عمران خان اور ایاز صادق میں سے کس کی ہار اور کس کی جیت؟

عمران خان اور ایاز صادق میں سے کس کی ہار اور کس کی جیت؟
عمران خان اور ایاز صادق میں سے کس کی ہار اور کس کی جیت؟

  

این اے 125میں مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف پی ٹی آئی کے رہنما حامد خاں کی انتخابی عذر داری پر الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف خواجہ سعد رفیق کی پٹیشن پر سپریم کورٹ نے اپنا جو فیصلہ صادر کیا ہے، اُس پر گزشتہ سے پیوستہ کالم میں پوری تفصیل بیان کر چکا ہوں۔ اب نئی خبر یہ ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے خلاف بھی الیکشن ٹریبونل میں مبینہ انتخابی دھاندلی کی سماعت ہونے جا رہی ہے۔ سپیکر صاحب کے خلاف حلقہ این اے 122میں مبینہ انتخابی دھاندلی کی شکایت لے کر پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خاں الیکشن ٹریبونل میں پہنچے ہوئے ہیں جو خود اس حلقے میں ایاز صادق کے مخالف امیدوار تھے۔ الیکشن ٹریبونل کے جج کاظم علی ملک نے نادرا سے ووٹوں کی تصدیق کے حوالے سے رپورٹ طلب کی تھی اور فرانزک سائنس لیبارٹری سے بھی رپورٹ مانگی تھی، جہاں سے یہ رپورٹس سامنے آئیں کہ قریباً 83ہزار ووٹوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ خود چیئرمین نادرا نے بھی الیکشن ٹریبونل میں اصالتاً پیش ہو کر اپنا یہ تحریری بیان جمع کرایا کہ فرانزک سائنس لیبارٹری نے جو رپورٹ ٹریبونل کے روبرو پیش کی ہے، وہ اُس سے مکمل اتفاق کرتے ہیں، یعنی انہوں نے یہ بیان دے کر فرانزک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ پر مہر تصدیق ثبت کردی۔ اب ٹریبونل میں اس کیس کی سماعت کے بعد ہی جب فیصلہ سامنے آئے گا تو یہ معلوم ہو سکے گا کہ عدالت کس نتیجے پر پہنچی ہے اور اس کا حتمی فیصلہ کیا ہے؟

اب کسی فیصلے سے پہلے ہی پی ٹی آئی کے مختلف سینئر رہنماؤں نے ،جن میں خود عمران خاں بھی شامل ہیں، ایسے بیانات دینے شروع کر دئیے ہیں اور ایسا تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جاری ہے ، جیسے فیصلہ اُن کے حق میں آ گیا ہے۔ عمران خاں واضح طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی ایک اور وکٹ گرنے والی ہے۔ وہ 83ہزار ایسے ووٹوں کو بھی جعلی ووٹ قرار دے رہے ہیں جن کے بارے میں فرانزک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اُن کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اگرچہ ووٹوں کی تصدیق نہ ہونے کے عمل کو ایسی مخصوص سیاہی کا شاخسانہ قرار دیا گیا ہے جو الیکشن کمیشن نے مسترد کر دی تھی،یعنی یہ ایک ناقص سیاہی تھی، جس سے نشان انگوٹھا کے ’’امپریشن‘‘ واضح نہیں ہوتے۔ اب اس میں قصور ایاز صادق کا ہے یا الیکشن کمیشن کا؟ یہ تعین کرنا الیکشن ٹریبونل کا کام ہے اور اس کا تعین ہونا بھی ضروری ہے کہ جو غیر تصدیق شدہ ووٹ سامنے آئے، کیا وہ تمام کے تمام مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ایاز صادق کو ہی کاسٹ کئے گئے یا پی ٹی آئی کے حصّے میں بھی آئے۔ اگر کہیں کوئی بے ضابطگی یا نااہلی ثابت ہوتی ہے تو قصور وار الیکشن کمیشن کو ہی قرار دیا جائے گا۔ ایسے حالات میں پی ٹی آئی کا یہ کہنا کہ دھاندلی ثابت ہو گئی اور یہ منظم دھاندلی کا بین ثبوت ہے، کسی طرح بھی درست نہیں۔

سپریم کورٹ میں قائم ہونے والا اعلیٰ سطحی جوڈیشل کمیشن اس بات کی تحقیق اور اس الزام کے تعین کے لئے قائم کیا گیا ہے، وہاں فیصلہ ہونے دیں، اس سے پہلے پی ٹی آئی کا اپنا فیصلہ صادر کر دینا اور نادرا کی رپورٹ کو اپنے حق میں استعمال کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ خود الیکشن ٹریبونل اور جوڈیشل کمیشن کو اس کا نوٹس لینا چاہیے اور اس طرح کی بیان بازی پر پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ نجی ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز بھی اس حوالے سے کئی پروگرام پیش کر چکے ہیں، جس میں شرکائے حلقہ این اے 122کے حوالے سے پیش ہونے والی نادرا اور الیکشن کمیشن کی رپورٹس کو اپنے اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے ایسی آراء اور ایسا نقطہء نظر پیش کر رہے ہیں جو قانونی، اخلاقی اور عوامی نقطۂ نظر سے مناسب نہیں۔ ایسی گفتگو پر پابندی عائد ہونی چاہیے اور آئندہ کوئی ایسا پروگرام پیش ہو تو ایسے پروگرام یا پروگراموں پر توہین عدالت کے نوٹس جاری ہونے چاہئیں۔ عدالت چھوٹی ہو یا بڑی، اُس کا احترام ہم سب پر لازم ہے۔ ایسی کوئی بھی گفتگو عدالتی اور عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔ اسے ایک دباؤ بھی قرار دیا جا سکتا ہے، جسے ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا اور نہ برداشت کیا جانا چاہیے۔

این اے 122کے حوالے سے آنے والی خبروں نے مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے حامیوں کے دلوں کی دھڑکنیں تیز کر دی ہیں۔ سب کی نظر یں اب الیکشن ٹریبونل پر ہیں۔ جہاں اس کی سماعت ہونے جا رہی ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ آج کل عدالتیں آزاد ہیں اور آزادانہ ایسے فیصلے دیتی ہیں جو انصاف پر مبنی ہوں۔ اس لئے ہمیں امید ہے کہ جب این اے 122کے حوالے سے الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ آئے گا تو سیاست پر بھی اُس کے دُور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ سپریم کورٹ نے تو خواجہ سعد رفیق کے حق میں فیصلہ دے دیا، جس نے ایک بات ضرور ثابت کر دی ہے کہ جس الیکشن ٹریبونل نے این اے 125کا فیصلہ سنایا، اُس میں کافی قانونی سقم موجود تھے، جن کا فائدہ خواجہ سعد رفیق کے وکیل خواجہ حارث نے سپریم کورٹ میں اٹھایا اور فیصلہ اُن کے حق میں آ گیا۔ اس لئے فیصلوں میں تمام قانونی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے، تاکہ ابہام پیدا نہ ہو۔

مزید : کالم