پاکستان دنیا میں پام آئل درآمد کرنیوالے ممالک میں سرفہرست

پاکستان دنیا میں پام آئل درآمد کرنیوالے ممالک میں سرفہرست

 کراچی ( آن لائن) پاکستان دنیا میں پام آئل درآمد کرنے والے ممالک میں سر فہرست ہے، پاکستانی کوکنگ آئل انڈسٹری نہ صرف ملکی ضروریات کو پورا کررہی ہے بلکہ خوردنی تیل کا شعبہ قومی خزانے میں سالانہ ایک سو ارب روپے سے زیادہ کے ٹیکسز جمع کرارہا ہے۔ پاکستان ملائیشیاء کے لیے پام آئل کی ایک بڑی مارکیٹ ثابت ہوسکتا ہے۔ ان خیالات کاا ظہار پاکستان وناسپتی ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عاطف اکرام شیخ نے ملائیشیاء کے تاجروں سے ملاقات کے دوران کیا۔ عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان گذشتہ کئی سالوں سے ملائیشیاء سے پام آئل درآمدکررہا ہے۔ ملائیشین سپلائرز پاکستانی تاجروں کو انڈونیشیاء کے نرخوں پر پام آئل کی سپلائی شروع کریں تو انہیں سالانہ کروڑوں ڈالر کا منافع مل سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے حال ہی میں انڈونیشیاء کے ساتھ ترجیحی تجارت کا معاہدہ کیا ہے، جس کے بعدانڈونیشیاء سے پام آئل کی درآمد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس معاہدے سے پاکستان کو 15 فیصد سستا پام آئل دستیاب ہورہا ہے معاہدے کے بعد انڈونیشیاء سے پام آئل کی درآمد میں 80 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ ملائیشیاء سے پام آئل کی درآمد میں 48فیصد کمی ہوچکی ہے ۔ ملائیشیاء کے تاجر پاکستان کو انڈو نیشیاء کے نرخوں پر پام آئل کی فروخت شروع کریں تو دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم کئی گنا تک بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں خوردنی تیل کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے اور ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں خوردنی تیل اور گھی کا استعمال 40 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ چکا ہے۔ ملائیشیاء کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ ایک بہترین موقع ہے کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں ۔ عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ملائیشیاء کو پام آئل کی تجارت بڑھانے کے لیے نرخوں میں کمی کرنا ہوگی تاکہ پاکستانی تاجر بھاری مقدار میں پام ئل امپورٹ کرسکیں، تاجروں کی خواہش ہے کہ ملائیشیاء سے پام آئل کی درآمد شروع کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے پورٹ قاسم کراچی میں خوردنی تیل کی ریفائنری قائم کی ہے، جس کی پیداوار صلاحیت ساڑھے چالیس لاکھ میٹرک ٹن سالانہ ہے۔ اگرملائیشیاء سے پام آئل کی درآمد سستے نرخوں پر شروع ہوجاتی ہے تو پاکستان افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کوخوردنی تیل برآمد کرسکتا ہے۔ اس موقع پر ملائیشیاء کے وفد کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت بڑھانے کے خواہش مند ہیں۔ باہمی مذاکرات کے ذریعے پاآئل کی تجارت کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ پاکستانی تاجروں کو پاآئل کی امپورٹ پر بھر پور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

مزید : کامرس