’’ایگزیکٹ‘‘ کو بی سی سی آئی بنایا جا رہا ہے؟

’’ایگزیکٹ‘‘ کو بی سی سی آئی بنایا جا رہا ہے؟
’’ایگزیکٹ‘‘ کو بی سی سی آئی بنایا جا رہا ہے؟

  

خودشکنی کی خُوئے بد اور امریکی ذرائع ابلاغ کو صحیفہ آسانی سمجھنے والے نادانستہ طور پر ایگزیکٹ کے کاروباری حریفوں کے ساتھ مل کر اسے پاکستان کے ایک عظیم الشان بینک بی سی سی آئی کے انجام سے دوچار کرنے پر تُل گئے ہیں۔ ان الہامی صحیفوں کی حقیقت کیا ہے، میں کبھی کبھی اس پر کچھ نہ کچھ عرض کرتا رہتا ہوں۔ ان کے جھوٹ کے چند نمونے پیش ہیں۔ 18جنوری 2015ء کو ’’فاکس نیوز‘‘ کو ’’آن ایئر‘‘ اس پر معذرت کرنا پڑی کہ اس نے یہ خبر دی تھی کہ یورپ کے کئی ممالک میں Only for Muslims اور نوگو زونز ہیں، جہاں ان یورپی ممالک کے قوانین کی بجائے شریعت کا قانون چلتا ہے۔ اس پر امریکی اور مغربی میڈیا سے مرعوب مسلمانوں نے تو خیر کیا احتجاج کرنا تھا، یہ خبر خود یورپی ممالک کے منہ پر طمانچہ تھی۔ پیرس (فرانس) کے میئر نے کہا کہ وہ اس خبر کے حوالے سے فاکس نیوز کے خلاف ہر جانے کا دعویٰ دائر کرنے والے ہیں، جس پر فاکس نیوز کو تسلیم کرنا پڑا کہ اس کی خبر غلط تھی، لیکن کیا یہ خبر محض غلط تھی، کیا اس نام نہاد غلطی کے پیچھے جو عزائم پوشیدہ تھے،کسی نے ان پر غور کیا؟ این بی سی ایک معتبر امریکی میڈیا ہے۔ اس سے منسلک Brian Williams کو بلند پایہ صحافی اینکر پرسن وغیرہ وغیرہ مانا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے ناظرین کی تعداد 9.3ملین ہے۔ موصوف نے ڈیوڈ لیٹرمین سے ایک گفتگو میں دعویٰ کیا۔ وہ عراق میں اس ہیلی کاپٹر میں بنفسِ نفیس موجود تھے، جسے مار گرایا گیا تھا۔ یہ ایک ایسا بڑا جھوٹ تھا کہ جو زیادہ دیر تک نہ چل سکا۔ ولیمز کو جھوٹ کا اعتراف کرنا پڑا اور این بی سی نے اسے چھ ماہ کے لئے بغیر تنخواہ معطل کر دیا۔ بریان ولیمز ہمارا آدمی ہوتا تو اس کے لئے پھانسی کی سزا کا مطالبہ کیا جاتا۔

نیویارک ٹائمز جھوٹی خبروں کے بارے میں کچھ زیادہ ہی بدنام ہے۔ مئی 2003ء میں Jason Blair نے ادھر اُدھر سے چوری کردہ خبریں اپنے نام سے چھاپیں اور من گھڑت رپورٹیں دیں۔ اس نے کئی ایسے مقامات سے خبریں دیں اور وہاں موجودگی کا دعویٰ کیا، جہاں وہ کبھی گیا ہی نہیں تھا۔2002ء میں دو اشخاص پر الزام تھا کہ انہوں نے مختلف مقامات پر فائرنگ کرکے سات کے قریب لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ ان میں سے ایک شخص کا نام جون محمد تھا۔ جیسن نے دعویٰ کیا کہ جون اقبال جرم کرنا چاہتا تھا لیکن پولیس حکام نے اس پر توجہ نہیں دی، اس نے اپنے اس دعوے کے ثبوت میں چند وکلاء کے نام بھی لکھے، یہ سب جھوٹ تھا اور وہ وکلاء وہاں ہر گز موجود نہیں تھے۔

نیچرل نیوز کے 17اپریل 2013ء کے شمارے میں جے ڈی ہئیس J.D.Heyesنے ایک عنوان جمایا ہے’’ ٹم واچ نیویارک ٹائمز کی جھوٹی خبروں کی تاریخ کو بے نقاب کرتا ہے‘‘۔ اس میں لکھا ہے کہ عام طور پر نیویارک ٹائمز کو ’’Old Gray Lady‘‘کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ نام کوئی پیار کا نام نہیں ہے۔ کالے اور سفید کے درمیانی رنگ کو Gray کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے ’’مشکوک‘‘۔۔۔ غائب ہو جانے والا یا پھر صریح جھوٹ‘‘۔۔۔

