ایک دہائی سے آسمان سے آنے والی پراسرا آواز جس نے دنیا بھرکےماہرین کو چکرا کر رکھ دیا

ایک دہائی سے آسمان سے آنے والی پراسرا آواز جس نے دنیا بھرکےماہرین کو چکرا ...
ایک دہائی سے آسمان سے آنے والی پراسرا آواز جس نے دنیا بھرکےماہرین کو چکرا کر رکھ دیا

  

لندن(نیوزڈیسک)دنیا بھر میں آسمان سے آنے والی پراسرار آوازوں نے لوگوں کو چکرا کررکھ دیا ہے۔یہ معمہ اس قدر گہرا ہوتا جارہا ہے کہ خلائی ماہرین اور سائنسدانوں کے پاس جدید آلات ہونے کے باوجود اس کا جواب نہیں کہ یہ پراسرارآوازیں آخر کہاں سے آرہی ہیں۔

مزیدپڑھیں:چین کے ریسٹورنٹ کی خواتین گاہکوں کیلئے شرمناک ڈسکاؤنٹ آفر

برطانوی اخبار ’میل آن لائن‘ کے مطابق یہ آوازیں یورپ اور شمالی امریکہ میں گذشتہ ایک دہائی سے مختلف اوقات میں مسلسل سنی جارہی ہیں ۔اس آواز کو سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک طلائی آرکسٹراسے آواز نکل رہی ہے۔ پہلی بار یہ آواز 2008ءمیں یورپ کے ملک بیلاروس کے شہر ہومیل میں سنی گئیں اور ایک مقامی نوجوان نے اس کی ویڈیو بھی بنائی اور اسے بعد میں یوٹیوب پر بھی چڑھادیا گیا۔اسی سال امریکہ میں ایک نامعلوم نوجوان نے بتایا کہ اسے بھی پراسرار آوازیں آرہی ہیں۔کینیڈا کی کیمبرلی ووکی نے جون 2013ءمیں یہ پراسرار آوازیں ریکارڈ بھی کیں اور اسی سال مئی میں اس نے ایک بار پھر یہ آواز محفوظ کی ہے۔اپنے بیان میں وہ کہتی ہے کہ 29اگست 2013ءکی صبح ساڑھے سات بجے وہ ان آوازوں کی وجہ سے نیند سے اٹھ بیٹھی۔اس کا کہنا ہے کہ وہ اس طرح کی آواز پہلے بھی سن چکی تھی لہذا وہ فوراًاپنے بیڈ روم سے باہر نکلی تو دیکھا کہ اس کا سات سالہ بچہ بھی آوازیں سن کر خوفزودہ ہوکر اٹھ بیٹھا ہے۔کیمبرلی کا کہنا ہے کہ یہ آوازیں ریکارڈ کرکے جب وہ فیس بک پر اسے اپ لوڈ کرنے لگی تو اسے معلوم ہوا کہ اردگرد کے دیگر افراد نے بھی یہ آوازیں سنی ہیں۔

مشرقی یورپ کے ملک یوکرائن کے شہر کیف میں بھی اس کی طرح کی آوازیں اگست 2011ءمیں سنی گئیں اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ آوازیں 30سے40کلومیٹر کے علاقے میں واضح طور پر سنی جاسکتی تھیں۔کافی کوششوں کے بعد بھی یہ معلوم نہ ہوسکا کہ یہ آوازیں کہاں سے آرہی تھیں۔یہ بات بھی تشویش سے خالی نہیں کہ جن لوگوں نے ان آوازوں کی اصلیت جاننے کی کوشش کی انہیں لمبے عرصے تک ڈراﺅنے خواب آتے رہے۔امریکی ریاست مونٹاناکے رہائشی آرون ٹیلر کا کہنا ہے کہ اس نے یہ آوازیں ریکارڈ کر کے سنیں اور انہیں انٹرنیٹ پر اپ لوڈ بھی کیا لیکن اس کے بعد ڈراﺅنے خوابوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا اور وہ رات کو سوتے میں ڈر کر چلاتا اور اٹھ جاتا تھا۔اتنی تگ و دو کے باوجود ٹیلر کو یہ علم نہیں کہ یہ آوازیں کسی جہاز، ٹرین یا کسی اور چیز کی ہیں۔

سائنسدانوں نے ان آوازوں کی توجیہہ دینے کی کوشش کی ہے لیکن ان کے پاس بھی اس کا خاطر خواہ جواب نہیں ہے۔یونیورسٹی آف اوکلوہاما کے سائنسدان ڈیوڈ ڈیمنگ نے Journal of Scientific Explorationلکھا ہے کہ یہ آوازیں Humکہلاتی ہیں اور یہ جہازوں اور مواصلاتی تاروں سے آتی ہیں۔گو کہ ڈیوڈ نے ان آوازوں کی وجہ بیان کی ہے لیکن اس کو سننے والوں کا کہنا ہے کہ یہ آوازیں جہازوں وغیرہ سے بالکل مختلف ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس