کڑھائی والے لباس خواتین کے لئےہمیشہ من پسند رہے ہیں

کڑھائی والے لباس خواتین کے لئےہمیشہ من پسند رہے ہیں

دنیا کے ہر علاقے اور خطے کی خواتین اپنے مقامی رہن سہن کے مطابق ملبوسات پسند کرتی ہیں۔ کہیں تو بڑے قیمتی لباس استعمال کئے جاتے ہیں اور کہیں خواتین سادہ ملبوسات پسند کرتی ہیں۔ مغربی ممالک میں تو خواتین لباس کا استعمال نہ ہونے کے برابر کرتی ہیں، لیکن ان کا یہ لباس بھی اس قدر قیمتی اور فیشن کے مطابق ہوتا ہے کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مشرقی خواتین شرم وحیاء کا پیکر ہوتی ہیں، ان کے ملبوسات خواہ کتنے ہی قیمتی یا فیشنی کیوں نہ ہوں۔ ان میں اسلامی ثقافت کا عکس نمایاں ہوتا ہے۔

پاکستانی خواتین بھی اپنے مقامی رہن سہن کے مطابق ملبوسات استعمال کرتی ہیں۔ بالخصوص بڑے شہروں کی خواتین کے ملبوسات اور دیہی علاقوں کی خواتین کے ملبوسات میں زمین، آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے غریب اور امیر کا فرق، کہیں موتیوں سے جڑے اور بھاری کامداری ملبوسات اور کہیں بالکل سادہ، ہلکے پھلکے اور خوبصورت رنگوں کے ملبوسات استعمال ہوتے ہیں۔ امیر طبقے کی خواتین ہوں یا غریب طبقے کی، یہ دیہات میں رہنے والی الہر مٹیار ہو یا شہر میں رہنے والی دوشیزہ کڑھائی کئے ہوئے ملبوسات ان سب کی کمزوری بھی ہیں اور پسند بھی۔ اب تو کڑھائی کئے ہوئے ایسے ایسے ملبوسات مارکیٹ میں دستیاب ہیں اور ان پر اس قدر دیدہ زیب اور بہترین کڑھائی کی ہوتی ہے کہ خواتین کو ان میں انتخاب کرتے ہوئے شدید مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خواتین کپڑے پر باریک دھاگے کی کڑھائی کو بہت پسند کرتی ہیں اور بعض ملبوسات میں بھاری بھرکم کڑھائی بھی کی جاتی ہے، لیکن دھاگہ ہلکا ہی استعمال کیا ہے۔ ان ملبوسات پر کڑھائی زیادہ تر بازؤں، گلے اور گھیرے پر کی جاتی ہے۔ یہ دیکھنے میں اس قدر خوبصورت اور سادہ لگتی ہے کہ اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

زمانہ قدیم سے کڑھائی والے لباس خواتین بالخصوص لڑکیوں کے من پسند رہے ہیں۔ آج کل تو ان ملبوسات کا استعمال بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ لڑکیاں کالجوں، یونیورسٹیوں کے فنکشن، شادی، بیاہ اور دیگر تقریبات میں دلنشین رنگوں کے کڑھائی کئے ہوئے لباس پہن کر شریک ہوتی ہیں انہیں دیکھ کر ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کہ نرم ونازک تتلیاں، پہلے خواتین اپنے ہاتھ سے لباس پر خوبصورت بیل، بوٹے اور پھولوں کی کڑھائی کرتی تھیں، یہ بڑا مشکل اور صبر آزما کام تھا، اب اس مقصد کے لئے مشین استعمال کی جاتی ہیں، جو انتہائی باریک دھاگے سے اس قدر نفیس کڑھائی کرتی ہیں کہ لڑکیوں کو ان کے انتخاب میں بڑی دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آج کل ویسے بھی گلے اور پورے بازوؤں پر کڑھائی کئے ہوئے ملبوسات کا فیشن عام ہے یہ ملبوسات پہن کر خواتین کی شخصیت بھی نکھرتی ہے اور ان کے وقار میں بھی اضافہ ہوتا ہے، اب تو جگہ جگہ بوتیک کھل گئے ہیں، ان میں ترتیب سے لگے ہوئے رنگ برنگے ملبوسات اتنے دلکش لگتے ہیں جسے قوس قزح کے رنگ۔ دیہاتوں میں بھی کڑھائی کئے ہوئے ریڈی میڈ ملبوسات فروخت ہو رہے ہیں۔ویسے کڑھائی کئے ہوئے ملبوسات کا فیشن کبھی پرانا نہیں ہوتا بلکہ روز بروز اس میں جدت آرہی ہے۔

کڑھائی کئے ہوئے ملبوسات ہماری خاندانی روایات اور ثقافت کا حصہ ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک پلین کپڑوں پر کڑھائی کا فیشن تھا، لیکن آج کل پرنٹیڈ کپڑوں کے ساتھ ساتھ لون پر کڑھائی کا فیشن عام ہوتا جا رہا ہے۔ کڑھائی کئے ہوئے ریڈی میڈملبوسات اس طرح ڈیزائن کئے جاتے ہیں کہ خواتین خواہ چھوٹے قد کی ہوں یا لمبے، پتلی ہوں یا فربہ، یہ لباس ان خواتین پر اس قدر بھلے لگتے ہیں کہ وہ اپنی عمر سے آدھی کی نظر آتی ہیں۔ بحرحال کڑھائی کئے ہوئے یہ ملبوسات سستے ہیں یا مہنگے لیکن پہننے والی لڑکی کی شخصیت اور خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے ہیں اور بہار کا ایسا سماں پیش کرتے ہیں جسے بھلایا نہیں جاسکتا ۔

***

مزید : ایڈیشن 2