سماجی فاصلہ اور خود ساختہ قرنطینہ کیسے کرنا ہے اور ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ ماہر ڈاکٹر نے وضاحت کردی

سماجی فاصلہ اور خود ساختہ قرنطینہ کیسے کرنا ہے اور ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ ...
سماجی فاصلہ اور خود ساختہ قرنطینہ کیسے کرنا ہے اور ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ ماہر ڈاکٹر نے وضاحت کردی

  



لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر رنج سنگھ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے کیریئر میں کرونا وائرس جتنی بری وبا نہیں دیکھی، یہ 2009 میں پھیلنے والی سوائن فلو کی وبا سے بھی زیادہ شدید ہے۔دنیا بھر میں کرونا متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے، کئی ممالک میں تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود صورتحال بدترین ہوتی جارہی ہے۔

ڈاکٹر رنج سنگھ نے الجزیزہ ٹی وی کی ویب سائٹ پر لکھے گئے اپنے آرٹیکل میں کرونا وائرس کے حوالے سے بتائی جانے والی گائیڈ لائنز سماجی فاصلے اور خود کو قرنطینہ کرنے کے طریقہ کار اور ان دونوں کے درمیان فرق کی وضاحت کی ہے۔

Social Distancing یا سماجی فاصلہ

ڈاکٹر رنج سنگھ نے Social Distancing (سماجی فاصلہ ) کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بارے میں واضح طور پر تو کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن کچھ چیزیں کی جاسکتی ہیں۔

اگر ممکن ہو تو آپ گھر سے کام (Work from Home) کریں

صرف ضرورت کے تحت سفر کریں، بالخصوص پبلک ٹرانسپورٹ اور بیرون ملک سفر سے اجتناب کریں

عوامی مقامات جن میں سینماز اور کلبز شامل ہیں وہاں نہ جائیں

باہر سے آنے والے مہمانوں پر پابندی عائد کریں

اگر آپ گھر سے باہر جارہے ہیں تو دوسرے لوگوں سے مناسب فاصلے پر رہیںیعنی 2 میٹر دور رہیں

self-isolation یا خود کو قرنطینہ کرنا

خود ساختہ قرنطینہ کرونا وائرس کے مشتبہ لوگوں کو کرنا پڑتا ہے، وہ لوگ جن میں کرونا کی علامات ہوں یا ان کا کسی مشتبہ مریض سے قریبی رابطہ ہوا تو انہیں خود کو تنہا کرلینا چاہیے۔ خود کو تنہا یا قرنطینہ کرنے میں جو چیزیں شامل ہوتی ہیں وہ یہ ہیں۔۔۔

سکول یا کام پر نہ جانا

سفر نہ کرنا

کسی سے ملاقات نہ کرنا

اپنے گھر سے باہر نہ نکلنا اور اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو دوسروں سے کہنا کہ وہ لا کر دیں

ایک ہی بستر پر دوسرے شخص کے ساتھ نہ سونا

اپنے برتن ، تولیہ اور گھریلو استعمال کی دیگر اشیا کو الگ تھلگ کرلینا

ڈاکٹر رنج سنگھ نے بتایا کہ سماجی فاصلہ ایک طویل وقت کیلئے ہوتا ہے اور یہ اس وقت تک چل سکتا ہے جب تک وبا کو قابو نہیں کرلیا جاتا جبکہ خود ساختہ قرنطینہ ایک مخصوص مدت کیلئے ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں ان تمام لوگوں کو 7 روز کیلئے قرنطینہ ہونے کی ہدایت کی جاتی ہے جن میں کرونا وائرس کی علامات موجود ہوں اور اس مشتبہ مریض کے اہلخانہ کو کم از کم 14 روز تک قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

مزید : بین الاقوامی