بدگمانی

بدگمانی

  



بسمہ ایک اچھی ملنسار اور ذہین بچی ہے۔کلاس میں اْسکی ہمیشہ اول پوزیشن آتی۔سب ٹیچر ز بھی اْس سے بہت پیار کرتی ہیں،وہ ہنس مکھ اور دوسروں کے کام آتی جس وجہ سے لڑکیاں اْس سے پیار کرتیں مگر اْسکی ایک ہم جماعت کرن اْس سے حسد کرتی وہ موقع کی تلاش میں رہتی کہ کسی طرح بسمہ کو سب کی نظروں سے گرادے۔

آخر ایک دن اْسے موقع مل گیا۔ وہ پانی پینے کیلئے الیکٹرک کولر کے پا س کھڑی تھی،اس نے بسمہ کو پرنسپل صاحبہ کی ٹیبل سے پین اْٹھاتے اور کلاس روم کی طرف بڑھتے دیکھا۔کرن کے دل میں لڈو پھوٹنے لگے کہ اب وہ بسمہ کو بدنام کرے گی،اْس نے جاتے ہی اپنی دوستوں کو بتایا کہ بسمہ نے پرنسپل صاحبہ کے آفس سے پین چرایا ہے۔کچھ لڑکیاں تو ماننے کو تیار ہی نہ تھیں مگر جب کرن نے قسم کھا کر کہا تو سب کو یقین آگیا۔

اب کلاس میں کْھسر پْھسر ہونے لگی،جب بسمہ قریب آتی تو سب لڑکیاں چْپ ہو جاتیں۔اْس نے محسوس کیا کہ کوئی اْسکے ساتھ سیدھے منہ بات نہیں کررہا۔ اب کرن بہت خوش تھی،لڑکیاں بسمہ سے بات کرنا پسند نہیں کرتیں۔سب مجھ سے گپ شپ کرتی ہیں۔ایک دن بسمہ نے بریک کے وقت کرن اور لڑکیوں سے کہا کہ اْسکی سالگرہ ہے تم سب میرے گھر آنا۔کرن نے منہ بگاڑ کر کہا ہمارے پاس فضول ٹائم نہیں۔باقی لڑکیوں نے بھی ہاں میں ہاں ملائی اور بہانہ کیا کہ امتحان قریب ہیں۔

بسمہ مایوس ہو کر کلاس روم کی طرف بڑھی تو پیچھے سے لڑکیوں کے قہقہے سنائی دیئے۔وہ کلاس روم میں آکر رونے لگی،بریک کے بعد لڑکیاں آئیں مگر کسی نے پوچھنا بھی گوارہ نہ کیا کہ وہ کیوں رو رہی ہے؟اتنی دیر میں مس سحرش پیر یڈ لینے کو آگئیں۔بسمہ کو روتے دیکھ کر اْس سے رونے کا سبب پوچھا تو اْس نے کہا:”مس!پتہ نہیں کیا بات ہے،میری کلاس فیلوز کا رویہ کچھ بدلا بدلا لگ رہا ہے،کوئی مجھ سے بات نہیں کررہا۔میں نے سالگرہ کی دعوت دی تو سب نے صاف انکار کر دیا۔اب وہ میرا مذاق اڑارہی ہیں۔

مس سحرش نے سب بچوں سے کہا مجھے باتیں سن کر بہت افسوس ہوا۔بسمہ ایک اچھی اور ذہین بچی ہے کبھی کسی کو شکایت نہیں ہوئی اور اگر کسی کو ہے تو وہ مجھے بتائے۔اس طرح کا رویہ بہت غلط ہے”بتاؤ کیا مسئلہ ہے؟“”مس! بسمہ چورنی ہے،اْ س نے پرنسپل صاحبہ کے آفس سے پین چرایا ہے۔

میں نے خود دیکھا ہے“؛کرن نے اْٹھ کر کہا۔”بسمہ اور چوری؟نا ممکن،یہ ہو ہی نہیں سکتا“؛مس سحرش نے کہا۔ ”مس جی! آپ یقین نہیں کریں گی میں نے اسے خود پین چراتے دیکھا ہے“؛کرن بضد تھی۔”اوہ اچھا اب سمجھی،کیا پین کا کلر گرین تھا؟“؛مس سحرش نے پوچھا ”میں کچھ دور تھی لگتا تو گرین ہی تھا مگریوں چوری کرنا بْری بات ہے“۔

اْف خدایا! مس سحرش نے اپنے بیگ سے پین نکالا اور ٹیبل پر رکھ دیا،یہ پین ہے میں پرنسپل صاحبہ کی ٹیبل پر بھول آئی تھی،میں نے ہی بسمہ کو بھیجا تھا پرنسپل صاحبہ راؤنڈ پر تھیں مجھے آکر بسمہ نے بتایا تھا کہ اتنی سی بات کا بتنگڑ بنا دیا۔دیکھو کرن تمہارری اِس بدگمانی نے پوری کلاس کو ہیجان میں مبتلا کر دیا اور بسمہ نے یہ دن کیسے گزارے،یہ سب تم نے بسمہ سے حسد کی وجہ سے کیا ورنہ تم خود اْس سے پوچھ سکتی تھی“۔اب کرن کو احساس ہوا کہ اْسکی غلطی تھی،اْ س نے حسد کی وجہ سے بسمہ کو پریشان کیا تھا۔

وہ فوراََ اٹھی اور بسمہ سے معافی مانگی۔بسمہ نے اْسے معاف کردیا پھر اپنی سالگرہ میں آنے کی دعوت دی۔سب دوستوں نے دعوت قبول کر لی،سب کے چہروں پر رونق آگئی،مس سحرش بھی بہت خوش ہوئیں اور کہا کہ دیکھو بچو!حسد نہیں کرتے۔ حسد انسان کو ایسے کھاجاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھاجاتی ہے۔

مزید : ایڈیشن 1