’’فاکس نیوز‘‘ نے جو خود بھی جھوٹی اور تعصب آمیز خبروں کے لئے بڑی شہرت کا حامل ہے۔ نیویارک ٹائمز کے چارلس بلو Charles Blou پر الزام لگایا ہے کہ وہ بیانات کو سیاق و سباق سے الگ کرکے خبریں دیتا ہے۔ فاکس نیوز کے بل اوریلی نے کہا کہ اس نے کہا تھا کہ بچوں کے غربت میں پرورش پانے کا الزام سب سے زیادہ والدین پر آتا ہے، کیونکہ سنگل والدین بچوں کو پوری توجہ نہیں دے سکتے۔ چارلس بلو نے لکھا کہ ’’بل اوریلی نے بچوں کی غربت کا الزام ان کے والدین پر لگا دیا‘‘، جس پر بہت شور مچا تھا۔

نیویارک ٹائمز ہی وہ اخبار ہے، جس نے صدام حسین کے ایٹمی پروگرام اور WMD کا بہت شور مچائے رکھا۔ نیویارک ٹائمز کی متعدد انعامات کی حامل جوڈتھ ملر عراقی بگوڑے شلابی اور اس کے حواریوں کے حوالے سے صدام حسین کے ہتھیاروں کاسیاپا کیا کرتی تھیں۔2001ء سے 2002ء تک جوڈتھ ملر کی اس سلسلے میں ساری رپورٹیں غلط تھیں۔ بعد میں نیویارک ٹائمز نے اپنے صفحہ اول پر اس بات کا اعتراف کیا کہ صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے خواہش مندوں کی اطلاعات اس سلسلے میں سراسر جھوٹ تھیں۔ اخبار نے لکھا کہ شلابی فلاں فلاں اور دیگر نے غلط اطلاعات دیں۔ اس پر ایک اخبار نویس فرینکلن فوٹر لکھنا ہے کہ ’’دیگر‘‘ کا سلسلہ تو خود نیویارک ٹائمز کی جوڈتھ ملر تک دراز ہے، لیکن اخبار نے اسے جوڈتھ ملر کا جذباتی پن قرار دے کر نظر انداز کر دیا۔

آپ گوگل میں نیویارک ٹائمز کی جھوٹی خبروں کی سرچ کریں، سرفہرست ’’ایگزیکٹ‘‘ کی خبر ہے،جس کے ساتھ اب نیویارک ٹائمز نے ’’ایگزیکٹ‘‘ کا جواب بھی نتھی کر رکھا ہے، جن ذاتِ شریف نے یہ خبر دی ہے وہ ہیں Declan Walsh جنہیں 2013ء میں پاکستان سے نکال دیا گیا تھا، انہیں نکلنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، بلکہ باقاعدہ سیکیورٹی اہل کاروں کی تحویل میں انہیں ائرپورت لے جا کر جہاز پر بٹھا دیا گیا تھا۔ بعد میں انہیں ’’ناپسندیدہ شخصیت‘‘ قرار دے دیا گیا۔ موصوف اب تک پاکستان کی رپورٹنگ کرتے ہیں، لیکن لندن میں بیٹھ کر۔ کیا نیویارک ٹائمز کو ان کا کوئی متبادل میسر نہیں ہے۔ اگر ’’ایگزیکٹ‘‘ کے بارے میں نیویارک ٹائمز کے ڈیکلان والش کی خبر کو تسلیم کیا جا سکتا ہے تو پھر اسامہ بن لادن کے بارے میں ’’سیمور ہرش‘‘ کو کیوں جھوٹا قرار دیا جا رہا ہے؟

مَیں ’’ایگزیکٹ‘‘ کے معاملے کو بی سی سی آئی سے کیوں جوڑ رہا ہوں۔ گزشتہ چند برسوں میں امریکی بینکوں کے جرائم کی ایک لمبی فہرست ہے۔ Capitalism`s Achilles Heel وہ کتاب ہے، جسے کچھ احباب جب تک عمران خان کے عشق میں مبتلا تھے۔ شریف برادران کی کرپشن کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے تھے، کیونکہ اس کے مزدوروں کے استحصال کرنے والے مصنف ریمنڈ ڈبلیو بیکر نے کسی ثبوت کی بناء پر یہ بات نہیں لکھی تھی، بلکہ رحمن ملک‘‘ کی گواہی کو Quoteکر دیا تھا۔ موصوف کی اس تصنیف میں امریکی بینکوں کے بارے میں بھی گواہی موجود ہے، لیکن موصوف نے بی سی سی آئی کو گردن زدنی قرار دیا ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں بینک آف امریکہ، سٹی گروپ ،ایچ ایس بی سی، جے پی مورگن چیز، یو بی ایس اور رائل بینک آف سکاٹ لینڈ کو بھاری جرمانے ہوئے ہیں، لیکن یہ سب کے سب بدستور کام کررہے ہیں۔ایچ ایس بی سی کے 1.2 بلین ڈالر ضبط کر لئے گئے اور 700ملین ڈالر جرمانہ کرکے فیصلہ کیا گیاکہ کریمنل چارجز نہ لگائے جائیں، حالانکہ بینک کے نامہ ء اعمال میں ایران کو رقوم کی ترسیل (پابندی کے باوجود) میکسیکو کے ڈرگ ڈیلروں کی رقوم کی اِدھر اُدھر ترسیل و فراہمی جیسے جرائم شامل تھے۔ ضوابط کی خلاف ورزی ، رقوم کی غیر قانونی ترسیل، منی لانڈرنگ اور بعض پر ڈرگ منی کی ہینڈلنگ کے الزامات تھے، لیکن یہ جرمانے ادا کرکے چھوٹ گئے، جبکہ بی سی سی آئی کو اس قدر بدنام کیا گیا اور پھر بندش کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہنے دیا گیا، کیونکہ یہ اتنا بڑا مالیاتی ادارہ پاکستانیوں اور مسلمانوں کا تھا اور یہ مسلمان ملکوں کو فائدہ پہنچا رہا تھا۔

