ریونیو عدالتوں میں سینکڑوں مقدمات پر فیصلوں کے باوجود تحریری احکامات جاری نہ ہو سکے

ریونیو عدالتوں میں سینکڑوں مقدمات پر فیصلوں کے باوجود تحریری احکامات جاری ...

 لاہور(عامر بٹ سے)صوبائی سطح کی ریونیو عدالتیں انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بن گئیں ، قواعدو ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے ریونیو عدالتوں کے مجاز افسران اور سٹاف کے مفادات اور نااہلی سے سینکڑوں مقدمات پر فیصلے ہونے کے باوجود تحریری احکامات جاری نہیں کئے جارہے ، جوڈیشل افسران کی نااہلی ،فیصلے کی تحریر لکھنے کی سوجھ بوجھ نہ رکھنے اور سالہا سال سے جاری اس بے قاعدگی کے باعث سائلین انصاف کے حصول کیلئے خوار ہو گئے ،اپریل 2015تک ایسے کیسز کی تعداد 221ہے جن کے فیصلے تو معزز ممبرران بورڈ آف ریونیو نے زبانی طورپر کر دیئے ہیں مگر انہیں تحریر کرکے سائلین کو فراہم نہیں کیا گیا کئی فیصلے ایسے ہیں جنہیں صادر کرنے والے ممبران ریٹائرڈ ہو چکے ہیں مگر وہ ابھی تک ضبط تحریر میں نہیں لائے گئے ہیں ،سرکاری دستاویزات سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ممبر جوڈیشل 1کی عدالت میں 39،ممبر جوڈیشل 3 کی عدالت میں 22، ممبر جوڈیشل کی عدالت کے 22اور ممبر بورڈ آف ریونیو کنسالیڈیشن کی طرف سے زبانی طورپر صادر کئے گئے فیصلوں کی تعداد 90ہے جن کو قوائد وضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ابھی تک تحریری احکامات کی صورت میں جاری نہیں کیا گیا ہے محکمانہ ذرائع کے مطابق متعلقہ عدالتوں کا عملہ بالعموم سائلین سے رشوت بٹورنے کے لئے تحریری فیصلے فراہم کرنے میں بہانہ سازی سے کام لے رہے ہیں جبکہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بعض ممبران نااہلی کی وجہ سے فیصلے تحریر کرنے سے گریز کرتے ہیں ذرائع نے بتایا کہ ان عدالتوں میں افسران کی تعیناتی افسرکی ذاتی صلاحیت اورمیرٹ پر نہیں کی جاتی بلکہ ذاتی تعلقا ت کی بناء پر کی جاتی ہے عام طورپر ایسے افسران کو تعینات کیا جاتا ہے جوکہ ریٹائرمنٹ کے قریب تر ہوتے ہیں زیادہ تر افسران قانونی پہلوؤں سے مکمل آگاہ ہوتے ہیں نہ ان سے آگاہ ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں اس لئے فیصلے تحریر نہیں کروا پاتے ،ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ بعض ممبران نے محکمہ کیلئے ریٹائرڈ ملازمین کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں جو قانونی نکات سے آگاہی رکھتے ہیں اور فیصلے تحریر کرنے میں مہارت رکھتے ہیں تاہم بعض ممبران بورڈ آف ریونیو ایسے ملازمین کی خدمات حاصل کرنے کی زحمت بھی نہیں کرتے ہیں جس کے باعث فیصلوں کے باوجود مقدمات زیر التواء رہتے ہیں،افسران کی اس سستی اور نااہلی کا خمیازہ عوام کو خواری اور ذہنی اذیت کی صورت میں مل رہا ہے جو سالہا سال سے زبانی انصاف ملنے کے باوجو د تحریر ی طورپر انصاف ملنے کی امید لگائے ہوئے ہیں۔

مزید : علاقائی