جعلسازی

جعلسازی
جعلسازی

  

جعلسازی وطنِ عزیز میں ہو، تو کون پروا کرتا ہے، مگر یہ امریکا سمیت مغرب میں ہوئی ہے۔ اف میرے خدایا! امریکا میں، جس کے حکم کی پروا ہم اللہ رب العزت کے احکامات سے کہیں زیادہ کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شاعرانہ مبالغہ نہیں ۔ یہ ہمارے روزمرہ احوال کا سچا ماجرا ہے۔چنانچہ اور تو اور خود پاکستان کے تمام جعلساز بھی حیران ہیں۔ کیا واقعی شعیب شیخ اتنا جری شخص ہے؟ایک تنہا آدمی یہ سب کچھ کیسے کر سکتا ہے؟ دیکھئے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین بھی دماغ کے پرخچے اڑانے والے اس انکشاف پر حیران ہیں ۔ اُن کے الفاظ سے شعیب شیخ کے ادارے کے جرائم(تحقیق طلب) کی سنگینی کا زیادہ بہتر انداز ا ہوتا ہے۔

شعیب احمد شیخ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ پر جو ردِ عمل دے رہے ہیں وہ ایسا ہی ہے جیسے ایک جعلساز تجارتی ادارہ(کمپنی)مختلف سمندر پار کمپنیوں کی آڑ لے کر اپنے آپ کو اور اپنے اصل کام کو چھپاتا ہو۔ ایگزیکٹ کے ایک حصص (شیئر)کے مالک اور سی ای او شعیب احمد شیخ نے اپنے ادارے کے ملازمین سے گفتگو کی ہے ۔ متوازی ذرائع ابلاغ (سوشل میڈیا) پر 22 منٹ اور 44سیکنڈ پر مبنی یہ گفتگو جاری کی جاچکی ہے۔ وہ اپنی پوری گفتگو کو پاکستانی ذرائع ابلاغ کے سیٹھوں کے خلاف مرکوز رکھ کر نیویارک ٹائمز کی کہانی کو اس کا نتیجہ گردانتے ہیں، جس طرح بہت سی نامعلوم’’ ویب سائٹس ‘‘کسی ایک نادیدہ ’’پورٹل‘‘ سے چل رہی ہوتی ہیں۔ شعیب شیخ کی گفتگو کے مطابق پاکستانی سیٹھ وہی ’’پورٹل‘‘ ہے۔ درحقیقت یہ سادگی نہیں نہایت عیاری ہے۔ سب سے پہلے یہ ادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ معاملہ کیا ہے؟