اب آیئے اس الزام کی طرف کہ ایگزیکٹ‘‘ جعلی سندوں (ڈگریوں) کا دھندہ چلا رہا ہے۔ آپ گوگل سرچ میں جعلی ڈگری ڈالیں یا ڈگریوں کی فروخت یا پھر زندگی بھر کے تجربے کی بناء پر ڈگری تلاش کریں، ہر ایک تلاش پر سینکڑوں ویب سائٹس اور ادارے دیکھ لیں۔ اکثر کا تعلق امریکہ سے ہے، یہاں ’’چرچ‘‘ بھی یہ دھندا کرتے ہیں۔حقیقی طور پر موجود اور محض انٹرنیٹ پر ادارے یہ دھندا کررہے ہیں۔ ان سب کی اصل ضرورت قابلیت، اہلیت یا تعلیم نہیں ہے۔ محض رقم ہے، آپ ان کی مطلوبہ رقم ادا کر دیں اور ڈگری حاصل کرلیں۔ بعض ادارے تو باقاعدہ ڈگری تقسیم کی تقریبات بھی مناتے ہیں، جہاں حقیقی تعلیمی اداروں کی طرح طلبہ کو ڈگری دی جاتی ہے اور مَیں نے ایسے ڈگری یافتگان کو اچھی اچھی ملازمتیں کرتے بھی دیکھا ہے۔ جعلی ڈگری یہاں وہی ہے جو آپ خود کمپیوٹر پر گھڑ لیں،جس ڈگری کو کوئی زمین پر واقع، آسمان پر موجود یا فضا میں معلق ادارہ جاری کرتا ہے، وہ جعلی نہیں ہے، اسے جاری کرنے یالینے سے کوئی کسی کو روک نہیں سکتا۔ جو چاہے اسے تسلیم کرے جو چاہے تسلیم نہ کرے۔ ڈھونڈنے سے ایسے ادارے بھی مل جاتے ہیں جو ہاورڈ اور برکلے کی ڈگریوں کو تسلیم نہیں کرتے، لیکن بقول اسلم رئیسانی ڈگری تو ڈگری ہے، چاہے اصلی ہو یا نقلی۔ اگر کوئی ادارہ کسی میٹرک فیل کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دے دیتا ہے تو یہ جعلی نہیں ہے، کچھ لوگوں کے لئے ناقابل تسلیم ہے ، کم تر معیار کی ہے وغیرہ وغیرہ، لیکن کیا تمام اصلی ڈگریاں کم تر معیار کی نہیں ہوتیں۔ معیار، کم تری، اہلیت کے حوالے سے پرکھا جائے تو ڈاکٹر بابر اعوان کے علاوہ بہت سوں کی معتبر یونیورسٹیوں سے جاری کردہ ڈگریاں جعلی قرار پائیں۔

’’ایگزیکٹ‘‘ کا ایک گناہ یہ ہے کہ وہ اب میڈیا میں آ رہا ہے۔ حریفوں کو اس کی دولت سے خطرہ ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ’’ایگزیکٹ‘‘ اپنے جائز یا شاید ناجائز کاروبار کو شیلٹر فراہم کرنے کے لئے میڈیا میں آ رہا ہے۔ یہ الزام درست ہوگا، لیکن کیا مجھے یہ گنوانے کی ضرورت پیش آئیگی کہ اس وقت کتنے اخبار کتنے چینل اپنے جائز یاناجائز کاروبار کو تحفظ دینے کی خاطر میڈیا میں موجود ہیں؟ خالصتاً نیوز اور ویوز کو مشن سمجھنے والے کتنے ہیں؟ یہ بھی سب پر عیاں ہے اور ٹیکس دینے کے بارے میں بھی اکثر میڈیا گروپس پوری ڈھٹائی دکھاتے ہیں۔ ٹیکس سے بچنے کے حربے تو امریکہ میں ہر اکاؤنٹنٹ سکھاتا ہے اور ایپل، مائیکرو سافٹ جیسے بڑے بڑے ادارے ایسے گُر استعمال کرتے ہیں اور ٹیکس سے بچتے رہتے ہیں، تاہم اگر ’’ایگزیکٹ‘‘ کی موٹی گردن ٹیکس میں پھنستی ہے تو ٹیکس وصول کریں، لیکن غیروں کی اتہام بازی پر اسے بی سی سی آئی نہ بنائیں۔

مزید : کالم