لاک ڈاؤن کی افواہیں پھیلاکر منافع خور اور ذخیرہ اندوز سرگرم

لاک ڈاؤن کی افواہیں پھیلاکر منافع خور اور ذخیرہ اندوز سرگرم

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) لاک ڈاؤن کی افواہیں پھیلاکر منافع خور، ذخیرہ انواز سرگرم ہوگئے۔ آٹے کی مصنوعی قلت کردی گئی ہے۔ دالیں، چینی اور دیگر اشیائے خورد و نوش کی قیمتو میں من مانا اضافہ کردیا گیا ہے۔ صارفین افواہوں کے سبب راشن اسٹاک کررہے ہیں۔ یوٹیلٹی اسٹورز پر گھی اور تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ کردیا گیا ہے یہ بات کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال نے کرونا وائرس کے سبب مارکیٹ مین اشیائے خورد و نوش کی قلت اور مہنگائی کا جائزہ لیتے ہوئے ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے سبب لوگ خوف میں مبتلا ہیں اور گھروں تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ ذرائع آمدنی کے وسائل میں اضافہ کے بجائے سرکاری محکموں کے ملازمین کی تنخواہ میں کٹوتی کی جارہی ہے جبکہ روز مرہ کمانے والوں کو فکر معاش اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کی فکر لاحق ہوگئی ہے کہ وہ کیسے ان دنوں گزارہ کریں گے۔ حکومت نے ضرور دلاسہ دیا ہے کہ ان کو راشن فراہمی کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کس طرح حکومت ان کو راشن کی فراہمی کا بندوبست کرتی ہے۔کوکب اقبال نے کہا کہ اس کڑے وقت میں جب ملک پر خوف کی فضا چھائی ہوئی ہے منافع خور وقت کا فائدہ اٹھاکر اپنی تجوریاں بھرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ اشیاء خوردونوش میں اضافے کے ساتھ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ماسک اور سینی ٹائیزرز نہ صرف دو نمبر فروخت کیے جارہے ہیں بلکہ صارفین سے کئی گنا زائد پیسے وصول کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوٹیلٹی اسٹورز پر گھی اور خوردنی آئل کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کرکے فوری نئی قیمتوں کا اطلاق کردیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے گھی فی کلو 200روپے سے بڑھ کر 239 اور خوردنی تیل 214سے بڑھ کر 241روپے لیٹر ہوگیا ہے۔ کوکب اقبال نے کہا کہ حکومت اس کڑے وقت میں صارفین کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کرنا چاہئے تھا اس اقدام سے پورے ملک کے صارفین میں نہ صرف بے چینی کی کیفیت بڑھ گئی ہے بلکہ ان کا اعتماد بھی ختم ہوتا جارہا ہے۔ کوکب اقبال نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر گیس اور بجلی کے بلوں میں سبسڈی دی جائے اور بل جمع کرنے کی تاریخ میں کم از کم ایک مہینے کی توسیع کی جائے تاوقتیکہ حالات معمول پر نہ آجائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو غذائی اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے علیحدہ ٹاسک فورس بنائی جائے جس میں صارفین تنظیموں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے۔ کوکب اقبال نے کہا کہ بیورو آف سپلائی کا محکمہ اپنا کردار ادا کرے اور ذخیرہ اندوزوں کی نشان دہی کرے اور حکومت ان کو عبرت ناک سزا دے۔ کوکب اقبال نے کہا کہ صوبائی حکومت سندھ کے احکامات کے مطابق ہوٹل و ریسٹورینٹ کھانا آرڈر پر سپلائی کرسکتے ہیں مگر اطلاعات کے مطابق گلی کوچوں اور مختلف علاقوں میں کھلنے والے ہوٹل و ریسٹورینٹ جو صرف ٹیک اوے آرڈر پر کھانا فراہم کررہے تھے ان کو بھی بند کرادیا گیا ہے جس کی وجہ سے کراچی میں باہر سے آکر رہنے والوں کو دقت کا سامنا ہے۔ آئی جی سندھ پولیس اس بارے میں واضح ہدایت جاری کریں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر