کرونا اور سیاست، صرف احتیاط

کرونا اور سیاست، صرف احتیاط
 کرونا اور سیاست، صرف احتیاط

  



تین روز پہلے ٹورنٹو،کینیڈا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترا تو کرونا کے خوف کے سائے ہر طرف نظر آ رہے تھے مگر کینیڈا امیگریشن کے افسران اور اہلکار کرونا سے بچاو اور احتیاط کیلئے پمفلٹ تقسیم کرتے اس مرض کے خاتمے کیلئے پرعزم دکھائی دیے دوسری طرف ہوائی اڈے پر کوئی ٹیسٹ ہو رہے تھے نہ کوئی افراتفری نظر آئی۔کینیڈا کی حکومت تمام مسافروں اور اپنے شہریوں پر اپنے گھروں اور رہائش گاہوں میں خود تنہائی کی تلقین کرتی نظر آئی۔ہمیں عادت ہے کہ ہم ہر معاملے میں اپنی حکومت اور اداروں پر تنقید کرتے ہیں مگر یقین جانیے ہمارے ملک میں حکومت اور ادارے اس وبا سے بچاو کے لئے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔مجھے بلاول بھٹو بہت اچھے لگے وہ اس نازک وقت میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ضر ورت اس امر کی ہے کہ ہمارے عوام بھی اس وبا کا مقابلہ سنجیدگی سے کریں۔

کرونا وائرس کے خوف سے سیاسی، ثقافتی، سماجی، تعلیمی، صنعتی، تجارتی، اقتصادی سرگرمیاں ماند پڑ چکی ہیں، سیاسی سطح پر ہونے والی محاذ آرائی بھی سست روی کا شکار ہے، مولانا فضل الرحمن کا مارچ میں ہونے والا لانگ مارچ بھی وائرس سے متاثر ہو کر مفلوج و معذور ہوتا دکھائی دے رہا ہے، چودھری شجاعت حسین کی اپوزیشن جماعتوں کے لئے ”مٹی پاؤ“ مہم بھی ساکت و جامد ہے، مارکیٹوں، بازاروں، سڑکوں پر ویرانی کا راج ہے، ہر شہری کے دماغ پر کرونا کا خوف مسلط ہے، وفاقی، صوبائی حکومتیں اگرچہ وائرس سے بچاؤ اور پھیلاؤ روکنے کیلئے ممکنہ حد تک اقدامات کر رہی ہیں مگر کرونا آسیب میں کمی نہیں آ رہی، ڈاکٹروں کے مطابق اس قدرتی آفت سے بچنے کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے، صفائی، ستھرائی، حفظان صحت کے اصولوں پر عملدرآمد اور احتیاط، احتیاط بس احتیاط۔

حکومت متاثرین کے ٹیسٹ، مریضوں کے علاج کے حوالے سے اقدامات تو بروئے کار لا سکتی ہے، پھیلاؤ کو روکنے کے لئے قرنطینہ کا اہتمام کر سکتی ہے، بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی سکریننگ کر سکتی ہے مگر احتیاط اور صفائی شہریوں کا کام ہے یوں ہر شہری پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ خود کو اور دوسروں کو وائرس سے بچانے کیلئے دی گئی حکومتی ہدایات، ڈاکٹروں کی طرف سے تجویز کی گئی حفاظتی تدابیر کو اختیار کر کے اس قدرتی آفت کا مقابلہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرے، ورنہ اس قدرتی آفت پر قابو پانا تنہا حکومت کے بس کی بات نہیں، یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے سیاسی سونامی کو روکنے پر حکومت قدرت نہیں رکھتی ایسے کرونا آزمائش سے نبٹنے کیلئے بھی قوم کے ہر فرد کے تعاون کی ضرورت ہے۔

اللہ پاک کے کرم سے پاکستان میں ابھی صورتحال ابتر نہیں ہے، وبا کنٹرول میں ہے جس کی وجہ سے ملک و قوم کو چین، ایران، اٹلی جیسے بدترین حالات کا سامنا نہیں لیکن اگر قوم کے ہر فرد نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو خدانخواستہ ہمیں بھی زندگی کے ہر شعبہ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لئے میرے پاکستانیو احتیاط، احتیاط، احتیاط کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنانا ہو گا ورنہ خود کو بڑی آزمائش کا مقابلہ کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہو جائیں۔

