حکومت کا اپوزیشن سے رابطہ، کرونا وائرس سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کیلئے نام مانگ لئے

  حکومت کا اپوزیشن سے رابطہ، کرونا وائرس سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کیلئے نام ...

  



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) حکومت کرونا وائرس سے لڑنے کی خاطرملکی سیاسی قیادت کو یکجا کرنے کیلئے متحرک ہوگئی،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا پیپلز پارٹی،مسلم لیگ(ن) اورجمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطہ، کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے پارلیمانی کمیٹی کیلئے نام مانگ لئے۔تفصیلات کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بلاول بھٹو سے گفتگو میں کرونا وائرس کے خلاف مل کر لڑنے کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مل کر کرونا وائرس کا مقابلہ کرنا ہے اور پوری قوم کو یہ پیغام دینا ہے کہ پوری قوم متحد ہے اور ملک کی تمام سیاسی قیادت مشکل کی اس گھڑی میں ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے عوام کی صحت متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کو معاشی طور پر چیلنج درپیش آسکتے ہیں جس سے نمٹنے اور بروقت اقدامات کرنے کیلئے پارلیمانی کمیٹی قائم کی جا رہی ہے۔ اسد قیصر نے چیئرمین پیپلز پارٹی سے رابطہ کرکے عالمی وبا کرونا وائرس کیخلاف حکومت کیساتھ مل کر کام کرنے اور سیاست نہ کرنے کے پیغام کو حوصلہ افزا قرار دیا۔ٹیلیفونک گفتگو میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے معاملے پر چیئرمین پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لیا۔ انہوں نے کہ اپوزیشن جماعتوں کا قومی معاملات پر متحد ہونا ضروری ہے۔ سپیکر کے مطالبے پر بلاول بھٹو زرداری نے کمیٹی کیلئے نام بھجوانے کی یقین دہانی کرائی۔سپیکر قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے قومی اتحاد کی ضرورت ہے۔ پارلیمانی کمیٹی اپنی سفارشات حکومت کو دینے کے علاوہ کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کا جائزہ بھی لے گی۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف اور رانا تنویر سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ سپیکر نے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں سے کمیٹی کیلئے نام مانگے ہیں۔ اسد قیصرنے جمعیت علما اسلام (ف)کے رہنما مولانا اسعد محمود سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیاجس میں سپیکر نے پارلیمانی کمیٹی کیلئے نام تجویز کرنے کو کہا۔حکومتی ذرائع کے مطابق سپیکر اسد قیصر دیگر پارلیمانی جماعتوں کے راہنماؤں سے بھی رابطہ کرکے کرونا وائرس سے بچا ؤکیلئے مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنے سے متعلق آگاہ کریں گے۔

حکومت/رابطے

مزید : صفحہ اول