گرم موسم سے کرونا وائرس کا پھیلاﺅ کم ہوسکتا ہے؟ سائنسدانوں کی نئی تحقیق سامنے آگئی

گرم موسم سے کرونا وائرس کا پھیلاﺅ کم ہوسکتا ہے؟ سائنسدانوں کی نئی تحقیق ...
گرم موسم سے کرونا وائرس کا پھیلاﺅ کم ہوسکتا ہے؟ سائنسدانوں کی نئی تحقیق سامنے آگئی

  



دوحہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) دنیا کے اکثر ممالک کی جانب سے اپنے بارڈرز کو سِیل کرکے شہروں کو لاک ڈاﺅن کیا جارہا ہے تاکہ کرونا وائرس آﺅٹ بریک کو روکا جاسکے۔ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے گرم موسم کے باعث کرونا وائرس کے پھیلاﺅ میں کمی کی امید کو زیادہ بڑھاوا نہیں دیا جاتا لیکن وزیر اعظم عمران خان خشک گرمی سے کرونا کے پھیلاﺅ میں کمی کیلئے پر امید ہیں۔ اب امریکہ کی ایک یونیورسٹی کی جانب سے نئی تحقیق سامنے آئی ہے جس میں گرمی کے باعث کرونا وائرس کے پھیلاﺅ میں کمی کی امید کو تقویت ملتی ہے۔

الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میسا چوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے محققین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے 95 فیصد کیسز ان ممالک میں سامنے آئے ہیں جہاں درجہ حرارت 3 سے 13 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہے۔ وہ ممالک یا خطے جہاں درجہ حرارت 21 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہے ان میں کرونا وائرس کے صرف 10 فیصد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

امریکہ کی جنوبی ریاستیں نسبتاً گرم ہیں اور وہاں کرونا وائرس کے کیسز شمالی ریاستوں کی نسبت 25 فیصد کم ہیں۔ کرونا سے زیادہ متاثر ہونے والی امریکہ کی شمالی ریاستوں میں درجہ حرارت 0 سے 15 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہے ۔

حال ہی میں جنوب مشرقی ایشیا میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے باعث گرم موسم سے کرونا کے پھیلاﺅ کی روک تھام کی تھیوری پر شبہات ظاہر کیے جارہے ہیں۔انڈونیشیا ، تھائی لینڈ ، ملائیشیا اور فلپائن میں حالیہ کچھ دنوں کے دوران جس تیزی سے کیسز میں اضافہ ہوا ہے اس سے یہ لگتا ہے کہ گرمی کی وجہ سے کرونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے میں بہت تھوڑی مدد مل سکتی ہے۔

سنگا پور کے لی کوان یو سکول آف پبلک پالیسی کے پروفیسر ٹیکی پانگیسٹو کا کہنا ہے کہ گرم درجہ حرارت کی تھیوری جنوب مشرقی ایشیا میں لاگو ہوتی نظر نہیں آرہی کیونکہ یہاں بھی کیسز بڑھ رہے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے گلوبل آﺅٹ بریک اینڈ رسپانس نیٹ ورک کے چیئرمین ڈیل فشر کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ گرم موسم کرونا وائرس کے پھیلاﺅ کو کم کرسکتا ہے لیکن اس سے وائرس کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ ’سب سے ضروری یہ ہے کہ ممالک مشتبہ کیسز کو کتنے پر اثر طریقے سے آئسولیٹ کر ہے ہیں اور متاثرہ لوگوں کو کیسے باقی معاشرے سے الگ کر رہے ہیں ، یہی اصل چیز ہے نہ کہ گرم موسم۔‘

مزید : Breaking News /بین الاقوامی