طلاق کی شرح میں اضافہ روکنے کے لئے تربیتی کورس

طلاق کی شرح میں اضافہ روکنے کے لئے تربیتی کورس
طلاق کی شرح میں اضافہ روکنے کے لئے تربیتی کورس
کیپشن: abu amaar zahid

  

”پاکستان“ نے 20 مئی کی اشاعت میں روزنامہ ”الشرق الا¿وسط“ لندن کے حوالہ سے رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں طلاق کی شرح میں مسلسل اضافے کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک تربیتی پروگرام کا اعلان کیا گیا ہے جس میں شادی کرنے والے جوڑوں کو بہتر خاندانی زندگی گزارنے اور طلاق سے بچنے کے لیے تربیت دی جائے گی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سے قبل ملائیشیا میں بھی اس قسم کے پروگرام کا آغاز ہو چکا ہے۔

نکاح اور طلاق خاندانی زندگی کے دو اہم پہلو ہیں جن کے بارے میں مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے قوانین و ضوابط جدا جدا ہیں۔ مگر جب سے ان معاملات کو مذہب اور آسمانی تعلیمات کی قید سے آزاد قرار دے دیا گیا ہے دونوں کے امور و مسائل میں پیچیدگیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ حتیٰ کہ مغرب میں اب شادی کو بھی ایک تکلف سمجھا جانے لگا ہے اور بغیر شادی کے اکٹھا رہنے والے جوڑوں کی تعداد اور تناسب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس حوالہ سے کچھ عرصہ قبل چرچ آف انگلینڈ کا ایک سرکلر خاصی دل چسپی کا باعث بنا تھا کہ چونکہ بغیر شادی کے اکٹھے رہنے والے جوڑوں کا تناسب سوسائٹی میں پچاس فی صد سے زیادہ ہوگیا ہے اس لیے اب اسے ”گناہ“ تصور نہ کیا جائے۔ جبکہ شادی کا تکلف روا رکھنے والے جوڑوں میں بھی طلاق کی شرح اس قدر بڑھ گئی ہے کہ کسی نکاح کے بارے میں اعتماد کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ ایک سال بھی چلے گا یا نہیں۔ بلکہ برطانیہ میں یہ محاورہ اکثر سننے کو ملتا ہے کہ یہاں تھری ڈبلیوز کا کوئی اعتبار نہیں۔ وومن، ویدر اور ورک۔ یعنی موسم کا کوئی اعتبار نہیں کہ کس وقت کون سا رخ اختیار کر لے۔ جاب کا کوئی اعتبار نہیں کہ کس وقت جواب مل جائے۔ اور بیوی کا کوئی اعتبار نہیں کہ کس وقت ساتھ چھوڑ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں خاندانی نظام افراتفری کا شکار ہے اور رشتوں کے ساتھ ساتھ نسب بھی قصہ¿ پارینہ بنتا جا رہا ہے۔ آج خاندانی نظام کا تحفظ مغربی دانش وروں کے غور و فکر کا اہم ترین موضوع ہے۔ اور اس پر اہل فکر و دانش کی تشویش و اضطراب کی جھلکیاں مختلف بیانات میں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں۔

آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی پابندی سے آزاد قرار دینے کے بعد شادی کو ایک مذہبی فریضہ سمجھنے کی بجائے محض ”سوشل کنٹریکٹ“ کا درجہ دے دیا گیا ہے جس میں دونوں فریق برابر کے حصہ دار ہوتے ہیں۔ اور پھر برابر کے حصہ داروں اور کسی ادارے میں برابر کے اختیارات کے دو مینیجروں کے درمیان جو کچھ ہوتا ہے وہی کچھ خاندانی نظام کے ساتھ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں مغربی دنیا میں خاندانی نظام خلفشار کا شکار ہو چکا ہے۔

