گیس سرچارج بل منظور!

گیس سرچارج بل منظور!

قومی اسمبلی نے احتجاج کے باوجود گیس سرچارج بل منظور کر لیا۔ وزیر قدرتی وسائل کے مطابق یہ ٹیکس ترقیاتی اخراجات کے لئے ضروری ہے۔ اس بل کی تفصیل تو نہیں سامنے آئی تاہم حکومت اس سر چارج سے سالانہ ایک سو ارب روپے حاصل کرے گی۔ یوں قدرتی طور پر گیس مہنگی ہو گی چاہے اس کی سطح کچھ بھی ہو۔ اس سے پہلے گیس کمپنیاں آئی۔ ایم۔ ایف کے معاہدے کے مطابق گیس پر سبسڈی بتدریج ختم کر رہی ہیں اور سال میں دوبار یکم جنوری اور یکم جولائی کو خاموشی سے قدرتی گیس کے نرخوں میں ردوبدل کر کے نرخ بڑھا دیئے جاتے ہیں۔ یوں قیمت بڑھ جاتی ہے۔ اس سر چارج کے اثرات بھی یہی ہوں گے اگرچہ وزیر قدرتی وسائل نے کہا کہ عوام پر اس کے اثرات نہیں ہوں گے جو گیس خرچ کریں گے وہ بل دیں گے۔اس بل کی منظوری میں اہم حصہ پیپلزپارٹی کا بھی ہے جس کے ارکان نے تقریروں میں تو سر چارج کی مخالفت کی لیکن رائے شماری کے وقت بل کے حق میں رائے دی۔ اس صورت حال کی روشنی میں یہ بل سینٹ سے بھی منظور ہو جاتے ہیں۔ بل کی مخالفت میں جماعت اسلامی ،ایم۔ کیو۔ ایم اور تحریک انصاف نے نعرہ بازی بھی کی۔اگلے ماہ بجٹ پیش ہونے والا ہے۔ حکومت عوام کو سہولتیں دینے کا اعلان کر رہی ہے اور اس سے پہلے ہی یہ ایک منی بجٹ منظور کر لیا گیا ہے۔ بتایا یہ جاتا ہے کہ 2011ء میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے یہ سرچارج ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے تعمیراتی اخراجات پورے کرنے کے لئے تجویز کیا تھا۔وزیر موصوف نے کہا ہے کہ اس سے عوام متاثر نہیں ہوں گے۔دنیا کا ہر ٹیکس کہیں بھی لگے متاثر تو عوام ہوں گے۔ وزیر موصوف یہ تو بتائیں کہ بجٹ سے قبل منی بجٹ کی کیا ضرورت تھی؟

مزید : اداریہ