پولیس کالج سہالہ میں 411 سب انسپکٹرز کی پاسنگ آؤٹ پریڈ

پولیس کالج سہالہ میں 411 سب انسپکٹرز کی پاسنگ آؤٹ پریڈ

اللہ تعالیٰ نے پاکستانی قوم کو کمال حوصلے سے نوازا ہے کہ انسانی تاریخ کی بدترین دہشت گردی کے دور سے گزرنے کے باوجود پوری قوم متحد اور یکسو ہے اور بے گناہ انسانوں کی جان لینے کے خاتمے کے عزم پر متفق ہیں۔ دہشت گردی کے سفاکانہ واقعات کو دیکھ کر شاید ہی کوئی انسانی آنکھ ہو جس نے آنسو نہ بہائے ہوں۔ ملکی تاریخ کے نازک لمحات میں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے بے مثال بصیرت‘ عزم و ہمت اور یگانگت کا بے مثال مظاہرہ کیا ہے۔ قوم حکومت اور سیاسی قیادت کے شانہ بشانہ قابل دید معاشرہ تشکیل دینے کے لئے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ کرنے کا تہیہ کرچکی ہے۔ سانحہ پشاور کے بعد سانحہ صفور چورنگی کراچی نے قوم کو دشمن کو پہچاننے اور تمام تر توانائیوں سے اس کے خلاف یکسو ہونے کا تاریخی موقع فراہم کیا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے ذریعے ہماری قابل فخر پاک فوج نے دہشت گردوں کی کمرتوڑ کر رکھ دی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لئے برق رفتار موثر اقدامات کئے۔ محمد شہبازشریف نے ملک و قوم کے ساتھ اپنی لازوال محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاشرے کے مقتدر‘ بااختیار‘ موثر اور صائب الرائے طبقات کو دہشت گردی کے خلاف متحرک کرنے کے لئے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ پنجاب میں دہشت گردی کے خلاف حکومتی اقدامات کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لئے ضروری آرڈی نینس جاری کئے گئے۔ اسلحہ کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے پنجاب اسلحہ ترمیمی آرڈیننس 2015ء جاری کیا گیا۔ نفرت اور شرانگیز پراپیگنڈے پر قابو پانے کے لئے وال چاکنگ ممانعت آرڈیننس 2015ء لایا گیا۔ حساس تنصیبات کے تحفظ کا آرڈیننس اور کرایہ داری آرڈیننس 2015ء بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

صوبہ پنجاب میں جدید ترین تربیت یافتہ کاؤنٹر ٹیررازم فورس کا قیام نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پڑھے لکھے نوجوانوں پر مشتمل انسداد دہشت گردی فورس‘ جدید آلات‘ اسلحے اور ہیلی کاپٹر سے لیس ہو گی۔ صوبے میں ریپڈرسپانس فورس کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے۔ لاہور سمیت صوبے کے 5 ڈویژنوں میں جدیدترین فرانزک لیب قائم کی جا رہی ہیں۔ سیف سٹی پراجیکٹ کا آغاز لاہور سے کر دیا گیا ہے۔ جلد ہی اس کا دائرہ کار صوبے کے پانچ بڑے شہروں تک بڑھا دیا جائے گا۔ صوبہ بھر کے مدارس کی ڈیجیٹل میپنگ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

پاکستانی قوم دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی جنگ لڑ رہی ہے اور اس جنگ میں پاک افواج اور پولیس کے افسروں و جوانوں نے لازوال قربانیاں دی ہیں اور قوم کو ان عظیم قربانیوں پرفخر ہے۔ دہشت گردی کو گولی کے ذریعے تباہ و برباد کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے مکمل خاتمے کے لئے سماجی و معاشی اقدامات او رہر سطح پر انصاف کا بول بالا کرنا ہو گا۔ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے منتخب ہونے والے گوہر نایاب اعلی تعلیم یافتہ پولیس سب انسپکٹرز عملی زندگی میں تھانہ کلچر میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ پنجاب حکومت میرٹ اور انصاف یقینی بنانے کے لئے پولیس کی تربیت اور بہتری کے لئے پیٹ کاٹ کر تمام وسائل فراہم کر رہی ہے اور مستقبل میں بھی پولیس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کیلئے وسائل فراہم کئے جائیں گے۔ اگر ہم میرٹ اور انصاف پر مبنی نظام قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو دنیا کی کسی بھی قوم سے پیچھے نہیں رہیں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر تھانہ کلچر بدل دیں تو پھر پاکستان کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکے گا۔

پولیس کالج سہالہ میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے منتخب ہونے والے 411سب انسپکٹرز کی ٹریننگ کی تکمیل پر پاسنگ آوٹ پریڈ کے موقع پر وزیر اعلیٰ محمد شہبازشریف خود پہنچے اور تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے نے تربیت مکمل کرنے والے سب انسپکٹرز کی پریڈ کا معائنہ کیا اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سب انسپکٹرز میں شیلڈز اور انعامات تقسیم کیے ۔ وزیراعلیٰ نے سب انسپکٹرز کو تربیت دینے والے ٹرینرز کیلئے 25 لاکھ روپے کے خصوصی انعام کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ نے پولیس کالج سہالہ کے ملازمین کو بگ سٹی الاؤنس دینے کا بھی اعلان کیا۔

وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے اس موقع پر پاسنگ آوٹ پریڈ کی تقریب سے فکر انگیز خطاب کیا اور بتایا کہ پولیس میں خالصتاً میرٹ پر افسران اور ملازمین بھرتی کرنے کا سفر مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 1998 میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سے ڈائریکٹ انسپکٹرز بھرتی کر کے شروع کیا تھا لیکن یہ سفر 12 اکتوبر کے غیر آئینی اقدام کی وجہ سے وہیں رک گیا۔ تھانہ کلچر کی تبدیلی کے خواب کا سفر آج دوبارہ شروع ہو چکا ہے اور یہ امر انتہائی اطمینان بخش ہے کہ پاس آوٹ ہونے والے افسران میں ایک پی ایچ ڈی، 22 ایم فل، 31 انجینئر، 34 ایل ایل بی، 17 ایم بی اے، 35 ایم سی ایس،48 ایم اے اور باقی شاندار تعلیمی ریکارڈ رکھنے والے گریجوایٹس شامل ہیں اور سب سے بڑھ کر 411 کے بیج میں 76 اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین افسران نے بھی پولیس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ دوران تربیت پولیس افسران کو غیر ملکی اداروں سمیت اعلی معیار کی تربیت اور ماہرین کے خصوصی لیکچرز کے ساتھ ساتھ مقدمات کی تفتیش کی عملی تربیت فراہم کی گئی ہے۔ عالمی اداروں کے ساتھ پولیس افسران کو جدید خطوط پر تربیت فراہم کرنے کے لئے جاری شراکت اور معاونت کو مزید مستحکم اور فروغ دیا جائے گا۔ اعلی تعلیم یافتہ پولیس افسران قوم کی امید ہیں اور اگر ہم تھانہ کلچر میں تبدیلی لانے اور بلاتفریق لالچ، دھونس و دھاندلی کا خاتمہ کرکے انصاف کا بول بالا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو دنیا کی کسی قو م سے بھی پیچھے نہیں رہیں گے۔ 1998 میں سفارش کے بغیر خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر پولیس اور دیگر شعبوں میں بھرتیو ں کے نظام کی بنیاد ڈالی گئی تھی اور اسی نظام کی بدولت سب انسپکٹرز کے موجودہ بیج میں ایک مزدوری کرنے والا بچہ جس نے محنت کر کے ماسٹرز کی ڈگری اور گولڈ میڈل حاصل کیا وہ آج میرٹ پر منتخب ہو کر پاس آؤٹ ہو رہا ہے اور مجھے یقین ہے کہ میرٹ پر منتخب ہونے والے یہ پولیس افسران زندگی میں انصاف اور میرٹ کو اپنا زیور بنائیں گے۔پنجاب حکومت نے صوبے میں تھانہ کلچر کو بدلنے کیلئے پولیس کے امیج کو بہتر بنانے کی جانب توجہ دی ہے۔ نظم و ضبط، تربیت، خوش اخلاقی اور موثر انداز میں جرائم سے نمٹنا پنجاب پولیس کی خاصیت ہے۔

وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے پاسنگ آؤٹ پریڈ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تربیت مکمل کرنے والے قوم کے بیٹوں اور بیٹیاں مبارکباد کے مستحق ہیں۔آپ جیسے قابل اور بہادر سپوتوں پر قوم کو فخر ہے اور خوشی ہے کہ قوم کی بڑی تعداد پنجاب پولیس میں شامل ہو رہی ہے تاکہ انصاف کا بول بالا ہو اور عام آدمی کی حقیقی معنوں میں دادرسی ہو سکے۔ حکومت نے 1998 میں پولیس میں میرٹ پر بھرتیوں کے سفر کا آغاز کیا تھا، تاہم بدقسمتی سے ملک کی تاریخ میں 12 اکتوبر کا سیاہ دن آیا جس کے بعد قوم کے یہ گوہر نایاب زمانے کے چکر اور زندگی کے تھپیڑوں میں کھو گئے اور پنجاب کے عوام ان سے فیضیاب نہ ہو سکے۔

سہالہ کالج میں زیر تربیت سب انسپکٹروں کی پاسنگ آؤٹ پریڈ اسی سفر کا تسلسل ہے جس کا آغاز1998 میں کیا گیا تھا۔ بلاشبہ یہ سفر اب رواں دواں ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس مشتاق سکھیرا اور کمانڈنٹ سہالہ کالج کی سربراہی میں پنجاب حکومت کی پوری سپورٹ کے ساتھ سب انسپکٹرز کو جدید تربیت دی گئی ہے۔ قوم یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہے کہ یہ سب انسپکٹرقابلیت اور عزم کے ساتھ عام آدمی کی دادرسی کریں گے جس کی گواہی پنجاب کا کونا کونا دے گا۔ یہ سب انسپکٹرز تھانہ کلچر میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ یہ قابل نوجوان قوم کیلئے امید کی کرن ہیں اور پاکستان کے 18 کروڑ عوام بالعموم اور پنجاب کے 10 کروڑ عوام بالخصوص نئے تربیت یافتہ سب انسپکٹرز کی طرف دیکھ رہے ہیں اور انہیں انصاف پہنچانا ان کی اولین ذمہ داری ہے۔ پولیس نظام تھانے کی سطح پر تبدیل ہو جائے تو پاکستان کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اگر انصاف بلا تفریق اور بلاامتیاز ملے تو اس قوم کا دنیا میں کوئی اور قوم مقابلہ نہیں کر سکتی۔ قائدؒ اور اقبالؒ کا خواب تبھی پورا ہوگا جب ملک میں انصاف کا بول بالا ہوگا، میرٹ کی حکمرانی ہوگی، محنت، امانت اور دیانت کا راج ہوگا، یہی ترقی کا راستہ ہے اور اسی پر ہمیں چلنا ہے۔

وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور جرائم کے خاتمے کیلئے پولیس کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس کے افسروں، جوانوں اور ان کے بچوں نے عظیم قربانیاں دی ہیں اور یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، پوری قوم کو ان قربانیوں پر فخر ہے۔ پاک افواج کے افسروں اور جوانوں نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں اور افواج پاکستان نے آپریشن ضرب عضب کے دوران دہشت گردوں پر کاری ضرب لگائی ہے۔ انشااللہ وہ وقت آئے گا جب ملک سے دہشت گردی کا ہمیشہ ہمیشہ کیلے خاتمہ ہوگا کیونکہ دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر پاکستان ترقی و خوشحالی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔ یہ جنگ جیتنے کیلئے بندوق کی گولی کے ساتھ سماجی و معاشی انصاف کی گولیاں بھی ضروری ہیں۔ اگر پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے تو بوسیدہ نظام کا خاتمہ کرنا ہوگا اور ایسا نظام تشکیل دینا ہوگا جہاں امیر و غریب کا فرق نہ ہو، جہاں سب کو انصاف ملے، تعلیم و صحت کی یکساں سہولتیں اور ترقی کے برابر کے مواقع دستیاب ہوں کیونکہ حضرت علیؓ کا قول ہے کہ کفر کا نظام زندہ رہ سکتا ہے ناانصافی کا نظام نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا جرائم کے خلاف جدوجہد پولیس کی جرات اور بہادری کی شاندار مثالیں موجود ہیں ۔اگر پولیس کی اچھی کارکردگی کی مثالیں زیادہ اور غفلت اور ناقص کارکردگی کی مثالوں میں کمی آ جائے تو حکومت ہی نہیں بلکہ عام شہری بھی خود بخود پولیس کا احترام اور انہیں سلیوٹ کرے گا۔

وزیر اعلیٰ محمد شہبازشریف نے پولیس سب انسپکٹرز کے ٹاپ تھرٹی ٹرینرز کو مزید جدید تربیت حاصل کرنے کے لئے بیرون ملک بھجوانے ، پولیس کالج ملازمین کوبگ سٹی الاؤنس دینے اور سب انسپکٹرز کو تربیت فراہم کرنے والے ماہرین، اساتذہ اور ٹرینرز کو 25 لاکھ روپے بطور انعام دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے گیسٹ سپیکرز کی طرف سے پولیس کالج سہالہ میں آ کر خصوصی لیکچرز دینے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس موقع پر پاس آؤٹ ہونے والے پولیس افسران ان کے والدین اور عزیز و اقارب کو مبارکباد دی۔ وزیر اعلیٰ نے پولیس کالج سہالہ کی مہمانو ں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں پولیس افسران کے اعلی تربیتی ادارے کا دورہ کر کے دلی اطمینان اور خوشی ہوئی۔ اس موقع پر مرد اور خواتین سب انسپکٹرز نے آنکھوں پر پٹی باندھ کر جدید ہتھیاروں کو کھولنے اور جوڑنے کا مظاہرہ بھی کیا۔صوبائی وزیر داخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ، ہوم سیکرٹری پنجاب میجر (ر) اعظم سلمان، آئی جی پولیس پنجاب مشتاق احمد سکھیرا، کمانڈنٹ پولیس کالج سہالہ ڈی آئی جی عامر ذوالفقار، کورس کمانڈنٹ پولیس کالج سہالہ ایس ایس پی علی محسن، منشیات اور جرائم کے بارے میں پاکستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ مسٹر سیسر گوڈیف (Mr.Cesav Guedf ) اور کولی براؤن (Mr.Collie Brown ) سمیت سول اور پولیس سنیئر حکام پاس آوٹ ہونے والے سب انسپکٹرز اور ان کے عزیز و اقارب کی بڑی تعداد اس موقع پر موجود تھی۔

***

مزید : ایڈیشن 1