کیا امریکہ انسداد دہشتگردی کے اقدامات کو مزید سخت کرے گا ؟

کیا امریکہ انسداد دہشتگردی کے اقدامات کو مزید سخت کرے گا ؟

 واشنگٹن(اظہرزمان،بیوروچیف) اس وقت عراق اور افغانستان کے دوایسے جنگی تھیٹرہیں جن سے امریکہ نکل چکا ہے لیکن وہ یہاں دہشت گرد جنگجوؤں کیخلاف سر گرم سرکاری فوج کو مالی،فوجی اور تکنیکی امدادفراہم کر رہا ہے۔ موسم بہار کے آغازمیں ا ن ملکوں میں داعش اورطالبان مسلسل لپیاٹی کے بعد پھر قوت پکڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ واشنگٹن میں فوجی ماہرین کہتے ہیں کہ رمادی کے شہر پر داعش کے دوبارہ قبضے سے ظاہر ہوتاہے کہ عراقی حکومت پر امریکی ٹیکس گزاروں کے اربوں ڈالر داعش کو شکست دینے کے لئے خرچ ہو رہے ہیں لیکن وہ اس کامیاب نہیں ہو رہے ۔دوسری طرف طالبان کے موسم بہار کے حملے کابل حکومت کے لئے بڑا چیلنج ثابت ہو رہے ہیں اور دارالحکومت کے عین مرکز میں دہشت گردی کی کارروائیاں کامیابی سے ہو رہی ہیں جس سے افغان سکیورٹی فورسز کی طالبان کے مقابلے ہر صلاحیتوں کے بارے میں سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ کابل میں افغان محکمہ انصاف پر خودکش حملہ ایک ہفتے میں طالبان کی تیسری کامیاب کارروائی ہے۔وڈروونسن سنٹر کے سکالرمائیکل کوگل مین نے صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ افغان فورسز پہلی مرتبہ امریکی فو ج کے بغیر طالبان کامقابلہ کر رہی ہیں۔ طالبان اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ادھر داعش کی تازہ کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے اصرارکیا کہ عراق میں دہشت گرد ی کے خلاف امریکی حکمت عملی کامیاب ہے۔اگر ایک دو مقامات پر داعش کسی کمزوری کا فائدہ اٹھالے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں آئندہ بھی کامیابی ملے گی ۔انہوں نے تسلیم کیا کہ دہشت گردوں نے لیبیا میں بھی نیا مرکز قائم کر رہا ہے۔ ایوان نمائندگان کے سپیکر جان بوہنر نے داعش کی کامیابی پر تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس کو کانگریس نے عراق میں داعش کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا جو فوجی اختیار دیا تھا اس کا کیا فائدہ ہے اگر انتظامیہ اس اختیار کو استعمال ہی نہیں کرے گی۔معلوم ہوا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی سکیورٹی ٹیم نے صدراوبامہ کو رمادی اور صوبے غیر میں جنگ کی صورتحال پرتازہ بریفنگ دی ہے۔صدراوبامہ نے عراقی کابینہ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیاہے کہ رمادی کو داعش کے قبضے سے چھڑانے کے لئے نئی کارروائی کی جائے گی اور عراقی فورسز کی تربیت کا کام تیز کیا جائے گا۔

مزید : علاقائی