چیونٹی کا ہاتھی سے مقابلہ

چیونٹی کا ہاتھی سے مقابلہ
چیونٹی کا ہاتھی سے مقابلہ

  

آصف زرداری جب پشاور میں عمران خان کو آڑے ہاتھوں لے رہے تھے تو کراچی میں پولیس نے ذوالفقار مرزا کو آہنی ہاتھوں سے دبوچا ہوا تھا۔ وہ 9گھنٹے تک عدالت میں محبوس رہے بعدازاں سندھ ہائیکورٹ کی مداخلت کے بعد دہشت گردی کی عدالت کے باہر موجود پولیس کی بھاری نفری ہٹائی گئی اور انہیں گھر جانا نصیب ہوا پہلی بار ذوالفقار مرزا کو احساس ہوا ہو گا کہ اپنے پرانے لنگوٹئے یار سے متھا لگانا آسان نہیں نہ صرف اس کی سیاست سمجھ نہیں آتی بلکہ اپنے دشمنوں کو اوقات میں رکھنے کے لئے بھی ان کے پاس ان گنت نسخے موجود ہیں انہوں نے پشاور میں کھڑے ہو کر عمران خان کو ’’عمران مچھر‘‘ کہہ دیا، گویا یہ بھی انہیں اوقات دلانے کی کوشش تھی لیکن شاید وہ یہ بھول گئے کہ جب یہی مچھر ہاتھی کی سونڈ میں داخل ہو جاتا ہے تو اسے زندگی کے لالے پڑ جاتے ہیں حیران کن بات یہ ہے کہ ایسے وقت میں جب سندھ کی صورتحال انتہائی خراب ہے، پانی کی عدم دستیابی نے کراچی میں قیامت بپا کر رکھی ہے ، کور کمانڈر کراچی سندھ انتظامیہ کو اپنے خطاب میں چارج شیٹ کر چکے ہیں،بری حکومت کے تمام تر شواہد سندھ حکومت میں پائے جاتے ہیں ایسے میں کراچی بیٹھ کر حالات کو سدھارنے کی بجائے آصف زرداری کئی دنوں سے اسلام آباد بیٹھے ہیں جہاں سے انہوں نے پشاور اڑان بھری اور بلدیاتی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت اور عمران خان کے خلاف بھرپور بھڑاس نکالی کیا یہ اس دباؤ کو کم کرنے کی کوشش ہے جو سندھ کے حوالے سے ان پر موجود ہے، کہا تو یہ بھی جا رہا ہے سندھ میں اب دہشتگردوں کے ساتھ ساتھ مالی لوٹ مار اور کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف بھی کارروائی ہونے جا رہی ہے، جس کی طرف کور کمانڈر کراچی نے بھی اپنے خطاب میں اشارہ کر دیا تھا، تو کیا اس کی پیش بندی کے لئے آصف علی زرداری ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔

