سید علی گیلانی کے پاسپورٹ کا فیصلہ حقائق اور تفصیلات کا مطالعہ کرنے کے بعد کیا جائے گا ‘بھارت

سید علی گیلانی کے پاسپورٹ کا فیصلہ حقائق اور تفصیلات کا مطالعہ کرنے کے بعد ...

نئی دہلی، جموں ، سری نگر (کے پی آئی) بھارتی وزیر اعظم کے دفتر میں تعینات وزیر مملکت ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے کہا ہے کہ سید علی گیلانی کو پاسپورٹ جاری کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ حقائق اور تفصیلات کا مطالعہ کرنے کے بعد کیا جائے گا۔ جمون میں اخبار نویسون سے بات چیت کرتے ہوے ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے کہا کہ سید علی گیلانی کو پاسپورٹ اجراکرنے کا فیصلہ وزارت خارجہ نے کرنا ہے ۔ حقائق اور تفصیلات کے ساتھ تمام اداروں کی رائے جاننے کے بعد ہی فیصلہ ہوگا ۔اکٹر سنگھ کا کہنا تھا وزارت خارجہ اس معاملہ کو دیکھے گی۔

اور اس پر فیصلہ لے گی اورمیں اس پر کوئی فیصلہ لینے کا مجاز نہیں ۔۔ واضح رہے کہ ریاستی بی جے پی کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ گیلانی کو بھارت مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے پاسپورٹ جاری نہیں کیا جانا چاہئے جب تک کہ وہ اپنے طرز عمل پر معافی نہ مانگ لیں۔ دریں اثنا مقبوضہ کشمیر کی حکمران جماعت پی دی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ گیلانی کو پاسپورٹ جاری کرنا ایک خالص انسانی مسئلہ ہے اور ہمارا موقف واضح ہے کہ ان کو فورا پاسپورٹ جاری کیا جانا چاہئے ایک انٹرویو مین انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں وزیر خارجہ کو حتمی فیصلہ لینا ہے تاہم اس بات کو ہم یقینی بنائیں گے کہ ان کو پاسپورٹ ملے۔ ہم وزارت خارجہ سے کہیں گے کہ گیلانی صاحب کو اپنی اہلیہ اور بیٹے سمیت پاسپورٹ دیا جائے کیونکہ ان کی بیٹی کو اپنے باپ کا دیدار کرنے سے محروم نہیں کیا جانا چاہئے۔محبوبہ کا کہنا تھا کہ گیلانی کو 2007،2008 اور2011میں پاسپورٹ کی پیش کش کی گئی تھی تاہم انہوں نے لینے سے انکار کر دیا تھا ۔ محبوبہ کا کہنا تھا کہ محمد یاسین ملک،شبیر شاہ اور میر واعظ سمیت دیگر حریت رہنماوں کے پاس پاسپورٹ ہیں اور وہ پاکستان سمیت بیرون ملک دورہ کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا گیلانی کے معاملے میں ہمارا موقف واضح ہے کہ ان کو جلد از جلد پاسپورٹ اجراہونا چاہئے اور ہمیں امید ہے کہ ان کو پاسپورٹ جاری کر دیا جائے گا۔ دوسری طرف سی آئی ڈی نے علی گیلانی کے بیٹے اور اہلیہ کی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے ۔انہوں نے گذشتہ روز پاسپورٹ دفتر جاکر بیومیٹرک لوازمات پورے کر لئے تھے۔ریجنل پاس پورٹ آفیسر سرینگر کا کہنا ہے کہ گیلانی کی اہلیہ اور بیٹے نے گذشتہ روز دفتر آکر لوزامات پورے کئے ۔ سید علی گیلانی کی آمد بھی متوقع تھی لیکن وہ نہیں آئے۔حریت کانفرنس گ کے ترجمان ایاز اکبر کا کہنا ہے کہ گیلانی کو گھر سے نکلنے کی اجازت ہی نہیں دی گئی ۔ڈی جی پولیس کے راجندرا کا کہنا تھا کہ گیلانی کو کوئی پاس پورٹ دفتر جانے سے نہیں روکے گا۔ادھر کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا ریاستی شاخ کے سیکریٹری محمد یوسف تاریگامی اور پی ڈی ایف کے صدر حکیم محمد یاسین نے ریاستی حکومت سے اپیل کی ہے کہ سید علی گیلانی کو پاسپورٹ جاری کرنا ممکن بنایا جائے ۔اپنے مشترکہ بیان میں دونوں لیڈران نے کہا کہ گیلانی کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاسپورٹ اجراکیا جانا چاہئے۔ان کا کہنا تھا کہ گیلانی کی پاسپورٹ کیلئے درخواست کو سیاسی رنگت نہیں دی جانی چاہئے کیونکہ وہ اپنی علیل بیٹی سے ملنے کیلئے یہ دستاویز طلب کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ حریت پسند خیمہ میں کئی لوگوں کے پاس سفری دستاویزات ہیں اسلئے گیلانی کا پاسپورٹ روکنا عقل مندی کی بات نہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ ان کی سیاسی نظریہ سے اتفاق کیا جائے مگر محض نظریات کی بنا پر ان کو اپنی بیٹی سے ملنے سے روکا نہیں جاسکتا۔

مزید : عالمی منظر