب سے چین کے شہر ووہان میں موجود پاکستانی طلبہ کو کھانے پینے کا سامان چین پہنچ گیا۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے سامان کی ترسیل کے انتظامات کئے، وزارت سمندر پار پاکستانیز کی جانب سے بھجوایا گیا سامان چین کے شہر ووہان میں مقیم طلبہ میں تقسیم کیا جائے گا۔وزیراعظم کی معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ٹویٹ میں بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر اوورسیز پاکستانز فاؤنڈیشن نے این ڈی ایم اے کے اشتراک سے چین میں پاکستانی طلبہ کے لیے خوراک پہنچائی، پاکستان اور چین دوستی کے لازوال رشتے میں بندھے ہوئے ہیں، پاکستانی طلباء کا اپنے شہریوں کی طرح بھرپور خیال رکھنے پر چین کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔دینہ میں کورونا وائرس کا پہلا مریض سامنے آگیا، بہن اور بیٹے سمیت ہسپتال منتقل کر دیا گیا،85سالہ متاثرہ شخص اپنے بیٹے کے ہمراہ تین ہفتے قبل برطانیہ سے پاکستان آیا تھا،مریض کے گھر کو سیل کر دیا گیا اور ٹی ایم اے دینہ کی جانب سے گھر کے باہر ہنگامی طور پر صفائی کی گئیہیلتھ سرٹیفکیٹ نہ ہونے پر تین سو پاکستانی اٹلی میں پھنس گئے۔ مسافروں نے وطن واپسی کے لیے فوری طور پر حکومت سے اقدامات کا مطالبہ کر دیا۔تفصیل کے مطابق کرونا وائرس کا ہیلتھ سرٹیفکیٹ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے درد سر بن گیا۔ اٹلی میں 300 پاکستانیوں کو غیر ملکی ائیر لائن نے آف لوڈ کر دیا۔روم ائیرپورٹ پر بے بسی کی تصویر بنے پاکستانی پریشانی میں مبتلا ہو گئے۔ ان حالات میں کدھر جائیں۔سمندر پار پاکستانیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان جلد از جلد انہیں صورتحال کے پیش نظر وطن واپس لانے کیلئے اقدامات کرے۔

سندھ ہلاکت

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان چمن بارڈر فوری طور پر کھولنے کی ہدایت کر دی ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرونا وائرس جیسی عالمی وبا پھوٹنے کے باوجود ہم اپنے افغان بھائیوں اور بہنوں کی مدد کیلئے پوری طرح یکسو اور پرعزم ہیں۔ افغان عوام کی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہے کہ چمن سپن بولدک سرحد کھولنے اور ٹرکوں کو افغانستان میں داخلے کی اجازت دینے کی ہدایات دی ہے، بحرانی کیفیت میں ہم پوری ثابت قدمی سے افغانستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کورونا وائرس کی روک تھام کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعلی جام کمال خان نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی،وزیراعلی بلوچستان نے کورونا وائرس سے موثر طور پر نمٹنے اور اس کے پھیلا کو روکنے کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبوں کو ٹیکنیکل گائیڈلائن کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا جبکہ وزیراعظم عمران خان نے تفتان کے راستے پاکستان میں داخل ہونے والے ملک بھر کے زائرین کو طبی و دیگر سہولتوں کی فراہمی میں بلوچستان حکومت کے اقدامات کو سراہا وزیراعلی بلوچستان کی جانب سے کورونا وائرس سے متعلق تفتان کے انتظامات پر تنقید کو غیر سنجیدہ رویہ قرار دیا گیا جس سے اتفاق کرتے ہوئے وزیراعظم نے قومی مفاد میں اتحاد واتفاق اور مشترکہ موقف و لائحہ عمل کی ضرورت پر زور دیا،وزیراعلی نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ صوبائی محکمہ صحت