کرونا وائرس اور سردار عثمان بزدار

کرونا وائرس اور سردار عثمان بزدار
کرونا وائرس اور سردار عثمان بزدار

  



چین کے شہر ووہان سے اٹھنے والی کرونا وائرس کی آندھی نے اس وقت دنیا کے 180 سے زائد مملک کو اپنی لپیٹ اور شکنجے میں لے رکھا ہے۔ وہ عالمی طاقتیں جو مال و معیشت اور اسلحہ و ٹیکنالوجی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھیں، آج کرونا وائرس کے سامنے بھیگی بلی بنی نظر آ رہی ہیں۔ کرونا وائرس کے شکاروں اور متاثرین میں ترقی یافتہ ممالک سے لے کر ترقی پذیر ممالک، G-20 سے لیکر سارک ممالک اور امیر سے لیکر غریب ممالک تک تمام کے تمام کرونا وائرس کے سامنے بے بس نظر آ رہے ہیں۔

کرونا وائرس دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے نمودار ہوا اور ایک خوفناک اژدہے کی طرح اپنے پھن پھیلاتا ہوا یکم جنوری 2020 تک پورے چین کی آب و ہوا، بود و باش، ثقافت و معاشرت اور انسانی آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے آیا۔ جنوری 2020 کو کہ جب کرونا وائرس کے اثرات ابھی چین سے باہر کے ممالک کو متاثر کرنا شروع نہیں ہوئے تھے، اس وقت پنجاب کے وزیرِ اعلٰی سردار عثمان بزدار نے اس معاملے کو ٹیک اپ کیا اور پنجاب کی بیوروکریسی اور اپنی کابینہ کے سینیئر ممبران کو اعتماد میں لینا شروع کیا۔ بعد ازاں 14 جنوری کو وزیرِ اعلٰی پنجاب نے کرونا وائرس سے پنجاب کی عوام کو محفوظ رکھنے کے حوالے سے عملی اور با مقصد مشاورت کرنے کے لیے پنجاب کابینہ کی ایک کمیٹی تشکیل دی۔ اس کمیٹی کا بنیادی مقصد روزانہ کی بنیاد پر کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے اور پنجاب میں اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے میٹنگ کرنا اور انتظامی، مالی اور تکنیکی بنیادوں پر بروقت فیصلے کرنا ہے۔ اس کمیٹی کی سربراہی وزیرِ اعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار خود کر رہے ہیں۔ اسی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے فروری کے شروع میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور پنجاب کی عوام کو اس موذی مرض اور وبا سے بچانے کے لیے 236 ملین کے فوری فنڈز جاری کرنے کا حکم دیا۔ اس فنڈ کا مقصد پنجاب کے مختلف اضلاع کے سرکاری ہسپتالوں میں قائم آئسولیشن وارڈز، ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس اور قرنطینہ سنٹرز کا قیام تھا۔ اس کے علاوہ اس فنڈ اور رقم سے فوری طور پر ٹیسٹنگ کِٹز، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کے لیے حفاظتی لباس، حفاظتی ماسک اور دیگر فوری طبی آلات و اشیاء کی فوری خریداری مطلوب تھی۔

26 جنوری کو ایران سے آئے ہوئے زائرین میں سے پہلا کرونا وائرس کا مریض رپورٹ ہونے کے بعد وزیرِ اعلٰی پنجاب نے فوری طور پر ڈیرہ غازی خان میں جہاں قرنطینہ سنٹر بنانے کا حکم دیا، وہیں پر محکمہ صحت پنجاب نے وزیرِ اعلٰی پنجاب کے حکم پر پورے صوبہ کے 36 اضلاع کے ہسپتالوں میں 41 سے زائد آئسولیشن سنٹرز اور ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس کا قیام عمل میں لایا۔ فروری کے مہینے میں ہی پنجاب کے تین بڑے ہسپتالوں کو کرونا وائرس کے علاج کے لیے مختص کر دیا گیا۔ ان میں جنوبی پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ کا طیب اردگان ہسپتال، وسطی پنجاب میں لاہور کا پنجاب کڈنی لیور انسٹیٹیوٹ، اور شمالی پنجاب میں یورالوجی ہسپتال راولپنڈی شامل ہیں۔ مارچ کے ابتدائی دنوں میں جب کرونا وائرس کے متاثرین اور مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا تو وزیرِ اعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار نے وزیرِ اعظم عمران خان، وفاقی حکومت اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ہدایات کی روشنی میں پنجاب کابینہ کی کمیٹی میں انقلابی اور ہنگامی فیصلے کرنا شروع کر دیئے جن میں سے چند بنیادی اور اہم فیصلے درج ذیل ہیں۔

1 - وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں فتح حاصل کرنے کے لیے اپنا سرکاری ہیلی کاپٹر محکمہ صحت کے حوالے کر دیا تا کہ وزیرِ صحت، سیکرٹری ہیلتھ سمیت محکمہ صحت کے دیگر افسران و اہلکاروں کو اٹک سے رحیم یار خان تک ہنگامی نقل و حمل کے لیے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

2 - وزیرِ اعلٰی پنجاب کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کے زیرِ انتظام ایک ارب سے قائم کیے جانے والے ہنگامی فنڈ کو اب آٹھ ارب تک بڑھا دیا گیا ہے۔

