بیت المقدس کو یہودیانے کے منظم صہیونی چیلنج کا سامناہے ٗ ترک وزیر مذہبی امور غورمار

بیت المقدس کو یہودیانے کے منظم صہیونی چیلنج کا سامناہے ٗ ترک وزیر مذہبی امور ...

انقرہ (این این آئی) ترکی کے وزیربرائے مذہبی امور محمد غورمارنے کہا ہے کہ عالم اسلام کو صہیونیوں کے ہاتھوں بیت المقدس کو یہودیت میں رنگے جانے کے سنگین خطرے اور چیلنج کا سامنا ہے ٗبیت المقدس میں اسرائیل جو کھیل کھیل رہا ہے وہ ہماری دینی اورقرآنی عقیدے کے خلاف ہے کیونکہ بیت المقدس ہمارے عقیدے اور ایمان کا جزو ہے۔ان خیالات کا اظہار مقبوضہ مغربی کنارے کے بیت لحم شہرمیں منعقدہ چھٹی عالمی القدس کانفرنس سے خطاب کے موقع پرکیا۔ کانفرنس میں فلسطینی وزیراعظم رامی الحمد اللہ، اردن کے چیف جسٹس احمد ھلیل اور دیگر فلسطینی اور غیرملکی مسلم اور مسیحی رہ نما بھی موجود تھے۔ ترک وزیرمذہبی امورنے کہا کہ اسرائیل نے بیت المقدس کا نقشہ یہودی آبادی بڑھانے کے زور پرتبدیل کرنا شروع کررکھا ہے۔ ہم اسرائیل کے آبادیاتی اور سیاسی تغیرکو کسی صورت میں تسلیم نہیں کرتے ہیں یہودی جتھوں کوآباد کرنے سے بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی حیثیت ختم نہیں ہوجاتی۔ترک وزیرنے کہاکہ ہم ترک شہریوں کے بیت المقدس کی زیارت کا شرف حاصل کرنے پرکام کررہے ہیں تاکہ ترک عوام کو بھی بیت المقدس کی تاریخی اسلامی حیثیت سے روشناس کیا جاسکے ۔

اوراس کی مذہبی اہمیت کو بھی ان کے دلوں میں جاگزیں کیا جائے۔محمد غورماز نے کہاکہ مسلمان واقعہ معراج پرفخرکرتے ہیں اور مقام معراج پرآج غاصب یہودیوں کا قبضہ ہے واقعہ معراج نہ صرف مسلمانوں کو قبلہ اول سے جوڑتا ہے بلکہ مسجد اقصیٰ کو مسجد حرام اور مسجد نبوی کا جزو بنا تا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالم اسلام اس وقت بیت المقدس کو یہودیانے کی منظم سازشوں کا سامنا کررہے ہیں۔ یہودیوں کی سازشیں مسلمانوں کے قرآنی عقیدے کے خلاف ہیں ٗبیت المقدس ہمارے ایمان اور عقیدے کا حصہ بن چکا ہے۔ترک وزیرنے کہاکہ بیت المقدس کو صرف فلسطینیوں کا مسئلہ سمجھ کرنظراندازنہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ پوری مسلم امہ کا اجتماعی مسئلہ ہے اور اس کی آزادی کیلئے سب کومل کرکام کرنا ہوگا۔

مزید : عالمی منظر