اربوں روپے کا گیسٹرو پیکیج ناکام ،48گھنٹوں میں 3780مریض سامنے آگئے

اربوں روپے کا گیسٹرو پیکیج ناکام ،48گھنٹوں میں 3780مریض سامنے آگئے

لاہور(جاوید اقبال)صوبائی دارالحکومت مین اربوں روپے کا گیسٹرو پیکج ناکام ہو گیا ہے لاہور میں گزشتہ 5سالوں میں گیسٹرو کا مرض ختم کرنے کے لیے گیسٹرو پیکج متعارف کرایا گیا جس کے تحت شہر لاہور کے تمام ٹاؤنوں میں گیسٹرو پیکج کے تحت پانی کی ناکارہ بوسیدہ اور پرانی پائپ لائنیں تبدیل کی گئیں مگر اس کے باوجود راوی،داتا گنج بخش ،سمن آباد ،واہگہ ،نشتر ،اقبال اور گلبرگ ٹاؤن کی حدود سے گیسٹرو کے سینکڑوں مریض سامنے آ گئے ہیں ۔ان ٹاؤنوں سے گزشتہ 48گھنٹوں میں شہر کے سرکاری و غیر سرکاری ہسپتالوں اور پرائیویٹ کلینکس میں 3780 مریض سامنے آ چکے ہیں جن میں گیسٹرو کی تصدیق ہو گئی ۔سب سے زیادہ مریضوں کا تعلق راوی ٹاؤن کی حدود میں ہے جن کی تعداد 1780ہے صرف شاہدرہ ہسپتال میں 725مریض گیسٹرو میں مبتلا ہو کر آئے ہیں ۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ گیسٹرو ،پیٹ کی انتڑیوں کی سوزش ،معدے کی سوزش کا مرض ہے جو آلودہ پانی سے ہوتا ہے اور اس کی بڑی وجہ آلودہ پانی گلی سڑی سبزیاں ،پھل اور باسی کھانا ہیں۔حکومت نے گزشتہ پانچ سالوں میں شہر سے گیسٹرو کے مرض کے خاتمے کے لیے گیسٹرو پیکج متعارف کرایا جس کے تحت ہر ٹاؤن میں واسا کو اربوں روپے کے فنڈجاری کیے ان فنڈز کا بڑا حصہ راوی ٹاؤن کی حدود میں خرچ کیا گیا جس میں زیادہ تر حصہ رکن قومی اسمبلی ملک ریاض کے علاقہ شاہدرہ ،جیاٰ موسی ،ماچس فیکٹری ،یوسف پارک ،شاہدرہ پنڈ پر خرچ کیا گیا ۔ذرائع کے مطابق ان علاقوں میں فرضی پائپ ڈال کر وصولیاں کرائی گئیں جہاں واٹر سپلائی کے پائپ ڈالے ہی نہیں گئے ۔اس طرح دیگر ٹاؤنوں میں بھی گیسٹرو کے سینکڑوں مریض سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں ۔اس حوالے سے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ 48گھنٹوں میں مجموعی طور پر 4ہزار کے قریب گیسٹرو کے مریض سامنے آئے ہیں ۔گیسٹرو ہیکج کی ناکامی سے لگتا ہے کہ گیسٹرو پیلج کے تحت کام ہو ا ہی نہیں کیونکہ گیسٹرو کے مرض کا موسم مون سون ہے مگر اس مرتبہ مئی میں ہی مریض سامنے آنا حیران کن ہے جبکہ ڈی سی او لاہور کیپٹن (ر) عثمان کا کہنا ہے کہ گیسٹرو پیکج کے تحت جو کام ہوا اس کی رپورٹ طلب کی جائے گی اگر اس میں گھپلے پکڑے گئے تو متعلقہ افسروں کے خلاف کارروائی ہو گی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1