شاید وہ اتنے حساس نہ ہوتے اگر ذوالفقار مرز ا نے اپنی زبان بند رکھی ہوتی، ذوالفقار مرزا پچھلے کچھ عرصے سے ان کے خلاف جو شعلے اگل رہے ہیں ان سے دامن بچانا آصف علی زرداری کے لئے خاصا مشکل ہو چکا ہے ، اس کا ثبوت یہ ہے کہ اب کراچی میں سندھ کے ارکان اسمبلی اور پیپلزپارٹی کے رہنما زرداری صاحب کی حمایت اور ذوالفقار مرزا کے خلاف تواتر سے پریس کانفرنسیں کر رہے ہیں۔ ان پریس کانفرنسوں میں ذوالفقار مرزا کے خلاف جو زبان استعمال کی جاتی ہے ، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ذوالفقار مرزا نے پیپلزپارٹی کو زچ کر دیا ہے، آصف علی زرداری پر قتل کرانے کے الزامات بھی لگا دیئے ہیں اور لوٹ مار کا تو انہیں بادشاہ قرار دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب ہاتھی صلح کر لیتے ہیں تو چونٹیاں میدان میں آ جاتی ہیں۔ ذوالفقار علی مرزا کا معاملہ بھی کچھ اسی قسم کا ہے آصف زرداری مسلم لیگ کے ساتھ باہمی مفاہمت کا باب کھول کر اطمینان سے بیٹھے تھے۔ وہ خود کہتے ہیں کہ 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی مگر انہوں نے جمہوریت کی خاطر اس کے خلاف احتجاج نہیں کیا۔ ایسا جمہوریت کی خاطر کیا یا سندھ حکومت کی خاطر اس کا فیصلہ تو مورخ ہی کرے گا تاہم ان کی اس نظر عنایت پر مسلم لیگ ن کی حکومت نے انہیں بے شمار معاملات میں فری ہینڈ دیا ہے۔ ان کا سیاسی پروٹوکول بھی برقرار ہے اور نواز شریف کی نگاہ میں ان کی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔ ایسے میں صرف تحریک انصاف ہی ایک ایسی جماعت تھی جو انہیں تنقید کا نشانہ بناتی تھی، مگر سیاسی جماعت کی طرف سے الزامات اور تنقید کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ ایک لحاظ سے آصف زرداری نے سب کچھ اپنی حمایت میں کر لیا تھا، مگر نجانے بیٹھے بٹھائے ذوالفقار مرزا کو کیا سوجھی وہ خم ٹھونک کر میدان میں آ گئے، شروع شروع میں تو میڈیا اور خود پیپلزپارٹی نے ان کے بیانات کو کوئی اہمیت نہ دی۔ مگر جب ذوالفقار مرزا دیئے کی لو اوپر کرتے چلے گئے تو اس کی آنچ آصف زرداری کو بھی محسوس ہونے لگی۔ تب ذوالفقار مرزا سے نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مرزا صاحب کو ایسے میں بہت احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا۔ مگر وہ دشمنی کے خبط میں بہت کچھ بھول گئے۔

ان سے سب سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے بدین کے تھانے میں جا کر قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیا ۔ جس کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ وہ ایک سیاسی جدوجہد کر رہے تھے اور کوئی قانون انہیں اس سے نہیں روک سکتا تھا لیکن تھانے میں قانون شکنی کا مظاہرہ کرکے وہ قانون کی گرفت میں آ گئے اب یہ بدلا چکانے کا وقت تھا اس لئے سندھ سرکار نے ان پر ایک کے بعد دوسرا مقدمہ قائم کیا اور دہشت گردی کی دفعات لگائیں اب حالت یہ ہے کہ ذوالفقار مرزا صرف پیشیاں ہی بھگت رہے ہیں اور گیم بظاہر ان کے ہاتھ سے نکل گئی ہے وہ شاید یہ بھول گئے تھے کہ ان کا سامنا آصف علی زرداری سے ہے جو حالات کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہیں اور مشاق شکاری کی طرح اڑتی چڑیا کے پر گن لیتے ہیں منگل کو ذوالفقار مرزا کے ساتھ کراچی میں جو کچھ ہوا، وہ پویس اپنے طور پر ہرگز نہیں کر سکتی۔ ایسا کرنا وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کے بس کا روگ بھی نہیں، سبق سکھانے کا یہ سٹائل صرف آصف زرداری کا ہے پورے کراچی کے پولیس افسران اپنے ماتحتوں کے ساتھ انسداد دہشتگردی کی عدالت کا گھیراؤ کئے بیٹھے تھے تو اس کا ضرور کوئی سبب رہا ہو گا۔ ایک ایسے ماحول میں جب کہا جا رہا ہے کہ کراچی پویس سیاسی ہو گئی ہے، پولیس کا اس طرح ایک سیاسی مخالف کو ہراساں کرنے کے لئے عدالت کے باہر اکٹھے ہونا معمولی بات نہیں، ذوالفقار مرزا جذبات میں آ کر کچھ ایسے قدم اٹھا چکے ہیں جن کی وجہ سے ان کے لئے لینے کے دینے پڑ جانے والی صورت پیدا ہو چکی ہے مجھے تو فہمیدہ مرزا سے ہمدردی محسوس ہو رہی ہے جو ایک سنگین بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود اپنے شوہر کا دفاع کرنے کے لئے میدان عمل میں آ چکی ہیں۔ ان کی پریس کانفرنسیں بڑی اہمیت کی حامل ہیں لیکن رائیگاں جا رہی ہیں، کیونکہ ذوالفقار مرزا کی بولڈ اننگ اتنے زیادہ مسائل اور دشمن پیدا کر چکی ہے کہ اب انہیں سنبھالنا مشکل ہو رہا ہے۔

