سیدصلاح الدین کوئی دہشت گرد نہیں، بلکہ ایک آزادی پسند مجاہد لیڈر ہیں‘ حریت کانفرنس

سیدصلاح الدین کوئی دہشت گرد نہیں، بلکہ ایک آزادی پسند مجاہد لیڈر ہیں‘ حریت ...

سری نگر(کے پی آئی) کل جماعتی حریت کانفرنس گ نے حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کے خلاف بھارتی حکومت کے تازہ چارج شیٹ تیار کرکے کارروائی کرنے کے منصوبے کو بلاجواز، غیر منصفانہ اور بوکھلاہٹ سے تعبیر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موصوف کوئی دہشت گرد نہیں بلکہ ایک آزادی پسند لیڈر ہیں اور وہ کشمیری عوام کی امنگوں اور آرزوں کی تکمیل کے لیے ایک جائز جدوجہد میں مصروفِ عمل ہیں۔۔ حریت ترجمان نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں کو صلاح الدین کے خلاف اقوامِ متحدہ جانے کے بجائے ان 18قراردادوں کو عملانے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، جو پہلے ہی اس عالمی ادارے میں التوا میں پڑی ہیں اور جن میں کشمیری قوم کا حقِ خودارادیت واگزار کرانے کی سفارش کی گئی ہے اور جن کے نافذالعمل نہ ہونے کی وجہ سے ہی محمد یوسف شاہ ایک پولیٹکل سائینٹسٹ سے صلاح الدین بننے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ منگل کے دن جاری اخباری بیان میں حریت کانفرنس نے کہا کہ صلاح الدین کا عالمی دہشت گردی یا تخریب کاری کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہے اور وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہر سیاسیات ہیں۔ کشمیر بین الاقوامی سطح کا ایک تسلیم شدہ تنازعہ ہے اور صلاح الدین کی ساری سرگرمیاں اور کاوشیں اس قضئے کے عوامی خواہشات کے مطابق حل پر مرکوز ہیں۔اُ ن کے رول کی نوعیت بھارت کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے نیتا جی سبھاش چندر بھوس اور بھارتی ہیرو بھگت سنگھ سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے اور وہ بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے سرفروشی کے راستے پر نکل پڑے ہیں۔

حریت بیان میں کہا گیا کہ بھارت کو صلاح الدین صاحب کا مسئلہ اقوامِ متحدہ میں لے جانے کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز نہیں بنتا ہے، کیونکہ وہ اس ادارے کی اعتباریت کو پچھلی نصب صدی سے نکارتا آیا ہے اور کشمیر کے حوالے سے جو سفارشات یو این او(UNO)نے کی ہیں، ان کو بھات مکرّر مسترد کرتا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ جموں کشمیر میں ریفرنڈم کرانے کے مطالبے کو جائیز تسلیم کرتا ہے، البتہ بھارت صرف اپنی ملٹری مائیٹ کے بل بوتے پر کشمیر پر قابض ہے اور وہ اپنی فوجی قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے اس خطے میں عام شہریوں کے حقوق کو بے دریغ طریقے سے پامال کررہا ہے اور ان پر مظالم ڈھارہا ہے۔ حریت کانفرنس نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ بھارت کشمیر کو لیکر زمینی حقائق سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہے، البتہ اس پالیسی سے وہ پچھلے 68سال سے کچھ حاصل کرسکا ہے اور آئندہ 60سال تک بھی بھارت اپنی اکڑ پر قائم رہے تو اس سے بھی کشمیر کے سچ کو تبدیل کیا جانا ممکن نہیں ہے۔ بھارتی حکمرانوں کو اپنی کشمیر پالیسی پر نظرثانی کرنے کے لیے مجبور تو نہیں کیا جاسکتا ہے، البتہ اس پالیسی کی کوئی منزل نہیں ہے۔

مزید : عالمی منظر