کرونا آفت نے ملک میں سیاسی افراتفری کے آگے بند باندھ دیا ہے، ورنہ مولانا فضل الرحمن نے مارچ میں اپنی تحریک کے دوسرے مرحلے کا اعلان کرتے، چودھری شجاعت اور پرویز الٰہی کی طرف سے کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کو فوری یقینی بنانے کے مطالبہ کے ساتھ دھمکی دی تھی کہ معاہدہ پر عملدرآمد نہ ہوا تو وہ پردہ نشینوں کے نام منظر عام پر لے آئیں گے، دھمکی کے فوری بعد چودھری شجاعت حرکت میں آئے، نئے کٹے نہ کھولنے اور مل جل کر عوام کے مسائل حل کرنے کی تجویز دی، فون پر مولانا سے رابطہ کیا جس کے جواب میں مولانا نے تحریک کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد بھی اچانک ملتوی کر دیا اور ٹھنڈے ہو کر بیٹھ رہے، پیغام دینے والوں نے شائد مولانا فضل الرحمن کو انتباہ کیا کہ گزشتہ مرتبہ مارچ اور دھرنے کی کھلی اجازت دی گئی تھی مگر اس مرتبہ کسی بھی غیر قانونی اجتماع، ریلی، مارچ، جلسہ پر قانون حرکت میں آئے گا اور کارکن بعد میں پہلے قیادت کو سرکاری مہمان بنایا جائے گا، قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔

اس تنبیہ کے نتیجے میں مولانا فضل الرحمن کا درپردہ غیبی قوت کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ اور حکومت مخالف تحریک کا دوسرا مرحلہ دھرے کا دھرا رہ گیا سیاسی بے چینی پھیلانے کی کوشش کرونا کی آمد سے پہلے وائرس زدہ ہو گئی، سیاسی ہنگامہ آرائی کے اس دور میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کردار انتہائی جاندار ہے اگرچہ ان کی طرف سے حکومت پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے مگر اس کے ساتھ ہی انہوں نے کرونا وائرس کے خلاف آگہی مہم چلانے کا بھی اعلان کیا ہے، امیر جماعت کے مطابق کرونا قدرتی آفت ہے آسمانی عذاب سے نجات کے لئے پوری قوم کو اجتماعی اور انفرادی طور پر توبہ و استغفار اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے، رجوع اللہ کے لئے انہوں نے ملک گیر مہم کے عزم کا اظہار کیا ہے، یہ ایک ذمہ دارانہ رویہ ہے، تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو ان پر آشوب حالات میں سیاسی اختلافات، سرگرمیاں تج کر کرونا وائرس کے خلاف مہم میں شریک ہو کر اپنے حصے کا فرض ادا کرنا قومی فریضہ ہے ایسا نہ کیا گیا تو کسی ناگہانی صورت میں قوم کسی کو بھی معاف نہیں کرے گی۔

طبی ماہرین کے مطابق تاحال کرونا وائرس کے خاتمہ کا علاج دریافت نہیں کیا جا سکا، پھیلاؤ کو روکنے کا واحد راستہ احتیاط ہے اور جب بچاؤ صرف احتیاط سے ممکن ہے تو احتیاط حکومت یا حکمرانوں نے نہیں کرنا یہ شہریوں کا کام ہے۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پر اس حوالے سے اقدامات خود شہریوں نے کرنا ہیں، جیسے اگرحکومت کو کامیابی سے آئینی مدت پوری کرنا اور آئندہ الیکشن میں سرخرو ہونا ہے تو اس لئے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ بھی حکومت کو ہی کرنا ہے، اپوزیشن اگر ملک میں جمہوری نظام کا تسلسل چاہتی ہے تو اس کے لئے کوشش بھی اپوزیشن کو کرنا ہے اپوزیشن اگر تاش کے پتوں کی طرح بکھری رہی اور کسی لائحہ عمل پر متفق نہ ہو سکی تو حکومت آئینی مدت تو پوری کرے گی مگر اس کی کارکردگی شائد بہتر نہ ہو سکے گی۔

آصف زرداری، نوازشریف ڈیل یا ڈھیل کے تحت اطمینان و عافیت میں ہیں، مریم نواز حکمت یا مصلحت کے تحت خاموش ہیں، شہباز شریف بھائی کی گارنٹی دینے کے جرم میں وطن واپس آنے سے گریزاں، بلاول بھٹو مفاہمت کے ساتھ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت بچانے کے لئے سرگرداں، حمزہ شہباز منی لانڈرنگ کے مقدمہ میں سرکاری مہمان ہیں، لے دے کے بچی ہے تحریک انصاف کی قیادت ان کے ساتھ چودھری برادران ہیں جو اب تک عمران خان کا دم بھرتے ہیں اس صورتحال میں کسی انہونی کی توقع خوش گمانی نہیں ہو گی بلکہ کچھ ایسا ہو سکتا ہے جو بہت سے سیاستدانوں کے لئے ناقابل قبول اور ناپسندیدہ ہو گا۔

مزید : رائے /کالم