حرام اور مردار گوشت فروخت کرنے والوں کے لئے سخت سزائیں

حرام اور مردار گوشت فروخت کرنے والوں کے لئے سخت سزائیں

وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے غیر معیاری، بیمار، مردار اور حرام جانوروں کے گوشت کی فروخت کے خلاف صوبے بھر میں کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مکروہ کاروبار میں ملوث عناصر کی جگہ جیل ہے۔ عوام کو حرام و مردار گوشت کھلانے والے کسی رُو،رعایت کے مستحق نہیں، اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سزائیں سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے تحت حرام، مردار اور بیمار جانوروں کے گوشت کی فروخت کا قبیح کاروبار کرنے والوں کو 8 برس قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ اس ضمن میں پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ اور پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے تحت اینیمل سلاٹرنگ ایکٹ میں ضروری ترامیم اور قانون سازی کی منظوری دی گئی، اور ایسے جرائم کو نا قابل ضمانت قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے مؤثر مسودۂ قانون جلد تیار کر کے منظور کروانے کی ہدایت کی ، وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ متعلقہ محکمے مربوط انداز میں کام کریں اور اس گھناؤنے کاروبار کے کاروباریوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا صوبے کے عوام کو ان جرائم پیشہ گروہوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے جو چند روپوں کی خاطر عوام کی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔

پاکستان کا معاشرہ اس لحاظ سے ان بد قسمت ترین معاشروں میں شمار کیا جا سکتا ہے جہاں کھانے پینے کی اشیاء میں بھی بے دریغ ملاوٹ کی جا رہی ہے اور یہ گھٹیااور شرمناک کاروبار عشروں سے ہو رہا ہے۔ اب تک نہیں سنا کہ ملاوٹ کرنے والے یا ملاوٹی اشیاء بیچنے والے کسی تاجر کو کوئی بڑی سزا دی گئی ہو، کھانے پینے کی شاید ہی کوئی چیز ملاوٹ سے بچی ہوئی ہو۔ یہاں تک کہ جعلی ادویہ بھی تیار ہوتی ہیں اور مریض جو دوائیں اس امید اور آس پر کھاتے ہیں کہ ان سے انہیں صحت حاصل ہو گی ان دواؤں کے استعمال کے بعد مریضوں کی حالت مزید پتلی ہو جاتی ہے اور بعض اوقات وہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ظلم کی انتہا ہے کہ جان بچانے والی ادویہ بھی جعلی تیار ہوتی ہیں۔ یہ دوائیں مریضوں کو آخری چارہ کار کے طور پر استعمال کروائی جاتی ہیں، اور ڈاکٹر اس وقت حیران ہو جاتے ہیں جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ جان بچانے والی اس دوا کا بھی اثر نہیں ہوا، اس کے بعد وہ لا محالہ اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ دوائی یا تو جعلی تھی یا غیر معیاری تھی، لیکن انسانیت کے خلاف یہ جرم کرنے والے اب تک قانون کی گرفت سے بچے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ یا تو قانون غیر مؤثر ہے یا پھر ان لوگوں کے ہاتھ اتنے لمبے ہیں کہ قانون کو اپنے تک پہنچنے ہی نہیں دیتے، حالانکہ یہ لوگ بالواسطہ طور پر قتل کے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں اور ان کی سزا موت ہونی چاہئے۔ لیکن ان خطوط پر کبھی غور ہی نہیں کیا گیا نتیجے کے طور پر یہ مکروہ دھندہ جاری ہے لوگ موت کے منہ میں جا رہے ہیں اور انسانیت دم توڑ رہی ہے لیکن ہم سوائے نوحہ خوانی کے کچھ نہیں کر رہے۔

ان حالات میں اگر حرام، مردار اور بیمار جانوروں کا گوشت فروخت کرنے والوں کے خلاف سزائیں سخت بنانے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے اور وزیر اعلیٰ نے اس ضمن میں مسودہ قانون جلد تیار کرنے اوراسمبلی سے منظور کرانے کی ہدایت کی ہے تو یہ بہت ہی بروقت ہے اور پنجاب کی حکومت اس سلسلے میں تبریک و تحسین کی مستحق ہے۔

