آئیے مسکرائیں

آئیے مسکرائیں

  



٭ایک آدمی پٹھان سے بولا

خاں صاحب میں نے کل آپ کو فون کیا آپ نے اْٹھایا کیوں نہیں ……..؟

پٹھان، کیوں اْٹھاتا، یہ جو ہم نے 30 روپے دے کر گانا لگوایا ہے وہ تیرا باپ سنے گا.

٭گرل فرینڈ: " کیا تم ایک ہاتھ سے ڈرائیو کر سکتے ہو؟ "

بوائے فرینڈ: " آف کورس، کیوں نہیں۔ "

گرل فرینڈ: " تو پلیز پھر دوسرے ہاتھ سے اپنی ناک صاف کر لو۔ "

٭فقیر نے آواز لگائی اللہ کے نام پہ کچھ کھانے کو دے دو۔

گھر کے اندر سے ملازم نے جواب دیا بیگم صاحبہ گھر پہ نہیں ہیں۔

فقیر نے کہا میں نے کھانے کو کچھ مانگا ہے بیگم صاحبہ نہیں مانگی۔

٭شوہر: اگر تم مجھے چھوڑ کر میکے گئی تو میں تمہارے بغیر خودکشی کر لوں گا۔

بیوی: تمہاری انہی خوبصورت باتوں کی وجہ سے خود کو روک نہیں پا رہی۔

٭ڈاکٹر: کیا حال ہے؟

مریض: پہلے سے خراب ہے۔

ڈاکٹر: دوائی کھالی تھی؟

مریض: نہیں دوائی تو بھری ہوئی تھی۔

ڈاکٹر: میرا مطلب ہے دوائی پی لی تھی؟

مریض:نہیں جی دوائی تو لال تھی۔

ڈاکٹر: احمق دوائی کو پی لیا تھا؟

مریض: نہیں ڈاکٹر صاحب پیلیا تو مجھے تھا۔

ڈاکٹر: گدھے دوائی کو منہ میں رکھ لیا تھا؟

مریض: نہیں جی آپ نے کہا تھا دوائی کو فریج مین رکھنا احتیاط سے۔

میں ٹھیک ہوجاؤں گا ڈاکٹر صاحب؟

٭تین قیدی اپنے آپ کو جیل کا سب سے پرانا قیدی ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے۔

پہلے قیدی نے کہا: " میں اس وقت یہاں آیا تھا جب ٹرین نئی نئی ایجاد ہوئی تھی۔"

دوسرے قیدی نے کہا: " میں اس وقت یہاں آیا تھا جب لوگ گھوڑوں پر سفر کرتے تھے۔"

تیسرا معصومیت سے بولا: " یہ گھوڑے کیا ہوتے ہیں؟ "

٭ڈاکٹر نے مریض سے کہا۔”میں نے جو تمہیں کھا نے کے لئے کہا تھا وہ تم نے کھایا؟“

مر یض نے جواب دیا۔”کوشش تو بہت کی تھی مگر کا میاب نہ ہو سکا۔

”ڈاکٹر نے جھلا کر کہا۔”کیا بے وقوفی ہے۔ میں نے کہا تھا کہ جو چیزیں تمہارا تین سا لہ بچہ کھاتا ہے،وہی تم کھاؤ۔ تم سے اتنا بھی نہ ہو سکا۔

مریض نے بے بسی سے جواب دیا۔”ہاں ڈاکٹر صاحب! لیکن میرا بچہ تو موم بتی، کوئلہ، مٹی اور جوتے کے فیتے وغیرہ کھاتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1