کرونا وائرس، انڈر ٹرائل قیدیوں کو رہا کیا جائے: بیرسٹر راحیل کامران شیخ

کرونا وائرس، انڈر ٹرائل قیدیوں کو رہا کیا جائے: بیرسٹر راحیل کامران شیخ
کرونا وائرس، انڈر ٹرائل قیدیوں کو رہا کیا جائے: بیرسٹر راحیل کامران شیخ

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) بیرسٹر راحیل کامران شیخ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاﺅ کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسے قیدیوں کی رہائی کیلئے فی الفور اقدامات اٹھائے جائیں جو ابھی انڈر ٹرائل ہیں اور انہیں کسی عدالت نے سزا نہیں سنائی، دیگر معمولی جرائم کے قیدیوں کو بھی رہا کرکے ان کے ٹیسٹ کرائے جائیں۔

اپنے ایک بیان میں بیرسٹر راحیل کامران شیخ نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب صحت کے حوالے سے ایمرجنسی صورتحال ہے تو حکومتوں کی جانب سے کرونا وائرس کا پھیلاﺅ روکنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔پاکستان میں قید لوگوں کی اکثریت ایسی ہے جن کا ابھی ٹرائل ہورہا ہے، قانون کی نظر میں یہ لوگ اس وقت تک معصوم ہیں جب تک قصور وار ثابت نہیں ہوجاتے ۔ ایسے حالات میں پاکستان بار کونسل کو حکومت سے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ انڈر ٹرائل قیدیوں کو فی الفور رہا کیا جائے ۔

صرف ان انڈر ٹرائل لوگوں کو ہی قید میں رکھا جائے جن کا رکھنا ضروری ہے ، باقی لوگوں کو رہا کرکے ان کے ٹیسٹ کرائے جائیں اور انہیں قرنطینہ کرکے گھروں کو جانے دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک قیدیوں کی رہائی کا معاملہ ہے تو آئین کا آرٹیکل 45 اور کرمنل پروسیجر کوڈ 1898 کی شق 29 کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پاس قیدیوں کی معافی کا اختیار موجود ہے۔ اس اختیار کا استعمال یوم پاکستان، یوم آزادی، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ پر ہر سال کیا جاتا ہے، عمومی طور پر ایسے مواقع پر 2 ماہ تک سزائیں معاف کی جاتی ہیں لیکن 1997 میں پاکستان کی آزادی کے 50 سال مکمل ہونے اور 1998 میں ایٹمی دھماکوں کے موقع پر بہت سے قیدیوں کی ساری سزائیں بھی معاف کی جاچکی ہیں۔

بیرسٹر راحیل کامران شیخ نے مطالبہ کیا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے فوری اقدامات اٹھائے کیونکہ کرونا وائرس ایک انتہائی اہم وقت ہے جس پر قیدیوں کے حقوق کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور