تاخیر انصاف کے منافی ہے

تاخیر انصاف کے منافی ہے
تاخیر انصاف کے منافی ہے

  

چند روز پہلے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منظور احمد ملک نے کہا ہے کہ وکلاء کو ہڑتالوں کا کلچر ختم کرنا ہوگا ،کیونکہ اس سے عوام کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ راولپنڈی ہائی کورٹ بار کے دورے کے دوران وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تاثر ختم کرنا ہے کہ دادے کے کیس کا فیصلہ پوتا سنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیسوں کا بروقت فیصلہ نہ ہونے کی ایک وجہ ججوں کی کمی ہے۔میں ماتحت عدالتوں کی بات کر رہا ہوں۔۔۔ 1988ء میں میرا ایک کیس سول جج کی عدالت میں لگا ہوا تھا ، میں کئی سال اس کی پیروی کرتا رہا ہوں۔ مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا بڑا سبب ہمارا معاشی اور سماجی نظام ہے۔ پھر عدالتی نظام میں قانون میں فنی باریکیاں بہت ہیں،ان کے بغیر کوئی قانون نہیں ہے۔ پروسیجر کو پورا کرتے کرتے بہت وقت لگ جاتا ہے۔ ہمارے ہاں برٹش لاء ہے ۔ پی پی سی، سی پی سی کریمنل پروسیجر کوڈ اور دوسرے بہت سے ایکٹ انگریز کے وقت کے ہیں جنہیں ابھی تک اسلامی دائرہ کار میں نہیں لایا جا سکا ۔قانون شہادت کو تھوڑا سا اسلامی رنگ دیا گیا ہے ،لیکن مکمل طور پر نہیں ،سعودی عرب میں جو نظام عدل ہے وہاں قانون بڑا سخت ہے، اسی میں فیصلے بہت جلدی ہو جاتے ہیں، وہاں اسلامی نظام عدل ہے۔

کیسوں میں تاخیر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تعمیل کندہ (پیادے) جب مدعا علیہ کے پاس نوٹس لے کر جاتے ہیں تو اکثر مدعا علیہان ان سے خیر سگالی کے تعلقات بنا لیتے ہیں ،یوں مدعا علیہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔جج صاحبان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ مقدمات کا فیصلہ جلد کر دیں ،لیکن کئی عوامل اس میں سدراہ بن جاتے ہیں۔ وہ مدعا علیہان کی تعمیل ہو جانے کے بعد تنقیحات (issues) بنانے تک تو جلدی کر لیتے ہیں، لیکن جب شہادت کا مرحلہ آتا ہے تو کبھی پورے گواہ نہیں آتے ،کبھی وکیل صاحب کسی اور عدالت میں مصروف ہوتے ہیں۔ بعض اوقات جج صاحب چھٹی پر ہوتے ہیں۔سول ججوں کے ریڈر فیصلوں کے یونٹ بناتے ہیں جو ججوں کی کارکردگی کے مظہر ہوتے ہیں اور یونٹس (Units) افسران بالا کے پاس بھیج دیئے جاتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج صاحب اور سینئر سول جج صاحب سول ججوں کی عدالتوں میں راؤنڈ لگاتے رہتے ہیں اور ان کو جلد فیصلے کرنے کی تاکید کرتے ہیں۔

جہاں تک ججوں کی کمی کا تعلق ہے، اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ لاء کا امتحان بہت کم لوگ پاس کرتے ہیں۔ لاء میں کوئی چوائس نہیں ہے، جیسا کہ ایم اے میں ہے اس لئے بہت سے طالب علم لاء کالجوں میں داخلہ لے لیتے ہیں ،لیکن چونکہ مضمون خشک ہے لہٰذا مکمل نہیں کر پاتے۔ ماضی میں کچھ حکمران بھی نہیں چاہتے تھے کہ زیادہ طالب علم لاء کا امتحان پاس کر لیں کہ اس طرح وکیل زیادہ ہو جائیں گے، لہٰذا اُن ادوار میں مارکنگ قدرے سخت کر دی گئی۔ججوں کی کمی کو دور کرنے کا ایک حل یہ ہے کہ جس طرح ہائی کورٹ کے وکلاء (جن کی پریکٹس کم از کم سات سال ہو) کا تحریری امتحان اور انٹرویو لے کر ان کا تقرر بطور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کرتی ہے جو وکلاء (جن کی پریکٹس کچھ برس کی ہو گئی ہو) کے امتحانات لے کر انہیں سول جج مقرر کرے۔پی سی ایس جوڈیشل ایک کڑا امتحان ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک تو تحریری امتحان میں اگر ایگریگیٹ نمبر پچاس فیصد ہوتے تھے تو انہیں انٹرویو کے لئے بلایا جاتاتھا۔ بعض اوقات جتنی آسامیاں ہوتی ہیں، اتنے امیدوار ا متحان کوالیفائی نہیں کر سکتے۔ ایسی صورت میں کمیشن کو اپنا معیار تھوڑا سا کم کر دینا چاہئے اور جن کے ایگریگیٹ نمبر پچاس فیصد سے کم ہوں، انہیں انٹرویو کے لئے بلا لیا جائے، بعد میں یہ جج صاحبان اپنی پوزیشن بہتر کر لیں، جیسا کہ ماضی میں چند بار ہو چکا ہے۔سول ججوں کی زیادہ تعداد کے علاوہ وکلاء اور حکومت کے متعلقہ ادارے عوام کو جلد انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مزید : کالم