سرجیکل ماسکس، سینیٹائزرز کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد سے پاکستانی مارکیٹس سے کیا کچھ غائب ہوگیا؟ تہلکہ خیز دعویٰ سامنے آگیا

سرجیکل ماسکس، سینیٹائزرز کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد سے ...
سرجیکل ماسکس، سینیٹائزرز کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد سے پاکستانی مارکیٹس سے کیا کچھ غائب ہوگیا؟ تہلکہ خیز دعویٰ سامنے آگیا

  



لاہور (ویب ڈیسک) سرجیکل ماسکس، سینیٹائزرز کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد سے پاکستانی مارکیٹس سے ملیریا اور گٹھیا کے امراض کی دوائیں بھی غائب ہوگئیں۔روزنامہ جنگ کے مطابق شہریوں کا کہنا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں نے مہنگے داموں فروخت کرنے کے لیے ان دواﺅں کو اسٹاک کر لیا ہے۔یہ بھی اطلاعات آئی ہیں کہ ایک فارما سیوٹیکل کمپنی میں ڈرگ انسپکٹرز نے ملیریا اور گٹھیا کی دواﺅں کو سیل کر دیا ہے۔فارما سیوٹیکل کمپنی میں ڈرگ انسپکٹرز کی جانب سے شاید ایسا ضرورت پڑنے پر حکومت کے زیرِ انتظام اسے استعمال میں لانے کے لیے کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ کورونا وائرس کے خلاف کلوروکوئن chloroquine اور ریمڈیسیور remdesivir جلد مارکیٹ میں موجود ہوں گی۔دو روز پہلے ایک نیوزبریفنگ میں صدر ٹرمپ کاکہنا تھاکہ کلورو کوئن Chloroquine اور ہائیڈروکسی کلورو کوئن Hydroxychloroquine نامی دوائیں ملیریا اور گٹھیا کے مریضوں کو دی جاتی ہیں، ایف ڈی اے نے ان دواﺅں کو کورونا کے مریضوں پر بھی آزمانے کی منظوری دے دی ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ وائٹ ہاﺅس نے کورونا وائرس کے علاج اور ویکسین کی تیاری کے لیے سرخ فیتے کی رکاوٹیں ختم کر دی ہیں۔امریکی صدر کے بیان کے بعد ایف ڈی اے نے جاری کیے گئے بیان میں کہا تھا کہ کلوروکوئن کی کورونا وائرس کے خلاف تاثیر ثابت نہیں ہوسکی ہے۔کلوروکوئن کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے یا نہیں، اس بارے میں حکومت اور ماہرین کے ساتھ کام جاری ہے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور