سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تفتیش مکمل ،وزیر اعظم اور وزراء پر الزامات بے بنیاد ہیں ،جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تفتیش مکمل ،وزیر اعظم اور وزراء پر الزامات بے بنیاد ہیں ...

 لاہور (کر ائم سیل)جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تفتیش مکمل کرلی ہے جس کی رپورٹ کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک کے 2 سے 3ہزارکارکنوں کاپولیس اہلکاروں سے تصادم ہوا۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر فائرنگ اور پتھراؤ کیاگیاجس سے فریقین کا جانی اور مالی نقصان ہوا۔ پولیس اہلکار کی ہلاکت کی خبر پر سابق ایس پی سکیورٹی سلمان علی خان نے فائرنگ کا حکم دیا۔ مقدمے کے چالان میں سابق ایس پی سکیورٹی سلمان علی خان ، سابق ایس ایچ او تھانہ سبزہ زار انسپکٹر شیخ عامر سلیم ، سب انسپکٹر ایلیٹ رؤف سمیت 10 پولیس اہلکاروں کونامزدکیا گیا۔عوامی تحریک کے 42 کارکنوں کے خلاف پولیس پر پتھراؤ اور پٹرول بم پھینکنے کے جرم میں مختلف شہروں میں مقدمات درج ہوئے ۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے وفاقی حکومت کے کسی وزیر اور مشیر کا صوبے کے امن و امان سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ وزیراعظم اور وفاقی وزراء پر الزامات بے بنیاد ہیں۔ سابق ڈی آئی جی آپریشنز کا شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کے ساتھ وقوعہ کی رات رابطہ ثابت نہیں ہوا۔ سابق ڈی آئی جی آپریشنز رانا عبدالجبار کا وقوعہ کی رات موقع پر جانا بھی ثابت نہیں ہوا۔ تھانہ فیصل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک کے ڈائریکٹر کی مدعیت میں درج ہونے والے مقدمہ میں سابق سی سی پی او لاہور چودھری شفیق احمد کا نام شامل ہی نہیں کیا گیا تھا ، جبکہ وقوعہ کے روز سے لیکر آج تک سابق ایس پی سکیورٹی سلمان علی خان مفرور ہیں ۔جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ سی سی پی او کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ تھے جبکہ ارکان میں ایس ایس پی رانا شہزاد اکبر، ڈی ایس پی سی آئی اے خالد ابوبکر ، آئی ایس آئی کے کرنل بلال ، آئی بی کے ڈائریکٹر محمد علی سمیت دیگر شامل تھے ، جے آئی ٹی رپورٹ پولیس ، آئی ایس آئی اور آئی بی نے متفقہ طور پر تیار کی ہے جس میں کہا گیا کہ ماڈل ٹاؤن واقعہ پولیس اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں میں تصادم کا نتیجہ تھا۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور سابق وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے خلاف ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واقعہ میں کسی سازش یا منصوبہ بندی کا ہونا ثابت نہیں ہوتا ، جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں پولیس کے ساتھ مزاحمت اور اہلکاروں کو زخمی کرنے پر عوامی تحریک کے کارکنوں کو قصور وار ٹھہرایا ہے۔

مزید : صفحہ اول