ایمرجنسی سروسز اکیڈمی میں خیبر پختونخوا کے 336 اور بلوچستان کے 144 ریسکیورز کرونا ٹریننگ کورس کی اختتامی تقریب

ایمرجنسی سروسز اکیڈمی میں خیبر پختونخوا کے 336 اور بلوچستان کے 144 ریسکیورز ...

  



لاہور(کرائم رپورٹر)ایمرجنسی سروسز اکیڈمی میں کے پی اور بلوچستان کے ریسکیورز کیلئے کرونا ٹریننگ کورس کی اختتامی تقریب۔ تقریب کا انعقاد نئے کورونا ریسکیو پروٹوکول ڈرل کے ساتھ کیا گیا جس میں باہمی فاصلے، فیس ماسک، دستانے کا استعمال، اوراوورکوٹ پہنے ہوئے ریسکیورز شامل تھے۔ خیبر پختونخوا کے 336 اور بلوچستان کے 144 ریسکیورزنے ٹریننگ میں حصہ لیا۔

کی یہ ٹریننگ سوشل رابطوں سے بچنے کے لئے کھلے میدان میں اورچھوٹے گروپوں میں کی گئی۔

اختتامی تقریب میں ریسکیورزکے اہل خانہ، دوستوں اور باہر سے آنے والے مہمانوں کو اجتماع سے بچنے کے لئے مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ چہرے کے ماسک اور دستانے پہنے ہوئے اور اوورکوٹس میں ملبوس شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر رضوان نے تربیت کامیابی سے مکمل کرنے اور ریسکیو فیملی کا حصہ بننے پر انہیں مبارکباد پیش کی۔ ڈاکٹررضوان نصیر نے مزید کہا کہ پاس آؤٹ ہونے والے ریسکیورزنے اپنے صوبوں میں جاتے ہی کورونا وائرس کی ہنگامی صورتحال کا چیلنج سنبھالنا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس تربیت کے بعد وہ کورونا ہنگامی صورتحال سے پیشہ وارانہ طریقے سے نبردآزما ہونے میں کامیاب ہوجائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ سروس نے اکتوبر 2004 میں ابتداء سے ابتک ہنگامی صورتحال کے شکار 80 لاکھ سے زائد متاثرین کو بچایا ہے۔ ایمرجنسی سروسز اکیڈمی دوسرے صوبوں کو اپنے اپنے صوبوں میں اس زندگی بچانے والی ایمرجنسی سروس کے قیام کیلئے تکنیکی مدد فراہم کررہی ہے۔ اب دوسرے صوبوں کے شہریوں کو بھی ہنگامی خدمات فراہم کی جارہی ہیں۔ مزید برآں ایمرجنسی سروسز اکیڈمی نے پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر، بلوچستان اور امن فاؤنڈیشن کراچی کیلئے 18000سے زائد ریسکیورزکو تربیت دی ہے۔ ایمرجنسی سروسز اکیڈمی پاکستان کے تمام صوبوں اور یہاں تک کہ جنوبی ایشیاء کے ممالک کیلئے امدادی کارکنوں کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے کا ایک پلیٹ فارم بن چکی ہے اوروہ اس سہولت سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔قبل ازیں ریسکیورزنے کورونا ہنگامی صورتحال سے نبردآزما ہونے کی پیشہ وارانہ مہارتوں کا عملی مظاہرہ پیش کرتے ہوئے ڈی جی ریسکیوپنجاب اور انکے ساتھ اعلیٰ افسران کو سکریننگ کے عمل سے گزارا۔مکمل ذاتی حفاظتی آلات میں ملبوس ریسکیورز نے جراثیم کش محلول ہاتھوں پر لگوانے کے بعد چہرہ ڈھانپنے کیلئے ماسک فراہم کئے گئے اور اسکے علاوہ استعمال شدہ ماسک اور ذاتی حفاظتی آلات کومحفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے عمل بارے بھی آگاہ کیا۔ریسکیورز نے کورونا ایمرجنسی سے نبردآزما ہونے سے پہلے اور بعد کی سیفٹی ہدایات کا عملی مظاہرہ کیا جس میں ذاتی حفاظتی لباس کو استعمال کے بعد باقاعدہ طریقے سے ڈسپوز آف کرنا بھی شامل تھا۔ڈاکٹر رضوان نصیر نے اختتامی کلمات میں صوبہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں زندگی بچانے والی ایمرجنسی سروسزمیں توسیع کے لئے ڈاکٹر خطیر ڈی جی ریسکیوکے پی کے اور مسٹر عزیز جمالی ڈی جی میڈیکل ایمرجنسی رسپانس سنٹر بلوچستان کی کاوشوں کو بھی سراہا۔آخر میں کورس کے بہترین ریسکیوکیڈٹس کو پرفارمنس ایوارڈ تقسیم کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ تمام تربیت یافتہ افراد اپنی حکومت کی اس کورونا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے مدد کریں گے انہوں نے مشتبہ کورونامتاثرین کی محفوظ سکریننگ، ہینڈلنگ اور شفٹنگ پر زور دیا۔

مزید : علاقائی