قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس بل2014 امتیازی ہے ‘غیاث عبداللہ پراچہ

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس بل2014 امتیازی ہے ...

لاہور(کامرس رپورٹر)آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما غیاث عبداللہ پراچہ نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس ( جی آئی ڈی سی ) بل2014 امتیازی ہے جس سے مشکلات کا شکار سی این جی کی صنعت ختم ہو جائے گی۔ اس میں تمام شعبوں کو چھوڑ کر صرف سی این جی سیکٹر سے ماضی کا ٹیکس وصول کرنے کا کہا گیا ہے جو بتدریج ختم ہونے والی اس صنعت کی تباہی کی رفتار بڑھا دیگا۔ غیاث پراچہ نے کہا کہ جب سی این جی مالکان نے گزشتہ سالوں کے دوران عوام سے جی آئی ڈی سی وصول ہی نہیں کیا تو حکومت کو ادائیگی کہاں سے کریں۔ سازش کرنے والوں کو پتہ نہیں کہ سات ماہ سے بند سیکٹر سے ٹیکس کیسے وصول کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی کرنے والوں میں سی کسی نے بھی تمام شعبوں سے یکساں سلوک نہ کرنے پر آواز نہیں اٹھائی جو افسوسناک ہے۔ اے پی سی این جی اے صرف اس صورت میں اس قانون کی حمایت کرے گی جب اسکے مسائل حل کئے جائیں جس میں پنجاب کے سی این جی سٹیشنز کو فوری طور پر کھولنے، مداخل، آپریشنل اخراجات اور زمینی حقائق کے مطابق قیمتوں کے تعین ، تمام شعبوں پر یکساں ٹیکس کے نفاز اور قانون سازی سے قبل کے ٹیکس کی عدم وصولی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اوگرا نے گزشتہ تین سال سے سی این جی کی قیمت پر نظر الثانی نہیں کی اور نہ کوئی بینچ مارک طے کیا گیا ہے جبکہ گیس کمپنیاں اور دیگر ادارے بند سٹیشنوں سے ماہانہ لاکھوں روپے مختلف فکسڈ چارجز کی مد میں وصول کر رہے ہیں۔ ان وصولیوں سے حکومت کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا جبکہ سی این جی مالکان قرضہ کی بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ گزشتہ تین سال میں سی این جی سٹیشن 180 دن چلے ہیں اور اب سات ماہ سے بند ہیں اسلئے سب سے زیادہ ٹیکس ایڈوانس میں ادا کرنے والا یہ شعبہ مزید بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔ ہمیں احتجاج پر مجبور نہ کیا جائے۔

مزید : کامرس