آج علامہ ابو الحسنات کا یوم وفات ہے!

آج علامہ ابو الحسنات کا یوم وفات ہے!

آج شعبان المعظم کی 2تاریخ ہے۔ گزشتہ روز کالم کے بارے میں سوچا تو سبزہ زار میں ایک جوڑے کی پُر اسرار موت کے بارے میں کچھ پرانی یادوں کے سہارے لکھنا تھا، منگل کو یہ بھی علم تھا کہ رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس شعبان المعظم کا چاند دیکھنے کے لئے منعقد ہو رہا ہے، اس وقت بھی خیال تھا کہ چاند نظر آ یا تو یکم شعبان بدھ کی ہو گی اور اس روز کا لکھا جانے والا کالم 2شعبان کو شائع ہو گا۔ یہ حقیقت سامنے تھی اور وہی ہوا کہ چاند نظر آ گیا،چنانچہ کالم کا موضوع بہر صورت بدلنا پڑا کہ 2شعبان المعظم کی تاریخ تو وہ ہے جب مَیں اپنے روحانی راہنما کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں، جن کی بدولت آج بھی مَیں راہ سے نہیں ہٹا۔ گناہگار ضرور ہوں ،لیکن عقائد کے حوالے سے بھٹکا نہیں ہوں اور آج بھی اس بزرگ ہستی کو یاد کرتا ہوں ،جس کے سامنے کھیلتے کودتے بڑا ہوا۔

جمعیت علمائے پاکستان کے بانی صدر اور ملک کے جید عالم، جامع مسجد وزیر خان کے خطیب ، مولانا دیدار علی شاہ کے بڑے صاحبزادے اور مفتی اعظم مولانا سید ابوالبرکات کے بڑے بھائی جناب محترم علامہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادری کی رحلت آج کے روز ہوئی اور وہ طویل دینی اور ملی خدمات سرانجام دینے کے بعد خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔علامہ ابوالحسنات ؒ کی جمعیت علمائے پاکستان کا آج برا حال ہے، کئی ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے اورہر کوئی قیادت اور قائد ہونے کا دعویدار ہے، کسی کے بارے میں کچھ کہے بغیر یہ تو دریافت کیا جا سکتا ہے کہ اے اکابرین دین! کیا آپ کو یاد ہے کہ آپ کی جماعت کے بانی صدر علامہ ابوالحسنات تھے او ر وہ ایسے غیر متنازعہ شخص تھے کہ جب تحفظ ختم نبوت کے لئے کل جماعتی مجلس عمل بنی تو یہ علامہ ابوالحسنات ہی کی شخصیت تھی جن کو بلامقابلہ اور بلا تردد اس مجلس عمل کا صدر چن لیا گیا اوروہ تاحیات صدر رہے ۔کیا آپ حضرات کو یہ بھی یاد ہے کہ 1953ء کی تحریک ختم نبوت انہی کی قیادت میں شروع ہوئی جس کا مرکز جامع مسجد وزیر خان تھی اور یہ بھی تو حقیقت ہے کہ حضرت علامہ ابوالحسنات اور سید مودودی گرفتار ہو کر لاہور کی سنٹرل جیل میں بند ہوئے اور ان کا ٹھکانہ برگد کا وہ درخت تھا جو جیل میں اس جگہ تھا، جہاں آج چوک شادمان ہے۔

یہ شادمان کالونی جیل ہی کی زمین پر آباد ہوئی تھی، پھر یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ علامہ ابو الحسنات کے صاحبزادے امین الحسنات سید خلیل احمد قادری کو فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی۔۔۔( علامہ ابو الحسنات کی وجہ سے دوسرے اکابرین کی سزاؤں کا ذکر نہیں کیا، ورنہ مولانا عبدالستار نیازی اور سید مودودی بھی سزا وار ٹھہرے تھے)۔۔۔ تو انہوں نے اکلوتے صاحبزادے کے حوالے سے یہ اطلاع سن کر اپنے رب کا شکر ادا کیا تھا کہ خلیل اللہ کی راہ میں ناموس مصطفےٰ کے لئے سزا یاب ہوا تو شہید ہو گا۔علامہ ابوالحسنات کا دینی اور روحانی مرتبہ ان سے پوچھیں جن کو ان کی نشست میں بیٹھنے کی سعادت ملی اور شاید آج بھی کچھ ایسے پڑھے لکھے حضرات زندہ ہوں جو نماز فجر کے بعدجامع مسجد وزیر خان میں مولانا ابو الحسنات کے وعظ سے مستفید ہوتے، جو وہ تفسیر قرآن کے حوالے سے کرتے تھے۔ ان کا انداز دلنشیں اور لہجہ بڑا دھیما تھا۔ اس وعظ کی نشست کے بعد مسجد ہی کے حجرے میں نشست ہوتی اور وہ سوالات کے جواب بھی دیتے تھے۔یہ درست ہے کہ یہ سعادت اس لئے ملی کہ ہماری پیدائش ہی اس محلے میں ہوئی جس میں حضرت علامہ کی رہائش تھی اور نیچے مطب تھا کہ وہ حکیم بھی تھے۔ یہ وراثت بھی ان کے صاحبزادے مولانا امین الحسنات سید خلیل احمد قادری کو منتقل ہوئی ،جنہوں نے طبیہ کالج ریلوے روڈ سے حکمت اور طب کا کورس بھی پاس کیا تھا، آج وہ بھی ہم میں نہیں ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ علامہ ابو الحسنات کی یاد میں کوئی تقریب جماعتی طور پر منعقد نہیں ہو رہی، ان کے نواسے اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔

علامہ ابوالحسنات کی ہستی اور شخصیت ایسی تھی کہ آج وہ بہت یاد آتے ہیں، جب بوجوہ اور مقصدیت کے تحت دین کے حوالے سے خود کو اجاگر کرنے والی شخصیات پائی جاتی ہیں، زمانہ آگے بڑھ چکا، تحقیق بھی زیادہ ہوئی، تاہم جو بات علامہ ابوالحسنات میں تھی، وہ نظر نہیں آتی کہ وہ متنازعہ سے متنازعہ مسئلے پربھی ایسی میانہ روی سے روشنی ڈالتے کہ ہر بات سمجھ میں آ جاتی، حتیٰ کہ اختلاف کرنے والے بھی خاموش ہو جاتے تھے۔ آپ اپنے مکان کے نیچے ہی مطب میں بیٹھتے اور وہاں بھی علمی باتیں ہوتی رہتی تھیں۔ ہم سب بچے ان کے مکان کے باہر کھلی جگہ پرکھیلتے، شور مچاتے اور کبھی کبھار گیند بھی ان کی طرف چلا جاتا تو وہ بُرا نہیں مناتے تھے، بلکہ بال واپس کر دیتے۔ جس حیثیت پر وہ براجمان تھے،وہاں ان کے لئے نذرانے وصول کرنا یا وعظ سے پیسے کمانا کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا ،لیکن انہوں نے زندگی بھر ایسا نہیں کیا اور ہمیشہ بے لوث اورپُر خلوص خدمت کی۔جس مکان میں ان کی رہائش تھی، وہ ان کا ذاتی تھا، لیکن یہ کیسے خریدا گیا ؟یہ بھی ایک قابل تقلید مثال ہے ۔ حضرت اس مکان میں کرائے پر رہتے تھے۔ اس دور میں کرائے بھی بہت کم ہوتے تھے۔ ہمارے محلے میں ایک صاحب حیثیت خاندان بابو سراج کمبوہ کا بھی تھا اور بابو سراج حضرت کے معتقد تھے اور شام کی محفل میں مستقل آتے۔ بابو سراج کمبوہ بے تکلف شخصیت تھے اور اس محفل میں مزاح بھی ہوتا اور شائستہ ہنسی پھوٹتی تھی۔ ایسی ہی ایک محفل میں بابو سراج (مرحوم) کو نجانے کیا سوجھی کہ انہوں نے کہا:

’’علامہ صاحب!آپ ہمیشہ کرائے پر ہی رہیں گے، کیوں نہیں تم یہ مکان خرید لیتے؟ بابو سراج شاید گھر سے ہی ارادہ کر کے آئے تھے۔ حضرت ابوالحسنات نے جواب دیا، بابوجی!آپ کو تو علم ہے کہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں‘‘ ۔بابو نے دریافت کیا کہ کیا ہے۔ تو جواب ملا تھوڑا زیور اور چند روپے ہیں۔ بابو سراج نے وہ اثاثہ ان سے لے لیا۔ وہ جتنا بناسو بنا ،باقی رقم اپنی جیب سے شامل کر کے مکان کی رجسٹری کروا دی۔ علامہ ابوالحسنات نے یہ فاضل رقم قرض حسنہ کے طور پر لی اور بعد میں بتدریج لوٹا بھی دی۔آج کے پُر آشوب دور میں ایسی شخصیت ڈھونڈنے سے نہیں ملتی، آج ہائی لکس اور پر اڈو کا زمانہ ہے اور ہماری دینی شخصیات کے لئے وسیع کو ٹھیاں چاہئیں۔ حضرت کی وفات کے حوالے سے بہت کچھ اور بہت سے واقعات یاد آ رہے ہیں، لیکن سب کا ذکر مشکل ہے۔ آج کے اس دورمیں ان جیسی ہستی کی شدید ضرورت محسوس ہوتی ہے ،جس پرسب اتفاق کر لیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور جمعیت علمائے پاکستان کے دعویداروں کو توفیق عنایت فرمائے کہ وہ بانی صدر کو بھی یاد کر لیں۔

مزید : کالم