غیر استعمال شدہ ترقیاتی فنڈز میں سے سندھ کو 10ملین ڈالر ز دیں گے: گورنر سندھ

غیر استعمال شدہ ترقیاتی فنڈز میں سے سندھ کو 10ملین ڈالر ز دیں گے: گورنر سندھ

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ عالمی بینک کے غیر استعمال شدہ ترقیاتی فنڈز صوبوں کے حوالے کئے جارہے ہیں تاکہ انہیں کورونا وائرس کی حفاظتی تدابیر اور ضروری آلات کی خریداری کے لئے استعمال کیا جاسکے، اس میں سے سب سے زیادہ 10 ملین ڈالر صوبہ سندھ کو دئیے جارہے ہیں جسے صوبائی حکومت اپنی صوابدید پر خرچ کرسکے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کے سربراہ مولانا بشیر فاروقی اور اراکین اسمبلی بھی اس موقع پر موجود تھے۔گورنر سندھ نے کہا کہ آج اراکین اسمبلی کا مشاورتی اجلاس وزیراعظم کی ہدایت پر بلایا تھا تاکہ انہیں متاثرہ افراد کی بحالی کے لئے فعال طریقے سے استعمال کیا جاسکے۔ عمران اسماعیل نے کہا کہ حکومت وقت کا فرض ہے کہ مستحقین کی مدد کرے، ہم طے کیا ہے کہ مستحقین جو قرنطینہ میں ہیں ان کوراشن دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ کوئی بھوکا نہ سوئے۔ انہوں نے کہا کہ گورنرہاس میں کمانڈ اینڈکنٹرول سینٹر اورہیلپ لائن قائم کی ہے جس کا نمبر021 -99204748 ہے جہاں فون کرکے کورونا سے متاثرہ افراد کی مدد اور دیگر سہولیات حاصل کی جاسکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے اورمخیرحضرات کی مدد سے ماسک سینیٹائیزراوردیگراشیا فراہم کریں گے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ دو جگہ قرنطینہ سینٹر بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک لانڈہی اسپتال لیا ہے جس کا حسین لاکھانی فانڈیشن نے اس کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ اس کے علاوہ ایئرپورٹ ہوٹل کو کورنٹائن میں تبدیل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ بھی یہی کام کررہی ہے بس طریقہ کارکافرق ہے جووزیراعلی کررہے ہیں وہ بھی صحیح ہے ہم بھی ٹھیک کررہے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ابھی لاک ڈان کی صورتحال نہیں ہے شہر کولاک ڈان کرنے سے لوگوں پراثرپڑے گا ہم انہیں گھروں تک محدود رہنے کے لئے تو کہہ سکتے لیکن لاک ڈان کی جانب نہیں جاسکتے۔ افغانستان بارڈر کھولنے کے سوال پر گورنر سندھ نے کہا کہ افغانستان بارڈرصرف انسانی ہمدردی اورٹریڈ کے لئے کھولا ہے۔ افغانستان ہمارا برادرملک ہے باقی لوگوں کی آمد پر پابندی برقراررہے گی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے باعث یہ بہت نازک صورتحال ہے۔ ہمیں ابھی اس کی فکر ہے کہ محنت کشوں کے گھروں کے چولہے کیسے جلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ احتیاط ہی کورونا کا علاج ہے، لوگ احتیاط برتیں، اس میں موت کم واقع ہوتی ہیں انہوں نے مزید کہا کہ میری آج صنعتکاروں سے بات ہوئی ہے۔ وزیراعظم منگل کے دن معاشی پیکج کا اعلان کریں گے، تاجروں صنعتکاروں کو پیکج دیا جائے گا اس میں عام افراد کا بھی خیال رکھا جائے گا۔ گورنر سندھ نے مزید کہا کہ انہوں نے وزیراعلی سندھ کو فون کرکے اپنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے کیونکہ یہ ایک قوی مسئلہ ہے جس پر کسی قسم کی سیاست نہیں ہونی چاہیے، ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے تاکہ اس میں جلد ازجلد چھٹکارا حاصل کیا جاسکے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعلی سندھ سے پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کے فیصلہ پر نظر ثانی کے لئے کہیں گے کیونکہ خصوصا فوڈ اور فاما سوئیٹکل انڈسٹریز میں کام کرنے والے محنت کش بھی اس سے متاثر ہوں گے۔ گورنر سندھ نے مزید کہا کہ وہ اپنی ایک ماہ کی تنخواہ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی بھی اپنی ایک ماہ کی تنخواہ کورونا کے مریضوں کی مدد اور بحالی کے لئے دیں گے۔ اس سے قبل گورنر سندھ عمران اسماعیل کی صدارت میں پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کا مشاورتی اجلاس گورنر ہاس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کورونا کی احتیاطی تدابیر،حفاظتی اقدامات و آلات کو یقینی بنانے کی کاوشوں،اس ضمن میں منتخب اراکین کا کردار اور اہمیت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ گورنر سندھ نے اس موقع پر کہا کہ وفاقی حکومت کورونا کے کنٹرول کے لئے بھرپور اقدامات کررہی ہے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ لانڈھی میں 250 بستروں کے اسپتال کو آئسولیشن سینٹر میں تبدیل کیا جارہا ہے جبکہ ائیرپورٹ ہوٹل کو بھی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمینٹ اتھارٹی قرنطینہ سینٹر میں تبدیل کر رہی ہے۔ ان سینٹرز کو دوائیں اور ضروری آلات فراہم کریں گے۔ عمران اسماعیل نے کہا کہ ائیرپورٹ سے مشتبہ مریضوں کو فوری طور پر ائیرپورٹ ہوٹل شفٹ کیا جاسکے گا تاکہ ان کی جلد از جلد بحالی ممکن ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر ہاو س کے ذریعہ متاثرہ افراد کے خاندانوں کو راشن فراہم کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں اور اس ضمن میں سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ اور دیگر اداروں اور مخیر حضرات کے تعاون کا خیر مقدم کی اجائے گا۔ انہوں نے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی پر زور دیا کہ وہ صوبہ بھر میں امدادی کارروائیوں کی نگرانی کریں تاکہ شہریوں کو حفاظتی اشیااور آلات بروقت فراہم کئے جاسکیں۔ گورنر سندھ نے کہا کہ این ڈی ایم اے سے ایک لاکھ ماسک،50 ہزار سینی ٹائزرز آرہے ہیں جنہیں ضرورت کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے گا۔

مزید : صفحہ اول