نے مشینوں کے زریعہ کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی استعداد میں اضافہ کیا ہے اقدامات کے لئے چیف سیکریٹری کی سربراہی میں کور کمیٹی اور انکی سربراہی میں ایپکس کمیٹی قائم کی گئی ہے لاک ڈان کی صورت میں روزانہ اجرت والے محنت کشوں کو معاونتی پیکیج کی فراہمی کیلئے محکمہ محنت ڈیٹا تیار کر رہا ہے اور صوبائی حکومت کورونا وائرس سے موثر طور پر نمٹنے کے لئے تما م ممکنہ اقدامات اور وسائل بروئے کار لا رہی ہے وزیراعظم نے حکومت بلوچستان کی کوششوں کی تعریف کی۔بعد ازاں سینیئر صحافیون اور اینکر پرسنز سے ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کرونا وائرس سے بچنے کے لیے سماجی فاصلہ ضروری ہے،عوام احتیاط کریں کورونا وائرس کے پیش نظر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کے 2 ہفتے کے بعد کیا صورتحال ہوگی، چین کے اقدامات دیکھتے ہوئے ہم بھی فیصلے کریں گے، عوام سے کچھ نہیں چھپائیں گے، صورت حال کو روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کررہے ہیں، این ڈی ایم اے کی جانب سے ہنگامی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، بریکنگ نیوز کے بجائے عوام کو صرف حقائق بتائے جائیں، لاک ڈاؤن کریں گے تو دیہاڑی دار طبقے کو نقصان ہوگا، ہمارے پاس مکمل لاک ڈاؤن کے لیے وسائل بھی نہیں ہیں، کوشش کریں گے کرونا کے معاشی اثرات سے بھی نمٹیں، مالی امدادی پیکیج کا اعلان منگل کو کریں گے،چین کو مبارک باد دیتا ہوں کہ انہوں نے وائرس پر کنٹرول کرلیا، پاکستان میں ایک بھی کیس چین سے نہیں آیا، ایران پر سے اقتصادی پابندیاں ہٹائی جائیں، پاکستان میں وبا پھیلی تو 4سے 5فیصد کوانتہائی نگہداشت کی ضرورت پڑیگی۔ چار سے 5 فیصدمریضوں کو انتہائی نگہداشت کی سہولت فراہم کرنامشکل ہو گا انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی صورت حال کی یومیہ بنیاد پر جائزہ لیا جائے گا، تمام وفاقی وزرا ہر وقت اسلام آباد میں میسر ہوں گے، کوئی چھٹی نہیں کریگا،وزیراعظم نے کہا کہ ہفتے میں دوبار عوام کو کورونا وائرس صورت حال سے آگاہ کروں گا۔ چین کے اقدامات دیکھتے ہوئے ہم بھی فیصلے کریں گے، عوام سے کچھ نہیں چھپائیں گے، صورت حال کو روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کررہے ہیں پاکستان میں کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں، دیگر ممالک کے تجربات دیکھ لیں انہوں نے بھی آئسولیشن کا راستہ اپنایا ہے، ایک دوسرے سے فاصلے کو اپنا کر ہی دنیا میں وائرس پر کنٹرول کیا جارہا ہے، کئی ممالک میں لاک ڈاؤن ہے، لوگوں کو گھروں تک محدود کردیا گیا ہے، این ڈی ایم اے کی جانب سے ہنگامی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، بیرون ممالک سے ضروری سامان منگوایا جارہا ہے، دوسرا خطرہ خوف ہے یعنی عوام میں خوف سے بہت نقصان ہوگا، خوف سے نمٹنے کے لیے میڈیا نے اہم کردار ادا کرنا ہے، بریکنگ نیوز کے بجائے عوام کو صرف حقائق بتائے جائیں، پیمرا اس حوالے سے چینلز کو کوڈ آف کنڈکٹ دے گا، چینل مالکان کو درخواست کروں گا خوف کی فضا پیدا نہ کی جائے،وزیراعظم نے کہا کہ افرا تفری کا ماحول بنا تو پھر بہت نقصان ہوگا، خدا نخواستہ ایسی صورتحال نہیں کہ لوگ ذخیرہ اندوزی شروع کردیں، ہم نے افواہوں کو ختم کرنا ہے مل کر کرونا وائرس سے نمٹنا ہے، چین میں بھی قوم نے مل کر کرونا وائرس کا پھیلا ؤروکا ہے،انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے 