حکومت کر کیا رہی ہے؟

حکومت کر کیا رہی ہے؟
حکومت کر کیا رہی ہے؟

  



کہا جاتا ہے کہ ہر بیماری کا علاج ہوتا ہے، اور جب کوئی علاج نہ ہو تو موت ہی کو علاج سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے استاد ڈاکٹر عبدالباسط ایڈووکیٹ کہا کرتے ہیں کہ فطرت خاموشی سے اپنا کام دکھاتی ہے اور بڑھاپے میں اس کی رگوں اور شریانوں کو اس قدر سکیڑ دیتی ہے کہ ان میں سے خون کا گزرنا محال ہو جاتا ہے اور انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ مگر ہر بار فطرت اندر سے نہیں، کبھی کبھار باہر سے بھی حملہ آور ہوتی یے، جیسے کہ کرونا وائرس!... جو ایک خفیہ دشمن کی طرح بنی نوع انسان کے تعاقب میں ہے۔ مگر حیرت ہے کہ لوگوں کو کرونا سے زیادہ کاروباری سرگرمیوں کے معدود ہونے کی فکر لاحق ہے حالانکہ رزق کی فراہمی اللہ کا وعدہ ہے اور وہ پتھر کے پیٹ میں پلنے والے کیڑے کو بھی رزق پہنچاتا ہے۔

خوف ہمارا جڑواں بھائی ہوتا ہے جو ہمارے ساتھ جنم لیتا ہے اور ہمارے ساتھ ہی مرتا ہے۔ انسانوں کا میل ملاپ ان کے باہمی خوف اور خدشات سمیت ہوتا ہے اور کسی تیسرے خوف کی صورت نمودار ہو جاتا ہے، ماں باپ کا خوف اولاد کے خوف سے ہٹ کر ہوتا ہے، اولاد جس خوف کا شکار ہوتی ہے والدین اس کا مداواد ڈھونڈتے ڈھونڈتے اپنے خوف بھول جاتے ہیں، اولاد کے خوف ماں باپ کے خوف پر حاوی ہو جاتے ہیں تاآنکہ اولاد اپنے خوف کا خود مقابلہ کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔ فطرت بھی انسان کی حفاظت اسی انداز میں کرتی ہے کیونکہ فطرت میں بھی ترحم کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔ کرونا سے بھی فطرت ہی لڑ رہی ہے، انسان کی فطرت، یہ لڑائی تب تک رہے گی جب تک انسان اپنی فطرت کو نئے تقاضوں میں نہیں ڈھال لیتا، گویا کہ احتیاط ہی علاج ہے، دوا تو بس ایک ڈھکوسلہ ہے، چلا چلا، نہیں چلا تو نہیں چلا!.... بنی نوع انسان نے اسی کا نام ارتقا رکھا ہوا ہے، جتنی زیادہ احتیاط، اتنا زیادہ ارتقا، اللہ اللہ خیر سلہ!

انہونیوں کا خوف ہمارے خوف کو بڑھا دیتا ہے، ہم زندگی بھر انہونیوں کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں اور اگر کرونا کی صورت میں وہ انہونی وقوع پذیر ہونا شروع ہو جائے تو خوف کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جن کو اپنے زور بازو پر ناز ہوتا ہے وہ خوف سے لڑائی کی تدبیریں کرتے ہیں، ان کے لئے خوف کا سامنا کرنے سے بچنا بھی خوف کا سبب بن جاتا ہے اور جن کو کم مائیگی کا احساس دامن گیر ہو وہ خوف کے خوف سے قدرے بے نیاز ہو جاتے ہیں اور توکلت علی اللہ کی تصویر بنے نظر آتے ہیں۔

لوگوں سے پوچھیں کہ کرونا وائرس کے خلاف حکومت جو کچھ کر رہی ہے کیا آپ اس سے مطمئن ہیں تو ان کا پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ حکومت کر کیا رہی ہے؟ حکومت پر عوام کے اعتماد کا فقدان خطرناک ہے مگر لوگ تو اس سے بھی آگے کی بات کرتے ہیں کہ حکومت کو اس کی کیا پرواہ ہے جس کا مطلب ہے کہ لوگ ریاست پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ حکومت کو مسلط کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کو ووٹ دینے والوں کی بات رہنے دیجئے، ان ساون کے اندھوں کو تو ہر طرف ہرا ہرا ہی نظر آئے گا لیکن یہاں تو تذکرہ ان کا ہے جو درمیان کے لوگ ہیں اور جنھیں سیاسی وابستگی کے وائرس سے کچھ خاص لینا دینا نہیں ہوتا۔

حقیقت یہ ہے کہ اب تو جب پی ٹی آئی والوں سے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی اپوزیشن کے ہاتھوں بننے والی درگت کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ سوائے مسکراہٹ کے کوئی اور جواب دینے سے کنی کتراتے ہیں۔ پی ٹی آئی کو اس طرف توجہ دینی چاہئے کیونکہ کرونا وائرس تو چلا جائے گا، کھویا ہوا اعتماد واپس نہیں آئے گا، خاص طور پر جب اسٹیبلشمنٹ بھی مزید بوجھ اٹھانے کے لئے تیار نظر نہیں آرہی ہے۔

مزید : رائے /کالم