3 - وزیرِ اعلٰی پنجاب کی ہدایت پر فنانس ڈیپارٹمنٹ پنجاب حکومتِ بلوچستان کو ایک ارب روپے کی خطیر رقم فراہم کر رہا ہے جسکا مقصد تفتان میں ایران سے آنے والے زائرین کے لیے قائم کیے گئے قرنطینہ سنٹر کو جدید اور متحرک بنانا ہے۔

4 - وزیرِ اعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ڈیرہ غازی خان میں قائم قرنطینہ سنٹر کے حوالے سے میڈیا میں آنے والی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان کے ہمراہ ڈی جی خان کے قرنطینہ سنٹر کا دورہ کیا اور ضروری طبی، مالی اور انتظامی ضروریات کی فراہمی کا فوری حکم دیا۔

5 - وزیرِ اعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار نے لاہور ایکسپو سنٹر جوہر ٹاؤن کو فوری طور پر کرونا وائرس کے حوالے سے فیلڈ ہسپتال بنانے کا حکم دیا ہے۔

6 - وزیرِ اعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایات کی روشنی میں کرونا وائرس کے حوالے سے خدانخواستہ حالات بگڑنے کی صورت میں اور ہنگامی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے میڈیکل سٹاف کی سہولت اور مریضوں کے رش میں کمی کے لیے ٹیلی میڈیسن کی سہولت کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔عالمی صحافتی ادارے گلف نیوز میں محکمہ اطلاعات پنجاب کی فوکل پرسن برائے انگلش پرنٹ میڈیا اور معروف کالم نگار مہر تارڑ نے بڑی خوبصورتی سے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں مثبت اور قائدانہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا ہے۔

کالم کے اختتام پر میں پاکستان اور پوری دنیا میں وبا کی صورت میں پھیلنے والی انسان کش بیماری اور وائرس کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے سیاسی، صحافتی اور کاروباری قائدین اور عمائدین کے کردار کے حوالے سے بات کرنا چاہوں گا۔میری پاکستان کے سیاسی قائدین اور عمائدین سے دست بستہ گزارش ہے کہ آج اس دردناک صورتحال میں کہ جب ترقی یافتہ اور مالدار ممالک کی معیشتوں کے حالات کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کی وجہ سے مخدوش ہو چکے ہیں، ہمیں ایک متحد قوم کی حیثیت سے تمام سیاسی اختلافات بھلا کر پوری جرات، ہمت اور حوصلے سے کرونا وائرس کے خلاف جنگ کو لڑنا ہے۔روایتی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور تنقید سے اجتناب کرتے ہوئے ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر پاکستان کو ان مخدوش عالمی صورتحال میں سرخرو کرنا ہے۔

اس کے علاوہ میری پاکستان کے تمام میڈیا چینلز اور اخبارات کے مالکان، صحافی برادری اور صحافتی تنظیموں سے بھی گذارش ہے کہ روایتی صحافت اور تنقید اور کرونا وائرس کے حوالے سے کسی قسم panic پھیلانے سے گریز کرتے ہوئے اپنے آپ کو ایک انتہائی مثبت قومی ادارے کے طور پر پیش کرنا ہے۔میری ذاتی رائے ہے کہ کرونا وائرس کے خلاف اس عالمی جنگ میں اگر پاکستان کے حکمران، سیاستدان اور میڈیا مثبت انداز میں اپنا کردار ادا کریں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں کرونا کے خلاف جنگ جیتنے سے نہیں روک سکتی۔میری سوسائٹی میں موجود ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں سے بھی گذارش ہے کہ دنیا کا سب سے پہلا اور معتبر مذہب انسانیت ہے۔ انسانیت سے کھلواڑ کرنے والے ہر معاشرے، مذہب اور ملک کے دشمن جانے، مانے اور گردانے جاتے ہیں۔براہِ مہربانی اقتصادیات، معاشیات اور تجارت کے شعبے سے منسلک افراد سچے پاکستانی اور انسان دوست ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں عوام اور حکومت کے شانہ بشانہ مثبت اور انسان دوست رویہ اختیار کریں۔

آخری بات:……

پاکستان وہ ملک اور ریاست ہے جس نے بیس سال دہشت گردی کی جنگ کا پوری جوانمردی، بہادری، استقلال اور صبر سے مقابلہ کیا اور اسے شکست فاش دی۔ آج یہ ہمارا فخر ہے کہ امریکہ، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے سیاسی اور فوجی سربراہان ہمارے وزیرِ اعظم، چیف آف آرمی سٹاف اور سیکیورٹی اداروں سے گائیڈ لائن لینے پر مجبور ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کیا اقدامات، اصلاحات اور اعمال کیے جائیں۔انشاء اللہ اکیس کروڑ پاکستانیوں کا یہ گلدستہ اپنے قائد وزیرِ اعظم عمران خان کی متحرک، چوکنا، اور باصلاحیت قیادت میں معاشی و معاشرتی ترقی اور کامرانی کو خوشبو سے ہمکنار رہے گا اور کرونا وائرس کی وبا اس گلدستے کی تروتازگی اور خوشبو کو ماند نہیں کر سکے گی۔

مزید : بلاگ