2مختلف اسٹریٹیجی سامنے آرہی ہیں، ایک اسٹریٹیجی کہ کراچی میں ایک قسم کا لاک ڈاؤن کیا گیا ہے، جس طرح کراچی میں مکمل لاک ڈاؤن کا سوچا گیا ہے ہم اس سے پیچھے ہیں، ہم نے کرکٹ میچز بند کردئیے، اسکول بند ہیں، شاپنگ مالز بند کردئیے، جہاں لوگ زیادہ جمع ہوتے تھے ان جگہوں کو ہم نے بند کردیا ہے،وزیراعظم نے کہا کہ مکمل لاک ڈاؤن کریں گے تو دیہاڑی دار طبقے کو نقصان ہوگا، ہمارے پاس مکمل لاک ڈاؤن کے لیے وسائل بھی نہیں ہیں، کوشش کریں گے کرونا کے معاشی اثرات سے بھی نمٹیں، مالی امدادی پیکیج کا اعلان منگل کو کریں گے، انہوں نے کہا کہ جنوری کے بعد چین کی حکومت سے مسلسل رابطے میں رہے، چین کے تجربات سے بھی سیکھ رہے ہیں، چین نے کورونا وائرس کے خلاف بہتر اقدامات کیے، وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ چین میں کرونا وائرس پھیلا تو پاکستانی طلبا کی واپسی کے لیے دباؤ آیا، چین نے ہمارے طلبا کو اپنے بچوں کی طرح رکھنے کی گارنٹی دی،چین نے ہمیں کہا کہ پاکستانی طلبا کو نہ لے جائیں جس پر عمل کیا، چین کو مبارک باد دیتا ہوں کہ انہوں نے وائرس پر کنٹرول کرلیا، پاکستان میں ایک بھی کیس چین سے نہیں آیا،کرونا وائرس ایک عالمی وبا ہے ایسے میں ایران پر پابندیاں ختم ہونی چاہئیں، ایران کرونا وائرس سے نمٹنے کی کوششیں کررہا ہے وزیر اعظم نے کہا کہ تفتان سے متعلق بلیم گیم چل پڑی ہے جو افسوس ناک ہے وزیراعظم نے ایران پر سے اقتصادی پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں طبی سہولیات کے فقدان کے باعث کورونا کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا کی روک تھام کے لیے زیادہ سے زیادہ آگاہی مہم چلائی جائے گی۔ کورونا وائرس سے بچنے کے لیے سماجی فاصلہ ضروری ہے۔ پاکستان میں وبا پھیلی تو 4 سے 5 فیصد کوانتہائی نگہداشت کی ضرورت پڑیگی۔ چار سے 5 فیصدمریضوں کو انتہائی نگہداشت کی سہولت فراہم کرنامشکل ہو گا۔

عمران خان

ریاض، واشنگٹن، لندن،نئی دہلی، کابل (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) کروناکے جان لیوا وائرس نے 182 ممالک میں تباہی مچادی۔ دنیا بھر میں کرونا وائرس سے مرنیوالوں کی تعداد گیارہ ہزار ایک سوسے زائد ہو گئی ہے۔ ایک دن کے دوران اٹلی میں 627 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔تفصیلات کے مطابق یورپ میں وائرس سے چار ہزار 932 جبکہ ایشیا میں 3431 اموات سامنے آئیں۔ چین میں کرونا کی شدت میں کمی آنے کے بعدایک دن میں تین ہلاکتیں درج ہوئیں جبکہ چوبیس گھنٹوں میں پورے ملک سے انتالیس مریض سا منے آئے۔سپین میں 171 جبکہ ایران میں ایک سو انچاس اموت رپورٹ ہوئیں۔ بلجیم میں 16، امریکا میں 10، جنوبی کوریا اور ڈنمارک میں 3،3 ہلاکتیں سامنے آئیں، انڈونیشیا میں 24 گھنٹوں کے دوران 7 ہلاکتیں، ہنگری اور پیرو میں 2، 2 جبکہ پرتگال، پولینڈ، فلپائن اور بھارت، پاکستان میں 1، 1 ہلاکتیں درج کی گئیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک دن کے دوران اٹلی میں 627 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔ اٹلی میں مجموعی طور پر 4 ہزار 32 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ 24 گھنٹوں کے دوران 5ہزار986کیسز درج ہوئے جبکہ متاثرہ افرادکی کل تعداد47ہزار21ہوگئی۔اْدھر اٹلی میں کرونا وائرس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔ اٹلی میں کرونا سے مرنے والے لوگوں کی لاشیں ٹرکوں پرلاد کر آبادی سے دور لے جائے جاتی ہیں اور نہیں آگ لگا کر راکھ کردیا جاتا ہے۔