لیڈرشپ اور بجٹ کی تیاری

لیڈرشپ اور بجٹ کی تیاری
لیڈرشپ اور بجٹ کی تیاری

  

بجٹ کی آمد آمد ہے جہاں ایک طرف فیڈرل بورڈ آف ریونیو دن رات بجٹ تجاویز مرتب کررہا ہے وہیں صنعت و تجارت کی تمام تنظیمیں اپنی کمیونٹی کے ایسے مسائل مرتب کرکے حکومت کو پیش کررہی ہیں جن کا حل نئے بجٹ میں موجود ہونا چاہئے۔ اس ضمن میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں محمد ادریس نے گزشتہ تین ماہ سے پورے پاکستان کے بھرپور دورے کرکے تمام چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور نئے بجٹ کے حوالے سے ان کی تجاویز مرتب کرنے کے بعد قابل عمل تجاویز کا انتخاب کیا گیا جو حکومت کو بجٹ سازی میں مدددیں۔ اس وقت صنعت و تجارت کی سیاست پر سب سے زیادہ اثرات پنجاب کی سطح پر پیاف اور فاؤنڈرز گروپ کے ہیں۔ حال ہی میں دونوں گروپوں کے چیرمینوں کا انتخاب ہوا ہے۔ پیاف گروپ نے اس مرتبہ سربراہی کا تاج عرفان اقبال شیخ کے سر پر رکھا ہے اور فاؤنڈر گروپ نے اعجاز بٹ کا انتخاب کیا ہے۔ شہزادہ عالم منوں کے انتقال کے بعد یہ سیٹ خالی چلی آرہی تھی اعجاز بٹ کے اعزاز میں لاہور جمخانہ میں ایک باوقار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں فاؤنڈر گروپ کے سابق صدر نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی۔

بزنس کمیونٹی کے لیڈر افتخار علی ملک نے اعجاز بٹ کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا، فاؤنڈر گروپ اپنی پرانی روایات کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ سینئر افرادکا احترام کیا جاتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ باری باری سینئر افراد کو فاؤنڈر کا چیئرمین بنایا جائے میں نے اپنی تیس سالہ بزنس کمیونٹی کی سیاست میں فاؤنڈر گروپ سے بہت کچھ سیکھا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ آج میں جو کچھ بھی ہوں وہ فاؤنڈر گروپ کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی وجہ سے ہوں۔ شہباز شریف اور اسحاق ڈار بھی لاہور چیمبرز کے صدور رہے اور ان کا تعلق بھی فاؤنڈر گروپ سے ہے حقیقت یہ ہے کہ اس گروپ نے پاکستان کے معاشی میدان میں بہت اچھے اچھے لیڈر پیدا کئے جو اس وقت قومی سطح پر ملک کی بہتری اور فلاح کے لئے سرگرم ہیں۔ نئی قیادت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج آنے والانیا بجٹ ہے۔

حکومت بجٹ سازی کے ہرمرحلہ میں بزنس کمیونٹی کی تجاویز اور سفارشات سے استفادہ کررہی ہے۔ اس وقت پورا پاکستان بجٹ کے سلسلہ میں وزیراعظم محمدنواز شریف سے بہت امیدیں وابستہ کرکے بیٹھا ہوا ہے۔ حالانکہ یہ ہرکوئی جانتا ہے کہ پاکستان کی معیشت نامساعد حالات سے نبرد آزما رہی ہے اور انرجی بحران کی وجہ سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ٹارگٹ بھی پورے نہیں ہوئے ہیں، لیکن چین کی چھیالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری نے پاکستانی معیشت میں جان ڈال دی ہے اب بزنس کمیونٹی کو امید پیدا ہوگئی ہے کہ دو تین سال کے اندر پاکستانی معیشت پٹڑی پر آجائے گی۔ ویسے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ، عالمی بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک سمیت تمام عالمی مالیاتی اداروں نے پاکستان کی بہترہوتی ہوئی معیشت کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور گریڈنگ کرنے والے مالیاتی اداروں نے پاکستانی معیشت کو مثبت قرار دیا ہے۔

اس وقت نئے بجٹ میں سب سے اہم مسئلہ ٹیکسوں کا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ بزنس کمیونٹی کے لیڈروں کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ ٹیکس بیس کو وسیع کیا جائے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے بھی اس مرتبہ نئے ٹیکس گزاروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا تہیہ کرلیا ہے۔ میری تجویز یہ ہے کہ پہلے مرحلہ میں ان دولاکھ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے جن کے بارے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ممکمل معلومات ہیں کہ وہ آسانی سے ٹیکس دے سکتے ہیں۔ لیکن تین سال تک ان دولاکھ افراد سے بیس ہزار فی کس کے حساب سے ٹیکس لیا جائے اور انہیں آہستہ آہستہ باقاعدہ ٹیکس نیٹ کا حصہ بنایا جائے۔ جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکل اگر جرمن عوام کے ٹیکسوں کے سسٹم میں تبدیلیاں کرکے انہیں ٹیکسوں کی کمی کا تحفہ دے سکتی ہیں تو ہماری موجودہ معاشی وژن رکھنے والی قیادت بھی یہ کارنامہ انجام دینے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ خصوصاً وزیر خزانہ اسحاق ڈار ایک فعال اور ذہین وزیر ہیں ان کا ذہن چوبیس گھنٹے پاکستان کی معاشی ترقی کے لئے سوچتا ہے۔ اس لئے نئے بجٹ میں بزنس کمیونٹی کو سب سے زیادہ امیدیں اسحاق ڈار سے ہی ہیں۔ اگر پاکستان چین کے ساتھ انتہائی مضبوط برادرانہ تعلقات قائم کرکے چھیالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرسکتا ہے تو پھرہمیں چین کی ترقی سے بھی کوئی سبق سیکھنا چاہئے اس ضمن میں اگر چین کے حقیقت پسندانہ ٹیکس سسٹم کا مطالعہ کیا جائے تو خوشی ہوتی ہے کہ ان کا ٹیکسوں کا سسٹم اتنا حقیقت پسندانہ اور آسان ہے کہ تمام چینی خوشی خوشی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ 

اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو بھی خودمختاری مل گئی ہے اور چند روز پہلے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے اپنا تین سالہ ترقی کا وژن پیش کیا ہے اس نئے وژن میں سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ چالیس لاکھ افراد کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کئے جائیں گے۔ دنیا بھرمیں تربیت یافتہ اور ہنرمند لیبر کی ڈیمانڈ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اس لئے اوورسیز پاکستانیوں کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ ایسے شعبوں کی نشاندہی کریں جہاں پاکستانی لیبر کی ڈیمانڈ موجود ہے میرے خیال میں اگر نئے بجٹ میں چاروں صوبوں کے اندر سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائززکے ولیج قائم کئے جائیں جہاں تمام سرمایہ کاری بشمول زمین حکومت کی ہو اور عوام کارخانے قائم کریں۔ حکومت اپنی لاگت پانچ سال بعد قسطوں میں وصول کرے تو بہت زیادہ روزگار دیا جاسکتاہے۔

مزید : کالم