نیویارک ٹائمز پاکستان سے چھپنے والے چیٹھرے اخبارات کے مماثل کوئی کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہے، جس میں پاکستان کی مانند کوئی ’’کہانی‘‘ سفارش ، دباؤ یا تحریص کے ذریعے چھپ سکتی ہو۔ یہ کہانی خالصتاً پیشہ ورانہ انداز میں تحریر کی گئی ہے۔ پھر ڈکلن والش نے کوئی ’’رپورٹ‘‘ نہیں لکھی ہے۔ جو ’’انہوں نے کہا‘‘ کے پاکستانی طرزِ صحافت سے مشابہ ہو۔ یہ’’ رپورٹ‘‘نہیں ایک فیچر کہانی ہے،جس میں ادارتی ذہن زیادہ لاگو ہوتا ہے۔ یہ پانچ عکسی نقول اورتین ہزار دوسو بانوے الفاظ پر مبنی ایک ایسی فیچر کہانی ہے ،جس کا ہر ہر لفظ غور وفکر کی سخت ترین کسوٹی سے گزارا گیا ہے اور بہت چھانا پھٹکا گیا ہے۔ یہ اُس ملک میں چھپنے والا اخبار ہے جہاں ہتکِ عزت کے قوانین نہایت سخت ہیں۔ اور اخبارات بڑے الزامات سے پہلے اُس کے شواہد کو قانون کے سامنے پیش کئے جانے کے قابل ہونے کا اندازا خود اپنے وکلاء کے ذریعے پہلے سے لگاتے ہیں۔اِسے محض سیٹھوں کی کارستانی قرار دے کر طاقِ نسیاں نہیں کیا جاسکتا۔ جہاں تک ذرائع ابلاغ کے سیٹھوں کا تعلق ہے تو یہ مسئلہ ایگزیکٹ کے مسئلے سے نتھی کئے بغیر اپنے طور پر اُس سے کہیں زیادہ خراب و خوار ہے جو شعیب شیخ نے اپنے ادارتی ردِ عمل میں ظاہر کیا ہے، مگر سیٹھوں کی یہ خرابی اور ناانصافی دراصل اُن پر لگنے والے الزامات سے اُنہیں برأت نہیں دیتی۔وہ اس امر کو جتنی جلدی سمجھ لیں گے، اُتنی زیادہ بہترجوابی حکمتِ عملی وضع کر سکیں گے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے موقع پرست اور حریص سیٹھوں کے سمجھنے کے لئے بھی ایک نکتہ ہے۔ ایسا ممکن نہیں ہے کہ نیویارک ٹائمز کے صفحۂ اول پر غیر معمولی ذرائع سے چھپنے والی اتنی بڑی فیچر کہانی کا واحد ہدف ایگزیکٹ اور اُس کا ’’مالک ‘‘ شعیب احمد شیخ ہو ۔یہ اس سے ذرا گہرا اور زیادہ بڑا معاملہ دکھائی دیتا ہے۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جعلی تعلیمی اسناد کا کام دنیا بھر میں کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر اور نئے نئے طریقوں سے ہوتا ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف لندن میں جعلی تعلیمی نظام کی صنعت دس بلین پاؤند سے زائد کی ہے، جسے نہ صرف مغربی اخبارات نظر انداز کرتے ہیں ،بلکہ وہاں کا قانونی نظام بھی بوجوہ گوارا کرتا ہے۔الغرض تعلیمی اسناد کی جعلسازی اپنے تمام مکروہ پن کے باوجود کبھی کوئی چونکا دینے والی خبر نہیں رہی۔پاکستان کے اندر ہی دیکھ لیجئے! دو ٹی وی اینکرز اپنے ناموں کے ساتھ جس ’’ڈاکٹر‘‘ کا سابقہ لگاتے ہیں وہ بھی مغربی جامعات کی جعلسازی پر مبنی اسناد کی بدولت ہے۔ ظاہر ہے یہ تو ایگزیکٹ کی عطا کردہ نہیں ہے۔ آخر نیویارک ٹائمز کی دلچسپی جعلی تعلیمی اسناد کے ایک ایسے مسلسل دھندے کی طرف کیوں کر ہوسکتی ہے، جس کی تمام جڑیں خود مغربی ممالک میں بہت گہرائی کے ساتھ پیوست ہیں؟یقیناًیہ معاملہ اس سے آگے کی وسعت رکھتا ہے۔ اس کا صحافتی تناظر جتنا وسیع ہے اُس سے کہیں زیادہ یہ سیاسی نوع کاوسیع افق رکھتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ نیویارک ٹائمز اس جاری فضیتے (اسکینڈل) سے کیا نئے زاویئے نکالتا ہے۔ اور وہ نئے زاویئے پاکستانی سیٹھوں کے تب کتنے وارے میں ہوں گے۔ ابھی دلچسپی کے ساتھ اس تماشے کو دیکھتے ہوئے انتظار کریں، کیونکہ ایک خبر یہ بھی ہے کہ نیویارک ٹائمز دوسری رپورٹ کی بھی تیاری کر رہا ہے۔اس فیچر کہانی سے جوایک اصل سوال پیدا ہوا ہے وہ پورے پاکستان میں نظر انداز ہوا ۔یہاں آج اس کی نشاندہی پر اکتفا کیا جارہا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کو جوں کا توں درست مان بھی لیا جائے تو بھی ایگزیکٹ کے تمام حقائق منظرِ عام پر نہیں آتے۔ یہ اس سے سوا معاملہ ہے۔ جعلی اسناد کی ،جن رقوم پر ہنگامہ آرائی ہے یہ دولت کی اُس فراوانی کے مطابق نہیں جو ایگزیکٹ کے اخراجات سے ظاہر ہے۔ ایگزیکٹ کا اصل اسکینڈل دراصل اُس کے اصل کاروبار سے ہی کہیں منسلک، مگر اب تک مخفی ہے۔اور یہ سافٹ وئیرزکے ہی کاروبار سے متعلق ہوسکتا ہے۔ایگزیکٹ کے ذریعے تعلیمی اسناد کی جعلسازی کا حجم اُس دولت کی مقدار کو چھو ہی نہیں سکتا جو شعیب احمد شیخ کے دعووں سے مترشح ہیں۔ پھر وہ کون سا کاروبار ہے ،جس کا کوئی تذکرہ نہیں جو نیویارک ٹائمز کی فیچر کہانی سے بھی عریاں نہیں ہو رہا ،مگر جو کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی سطح پر موجود ہے۔ راقم السطور پچھلے آٹھ ماہ سے ایگزیکٹ کے متعلق پلنے والے درونِ خانہ حقائق کو جاننے اور شواہد کو اکٹھا کرنے کی سرتوڑ مہم کر رہا ہے۔ اس ضمن میں کچھ پہلو نہایت عجیب ہیں ،جس سے میرا سابقہ پڑا۔ ایگزیکٹ کے ایگزیکٹو سطح کے افراد کراچی کی سماجی زندگی سے بالکل غائب ہیں۔

