دُکھ سُکھ سانجھے ہیں،پاکستان کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے : ترک وزیراعظم

دُکھ سُکھ سانجھے ہیں،پاکستان کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے : ترک وزیراعظم
دُکھ سُکھ سانجھے ہیں،پاکستان کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے : ترک وزیراعظم

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے کہاہے کہ اراکین پارلیمنٹ پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور اُن کے پیچھے موجود عوامی طاقت کی وجہ سے کوئی اُنہیں زیر نہیں کرسکتا۔اُن کاکہناتھاکہ جمہوریت اتنی آسانی سے حاصل نہیں ہوتی اوراُس کے لیے پارلیمنٹ کا احترام بھی ضروری ہے۔اُنہوں نے سیاچن اور طیارہ حادثہ پر پاکستانی عوام سے افسوس کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اکیلانہیں ،ترکی بھی اُس کے ساتھ ہیں ۔اُنہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت ،تعلیم اور سیکیورٹی کے شعبے میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے ۔ترک وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان اورترکی سمیت عالم اسلام کے اتحاد سے تمام مسائل پر قابو پایاجاسکتاہے۔مہمان وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان اُنہیں اپنا گھر محسوس ہوتاہے اورافغانستان میں استحکام کے اثرات پاکستان پر بھی مثبت ہوں گے ۔پا رلیمنٹ کے اجلاس سے خطا ب کر تے ہو ئے تر کی کے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ جمہوری ثقافت اب کائنات اور عالمی ثقافت کی حیثیت حاصل کرگئی ہے ۔جمہوریت دنیا میں کسی بھی جگہ آسانی سے حاصل نہیں ہوئی ،جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ جدوجہد کو جاری رکھنے اور قومی کی خدمت اور خوشحالی کے لیے استعمال کرناسب سے اہم راست ہے۔ انکا کہنا تھا کہ عوام کی جمہوری اداروں سے توقع معاشی حالات میں بہتری اور انصاف دیناہے،جمہوریت کو آگے لے جانے کے لیے اقتصادی حالات کو بہتر بانالازم ہے اور یہی صورتحال ترکی کی تھی جس کی ترقی کے لیے اقتصادی حالات کا ہاتھ ہے۔عالمی سطح پر اپنی بات منوانے کے لیے ترقی کی جانب گامزن ہونے کے لیے معاشی ترقی ضروری ہے۔طیب اردگا ن کا کہنا تھا کہ امن سیکیورٹی اور خوشحالی کے حوالے سے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔حکومت پر عوام کی طر ف سے دی جانے والی بڑی بھاری ذمہ داری ہے اور عوام کی خدمت سے ہی جمہوریت مضبوط ہوتی ہے۔انکا کہنا تھا کہ قا ئد حزب اختلاف کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور اُس کا مقصد صرف حکومت کو ہٹانانہیں ہوتالیکن اگر غلطی ہوتو اُس کی تصحیح کرناضروی ہے۔انکا کہنا تھا کہ ترکی نے تاریخ میں ہمیشہ بھائی ملک اور عوام کو بہن بھائی سمجھاہے۔دکھ در اور خوشی ہمارے ہیں ۔ماضی کی آفتوں اور تباہ کاریوں میں دنیا کے سامنے ایک مثال قائم کی ہے۔میں صاف بتادوں کہ اِس وقت ہونے والا بھائی چارہ ،ہمیشہ کہتارہاہوں کہ پاکستان کی عوام جنگ نجات نے بھوکا پیاسا رہتے ہوئے ہماری مدد کی جسے کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔بھائی چارے کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے اور ہم آئندہ بھی تعاون کریں گے ۔ہمارے تعلقات اجتماعی نوعیت کے حامل ہیں اور دنیا میں اِس کی مثال نہیں ملتی ۔انکا کہنا تھا کہ گذشتہ دنوں سیاچن اور طیارہ میں حادثہ میں ہلاک ہونے والوں کے لیے دعاگوہوں ،ماضی میں پیش آنے والے تمام مشکلات کے باوجود میرے بھائی بھرپور کوشش کررہے ۔

مزید : قومی /Headlines