ذوالفقار مرزا کو مقدمات کے سپرد کر کے آصف علی زرداری نے منہ کا ذائقہ بدلنے کی خاطر پشاور کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے ایک تیر سے کئی شکار کئے ان کی باتوں سے یہ نہیں لگتا کہ وہ حالات کی تپش سے بے نیاز ہیں بلکہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اپنے اردگرد جنم لینے والے ناموافق حالات کی مکمل خبر ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے یہ کیا ہم جیل جانے سے نہیں ڈرتے، ہم تو مارشل لاء میں نہیں ڈرے اب کیا ڈر یں گے۔ ان کو یہ بھی احساس ہے کہ سندھ میں قائم علی شاہ کی ناقص کارکردگی کے باعث انہیں گھر بھیجنے کے امکانات بھی موجود ہیں، اس لئے ان کا یہ کہنا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد وزیر اعلیٰ کو ہٹانا آسان کام نہیں کیا تجاہل عارفانہ ہے، ایک طرف وہ پی کے حکومت کی ناقص کارکردگی پر جملوں کے کوڑے برساتے ہیں اور دوسری طرف سندھ حکومت کی کارکردگی بڑھانے کی بجائے سارا زور اس بات پر صرف کر رہے ہیں وزیر اعلیٰ کو ہٹایا نہیں جا سکتا۔ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر موجود حامی آصف علی زرداری کے پشاور جلسے کی تصویر لگا کر انہیں یہ باور کرا رہے ہیں کہ وہ حفاظتی ڈائس کے بغیر کراچی میں بھی خطاب نہیں کر سکتے، حتیٰ کہ لاڑکانہ میں بی بی کے یوم وفات پر بھی بلٹ پروف ڈائس کے پیچھے کھڑے ہو کر خطاب کرتے ہیں، جبکہ پشاور میں انہوں نے بغیر بلٹ پروف ڈائس کے خطاب کیا، اس کے باوجود یہ کہتے ہیں کہ تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں کچھ نہیں کیا شاید اسی امن کی فضا کو دیکھ کر انہوں نے اعلان کیا کہ جلد ہی بلاول بھٹو زرداری بھی پیپلزپارٹی کو خیبر پختونخوا کی سب سے بڑی جماعت بنانے کے لئے یہاں کا دورہ کریں گے۔

آصف علی زرداری کے ذہن میں نجانے کیا منصوبہ بندی ہے، لیکن فی الوقت تو ایسا لگ رہا ہے کہ وہ ہوا میں معلق پیپلزپارٹی کو زمین پر نہیں اتار سکے پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پیپلزپارٹی کو زندہ کرنا ایک بہت بڑا ٹاسک ہے، فی الحال تو انہیں سندھ پر توجہ دینی چاہئے، جہاں پیپلزپارٹی میں جگہ جگہ دراڑیں پڑ رہی ہیں کراچی میں ضمنی انتخاب کے لئے پیپلزپارٹی کو امیدوار نہیں ملتا اور ذوالفقار مرزا جیسے باغی کشتی میں سوراخ کر رہے ہیں، آصف زرداری اپنی حکمت عملی سے شاید یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی آج بھی ایک ملک گیر جماعت ہے، اس لئے اسے سندھ میں سیاسی طور پر دیوار سے نہ لگایا جائے، حالانکہ پیپلزپارٹی کو دیوار کے ساتھ کسی اور نے نہیں اپنے پانچ سالہ اقتدار میں خود آصف علی زرداری نے لگایا ہے۔

مزید : کالم