کم ازکم ایسے چار افرادکو میں نے اپنے نشانے پر رکھا ہے جن کے گھر وغیرہ میرے دوستوں کے محلوں میں ہیں۔ وہ نہایت پرآسائش زندگی گزارتے ہیں ،مگر اپنی زندگی میں کسی کو شریک کرتے ہیں نہ کسی کی زندگی میں شریک ہوتے ہیں۔ ایسی غیر معمولی تنہائی اُن کی پہلی پسند نہیں ہے ، کیونکہ ایگزیکٹ کا حصہ بننے سے پہلے وہ ایک سماجی زندگی کا پورا پسِ منظر رکھتے تھے۔یہ اس ادارے کے پالیسی ساز سطح کے افرادکی زندگی کا نہایت پراسرار پہلو ہے، جسے ایک دوسرے پہلو نے زیادہ قابلِ غور اور خطرناک بنا دیا ہے۔ایسے افراد بمشکل تمام ہی میسر آتے ہیں جو ایگزیکٹ (بول نہیں)میں کسی بھی سطح پر کام کرتے رہے ہوں اور پھر وہ ادارہ چھوڑ چکے ہوں۔ ان آٹھ ماہ میں راقم السطور نے بمشکل تمام ایسے دو افراد تک رسائی حاصل کی جنہوں نے ادارے کو خود خیر باد کہا۔ وہ اس ادارے کے جس کاروبار کو سب سے زیادہ خطرناک قرار دیتے ہیں۔ وہ سافٹ ویئر ز سے ہی جڑا ہے۔ (ابھی اس کاروبار کی تفصیلات بیان نہیں کی جاسکتیں)۔۔۔مگر جو پہلو زیادہ اہم ہے ، وہ یہ کہ ایگزیکٹ سے فارغ ہونے والے افراد بھی خود کو ایگزیکٹ کی گفتگو سے دور رکھتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ آخر اُن کے پاس کہنے کو ایسا کیا ہے جو وہ کہنے سے ڈرتے ہیں؟درحقیقت یہی ایگزیکٹ کی پراسراریت ہے۔ بول اِسی اسرار کو گہرا کرتی ہے۔ اور ایگزیکٹ نے بول کے ذریعے دراصل اِسی اسرار کو سنبھالنے کی ضمانت (انشورنش) لی تھی۔ بڑے صحافیوں کے اکٹھ کی صورت میں ایگزیکٹ جو کام کررہا تھا اُسے انگریزی زبان میں ’’ Agent of influence‘‘ (ایجنٹ آف انفلو ئنس )کہتے ہیں۔ ایگزیکٹ ایک پراسرار ادارے کے طور پر اپنی شناخت برقرار رکھنے کی اہلیت اب بھی برقرار رکھتا ہے اور جعلی تعلیمی اسناد کا یہ مکروہ کھیل اگر ثابت بھی ہوگیا تو یہ اُس کے ’’ اصل کام ‘‘ کو جوہری طور پر متاثر کرنے کے قابل نہیں، مگر یہ نتیجہ اس پر منحصر ہے کہ نیویارک ٹائمز کی فیچر کہانی محض چھپنے تک محدود رہے گی یا پھر یہ امریکی سیاسی اثر کو شامل کرکے پاکستان پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرے گی۔ بنیادی طور پر کہانی میں اس کی صلاحیت موجود ہے، کیونکہ یہ جعلسازی پاکستان میں نہیں امریکا میں ہوئی ہے۔ اور امریکا وہ ملک ہے جو ہر چیز کو سیاسی استعمال کے قابل بنا لیتا ہے۔

مزید : کالم