اٹلی میں لوگوں نے اپنے گھروں کی کھڑکیوں سے ایک ہولناک منظر دیکھا۔ فوج کرونا سے ہلاک ہونے والے 60 افراد کی لاشیں فوجی ٹرکوں میں ڈال کر انہیں نذرآتش کرنے کے لیے لے جا رہی تھی۔سوشل میڈیا پر اٹلی میں فوجی گاڑیوں کے ایک قافلے کو ایک شاہراہ عام سے گزرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ مناظر شمالی اٹلی کے کرونا سے متاثرہ علاقے لومبیارڈیا کے شہر برگامو کے ہیں۔ برگامو کر ونا سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک قبرستان میں کرونا سے ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو آگ میں جلاتے دیکھا۔ جمعرات کو ایک شخص نے بتایا کہ گذشتہ روز ایک قبرستان میں 31 اور دوسرے میں 10 لاشیں نذرآتش کی گئیں۔دریں اثناء اْردن نے ہفتے کی صبح سے غیرمعینہ مدت کیلئے ملک میں کرفیو لگانے کا اعلان کر دیا ہے، کرفیوکا فیصلہ عوام کی جانب سے ہدایات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے کیا گیا۔حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ شہریوں کو ہدایات دی گئیں تھی کہ صرف شدید ضرورت کے تحت گھرسے باہر نکلیں، اردن میں اب تک کرونا کے 69کیسزسامنے آچکے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق برطانیہ میں کرونا وائرس کے کیسز سے نمٹنے کے لیے ہزاروں ریٹائرڈ ڈاکٹروں اور نرسوں کو واپس بلایا جا رہا ہے۔ 65 ہزار کے قریب سابق ڈاکٹروں اور نرسوں کو واپس ڈیوٹی پر آنے کا کہا جا رہا ہے۔برطانیہ میں ہر دن کورونا وائرس کے متعدد نئے کیسز کی تصدیق ہو رہی ہے۔لندن کے میئر صادق خان کے مطابق حال ہی میں ریٹائر ہونے والے پولیس افسروں کو بھی طلب کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، میڈیکل اور نرسنگ کے فائنل ایئر کے طلبہ کو بھی عارضی طور پر کام دیا جا رہا ہے تاکہ موجودہ طبی عملے پر کم بوجھ پڑے۔تاہم زیادہ زور برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے سابق ملازمین پر دیا جا رہا ہے اور خاص طور پر وہ جنہوں نے گزشتہ تین سال میں کام کو خیرباد کہا ہے۔سعودی حکام نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات کے تحت مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے اندرونی اور بیرونی حصے میں پنجگانہ نماز اور نماز جمعہ کی ادائیگی پر مکمل پابندی عائد کردی۔عرب خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق سعودی حکام نے اس سے قبل مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے سواملک بھر کی مسا جد میں باجماعت نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔تاہم اب نئے اقدامات کے تحت مسجد نبویؐ اور مسجد الحرام کے اندر اور باہر پنجگانہ نمازوں اور نماز جمعہ پر مکمل پابندی عائد کر د ی گئی ہے اور نمازیوں کو مساجد میں داخلے سے بھی روک دیا گیا ہے۔مسجد نبوی کی انتظامیہ کی جانب سے مسجد کے دروازے بند کردیے گئے ہیں اور صرف چند متعلقہ حکام کو مسجد کے کمپاؤنڈ تک جانے کی اجازت ہوگی۔مسجد الحرام کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ سیکیورٹی اور صحت کے حکام نے مسجد الحرام کے بیرونی حصے میں موجود اسکوائر میں بھی نمازیوں کی مو جودگی پر پابندی عائد کی ہے جب کہ مسجد نبویمیں بھی کل سے اس پابندی کا اطلاق ہوگا۔

کرونا ہلاکتیں

مزید : صفحہ اول