اسلام نے نکاح کو محض سوشل کنٹریکٹ کا درجہ دینے کی بجائے مذہبی فریضہ اور سنت نبوی قرار دیا ہے۔ خاندانی نظام کا ایک مکمل نیٹ ورک دیا ہے، عورت کے حقوق و مفادات کے پورے تحفظ کے ساتھ مرد کو سنیارٹی دی ہے جو کسی بھی ادارے کے نظام کو صحیح طور پر چلانے کے لیے ایک ناگزیر تقاضے کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے ساتھ رشتہ داروں کے حقوق اور رشتوں ناتوں کی درجہ بندی کا مکمل نیٹ ورک دے کر ”صلہ رحمی“ کے عنوان سے اسے مستقل نیکی بلکہ عبادت کا درجہ دے دیا ہے۔ اسی وجہ سے میاں بیوی اپنے معاملات چلانے اور نمٹانے میں تنہا نہیں رہتے بلکہ اردگرد رشتوں کا پورا حصار اس بندھن کو مسلسل نبھانے کی ترغیب دیتا رہتا ہے۔ اسلام نے نباہ نہ ہونے کی صورت میں آخری آپشن کے طور پر طلاق کو ضرور باقی رکھا ہے لیکن ابغض المباحات (مکروہ ترین مباح) قرار دیا ہے۔ اس کے مختلف مراحل اور درجے قائم کیے ہیں اور طلاق کی بہت سی صورتوں میں اس امر کی گنجائش باقی رہنے دی ہے کہ میاں بیوی طلاق کے باوجود طلاق سے رجوع کر کے میاں بیوی کے طور پر ہی زندگی گزارتے رہیں یا دوبارہ نکاح کر کے پھر سے میاں بیوی بن جائیں۔ ظاہر بات ہے کہ میاں بیوی آپس کے معاملات و تنازعات کو خود ہی نمٹائیں گے اور اردگرد کے لوگوں کا کوئی تعلق نہیں رہے گا تو نباہ کی صورتیں کم سے کم ہوتی چلی جائیں گی۔ اسلام نے میاں بیوی کے تنازعات کو نمٹانے کے لیے ایک خوبصورت حل پیش کیا ہے کہ دونوں کے خاندانوں سے ایک ایک شخص بطور حکم اور ثالث ان کے معاملہ میں دخیل ہو کر صلح کرا دیں۔ یا اگر علیحدگی ناگزیر ہو تو وہ اسے اچھے طریقہ سے نمٹا دیں۔ لیکن یہ اس وقت ہوگا جب نکاح صرف دو افراد کا سوشل کنٹریکٹ نہیں ہوگا بلکہ اردگرد کے رشتہ داروں اور خاندان کی دل چسپی اور مفادات بھی اس کے ساتھ وابستہ سمجھے جائیں گے، اور اس کی سب سے بہتر تعلیم اسلام نے دی ہے۔

طلاق کی شرح میں مسلسل اضافہ کے مختلف اسباب ہیں جن کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ چند سال قبل بھارت کے صوبہ ہریانہ کے حوالہ سے یہ رپورٹ چھپی تھی کہ سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سکالر نے غالباً پی ایچ ڈی کے مقالہ میں طلاق کی شرح میں اضافے کا ایک اہم سبب موبائل فون کو قرار دیا ہے ۔اور تجویز پیش کی ہے کہ شادی سے پہلے اور کچھ عرصہ بعد تک بیوی کے پاس موبائل فون موجود نہیں ہونا چاہیے، وغیرہ وغیرہ۔

ہمارے خیال میں طلاق کی شرح میں مسلسل اضافے کو کنٹرول کرنے کے لیے کسی مستقل تربیتی کورس کا اہتمام کرنے کی بجائے اگر خاندانی زندگی کے بارے میں قرآن و سنت کی تعلیمات سے نئی نسل کو آگاہ کرنے، اور مغرب کے خاندانی نظام کے ساتھ اسلامی تعلیمات کا تقابلی مطالعہ کرا کے اسلامی تعلیمات کی افادیت اور برتری کو ذہن نشین کرانے کا اہتمام کر لیا جائے تو اس مسئلہ کو خاصا کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر ذہنوں میں آئیڈیل مغرب کی ثقافت ہوگی اور مغربی اقدار و روایات کی پیروی کے شوق کی حوصلہ افزائی ہوتی رہے گی تو محض وقتی کورسز طلاق کی شرح میں اضافے کے سیلاب کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔

مزید :

کالم -