آشیانہ سکیم، بھوت بنگلہ

آشیانہ سکیم، بھوت بنگلہ

مکرمی!پاکستان میں بے گھر افراد کس اذیت میں مبتلا ہیں، اس کا اندازہ نہ تو حکومت کر سکتی ہے اور نہ ہی وہ لوگ جو درجنوں مکانوں کے مالک ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے سابقہ دورِ حکومت میں غیریبوں کے لئے آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کا اعلان کیا تو اس میں باگڑیاں کا ضعیف العمر بابا نور جو کہ پوری زندگی کرائے کے مکانوں میں گزارتا رہا ،اس کو بھی ایک گھر 4 سال قبل ملا، مگر حکومتی بے حسی اور افسر شاہی کی رکاوٹیں اس کے گھر کا مالک بننے اور چند دن کرائے کے گھر کے بجائے اپنے گھر میں رہنے کی حسرتیں دل میں لئے آخرت کے آشیانے میں لے گئیں۔اس طرح کے اور بھی سینکڑوں لوگ ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ نے اس وقت کم آمدنی والے بے گھر لوگوں کے لئے 5 اور 3 مرلے کے بنے بنائے گھر بالترتیب 1190000 اور 840000 روپے قیمت اور قسط 7500 اور 4500 مقرر فرمائی، بروشر بھی دیئے گئے، مگر پوش علاقوں میں اربوں روپے کے پلاٹ لینے والے بیورو کریٹ غریبوں کو ملنے والے اس فائدے کو برداشت نہ کر سکے تو انہوں نے 5 مرلے کے بجائے 3 مرلے اور 3 مرلے کی بجائے 2 مرلے تک ان گھروں کو محدود کر دیا، جبکہ قیمت وہی رکھی، صرف ایک کمرہ اوپر تعمیر کروایا گیا اور اسے ڈبل سٹوری کا نام دیا گیا۔ 5 مرلے سے 2 مرلہ زمین نکال دی گئی، غریب اور بے سہارا لوگ جن کی آمدنی بمشکل 8 تا 10 ہزار ہے، انہوں نے بنکوں سے قرض لے کر اور عزیزوں سے اُدھار مانگ کر ڈاؤن پیمنٹ 3 مرلے کے گھر کی 297500 روپے جمع کروائی اور 5 سال گزرنے کے بعد اب تک 50 اقساط کی مد میں 4 لاکھ مزید جمع کروا چکے ہیں مگر مکان کی جگہ وہ ڈھانچے اسی طرح کھڑے ہیں اور وہ غریب بھی اپنے گھر کے خواب لئے اسی طرح کرائے کے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں، حالانکہ ڈاؤن پیمنٹ اور اتنی اقساط جمع ہونے پر گھر تیار کر کے ان کے حوالے کردینا چاہئے تھا، مگر انہیں دہرے عذاب میں مبتلا کر دیا گیا ہے کہ مکان کی قسط 75000 روپے ،کرائے کے مکان کا کرایہ، بچوں کے سکول کی فیس ،بجلی، سوئی گیس، پانی اور دیگر گھریلو اخراجات نے ان کو بے حال کر دیا ہے۔ اب جبکہ ان کا لیا گیا قرضہ سود کی مد میں دوگنا ہو گیا ہے اور عزیزوں نے بھی ادھار دی گئی رقم کی واپسی کا تقاضہ کرنا شروع کر دیا ہے تو انہوں نے خفیہ طور پر اشٹام کے ذریعے اپنے ان گھروں کو ،جن کے لئے انہوں نے خواب دیکھے تھے، فروخت کر کے سرمایہ داروں کے حوالے کرنا شروع کر دیئے ہیں، کیونکہ حکومت امیروں کو تو اربوں روپے کے قرض جاری کر سکتی ہے، مگر غریب کے لئے 12 لاکھ کے مکان کے 8 لاکھ وصول کرنے کے باوجود بھی بقیہ 4 لاکھ کی رقم قسطوں میں ادا کرنے کی سہولت دینے سے انکاری ہے کیونکہ وہ غریب ہیں اور پاکستان پر صرف امیروں کا حق ہے۔ سکیم کی مشہوری کے لئے شروع میں چند ایک گھر جلدی میں تیار کر کے وزیر اعظم سے افتتاح کرایا گیا بقیہ تمام ڈھانچے کھڑے ہیں جن کی کھڑکیاں، دروازے زنگ آلود ہو کر بوسیدہ ہو چکے ہیں اور میٹریل اتنا ناقص کہ دیوار پر کیل ٹھونکنے سے ریت ہی باہر آتی ہے۔ وزیر اعلیٰ کا دعویٰ تھا کہ پوش علاقوں جیسی سہولتیں ہوں گے، مگر وہاں تو سوئی گیس کی پائپ لائن تک نہیں ہے ،جبکہ عملہ بدستور بیٹھے بٹھائے تنخواہیں وصول کر رہا ہے۔ گویا غریبوں کی یہ آشیانہ سکیم بھوت بنگلہ بن گئی ہے۔

(محمد اصغر اعوان ایڈووکیٹ ہائی کورٹ)

مزید : اداریہ