مردار جانوروں کا گوشت عرصے سے فروخت ہو رہا ہے خصوصاً پولٹری فارموں پر جو مرغیاں قریب المرگ ہوتی ہیں یا پھر کسی وبا کے زمانے میں مرغیاں زیادہ تعداد میں مرنا شروع ہو جاتی ہیں ان کا گوشت مارکیٹ میں بیچ دیا جاتا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ایسی اطلاعات مسلسل شائع ہو رہی ہیں کہ مردہ مرغیوں کے گوشت کی گاڑی پکڑی گئی۔ یہ تشویش ناک اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ گدھوں کا گوشت بلا روک ٹوک فروخت ہو رہا ہے۔ بیمار اور لاغر جانوروں کے گوشت کا دھندا تو پرانا ہے اگر اب حکومت نے اس جانب توجہ کی ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری اہل کار دیانت داری کے ساتھ گوشت کا معائنہ کریں اور جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو قانون کے شکنجے میں لائیں اگر انہوں نے اپنے معمولی فائدے کے لئے اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں سے صرفِ نظر کیا اور انہیں بیمار اور حرام گوشت فروخت کرنے کا مزید موقعہ فراہم کیا تو وہ خود قانون کی نظر میں مجرم ٹھہریں گے گوشت تو رہا ایک طرف اشیائے خوراک میں ملاوٹ کاسلسلہ وسیع پیمانے پر جاری ہے اور کھانے پینے والی اشیا میں ایسی ایسی اشیا کی ملاوٹ کی جا رہی ہے کہ ان کو استعمال کرنے والے لوگ ناقابل علاج بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں اس لئے اشیائے خوردنی میں ملاوٹ کی سزائیں بڑھانے کی ضرورت ہے چونکہ ان ملاوٹی اشیا کے استعمال سے لوگ جان تک سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اس لئے یہ دھندا کرنے والوں کو زیادہ سخت سزائیں دینے کی ضرورت ہے۔بچوں کی پرورش میں دودھ جیسی بنیادی غذا میں بھی گندے پانی کی ملاوٹ کی شکایت عام ہے اور ننھے منے بچے اس دودھ کے استعمال سے نہ صرف مختلف انواع کی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں بلکہ ان کی نشوونما بھی متاثر ہوتی ہے اور ان کی جان کو زندگی بھر کا روگ لگ جاتا ہے لیکن بد قسمتی کی بات ہے کہ کوئی حکومت دودھ جیسی بنیادی خوراک میں ملاوٹ نہیں روک سکی اور یہ عمل بھی بغیر روک ٹوک جاری ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے اگر اس جانب توجہ دی ہے تو اُنہیں اس کام کی نگرانی کے لئے فرض شناس افسروں اور اہلکاروں کی ٹیم بنانی چاہئے جو اس کام کو عبادت سمجھ کر انجام دے۔ ورنہ خدشہ یہ ہے کہ یہ مہم بھی ناکام ہو جائے گی کیونکہ جن لوگوں کے منہ کو حرام لگ چکا ہے وہ آسانی سے اس کاروبار سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں ہوں گے اور خدشہ ہے کہ ان کی جانب سے اس مہم کی مزاحمت بھی بہت زیادہ ہو گی۔عام طور پر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ملاوٹ شدہ اشیاء تھوک مارکیٹوں سے فروخت کے لئے پرچون کی دکانوں پر جاتی ہیں اور ان دکانداروں کا ملاوٹ میں کوئی ہاتھ نہیں ہوتا لیکن اگر پکڑ دھکڑ شروع ہوتی ہے تو پرچون فروش دھر لئے جاتے ہیں اور جہاں ملاوٹ کا دھندا ہوتا ہے وہ بچ جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں ملاوٹ کا آغاز ہوتا ہے وہاں کارروائی کی جائے اور محض کارروائی ڈالنے کے لئے پرچون فروشوں کی گرفتاریاں نہ ڈالی جائیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے جس کام میں ہاتھ ڈالا ہے اس میں کامیابی اسی صورت ممکن ہے جب قانون کو سخت بنایا جائے اور اس پر سختی سے عملدرآمد بھی کرایا جائے ورنہ چند روزہ شور شرابے کے بعد معاملہ پھر پرانی ڈگر کی جانب لوٹ جائے گا۔

مزید : اداریہ