پنجاب کا بینہ نے خواتین پر تشدد کیخلاف بل کی منظوری دے دی

پنجاب کا بینہ نے خواتین پر تشدد کیخلاف بل کی منظوری دے دی

 لاہور(جنرل رپورٹر)وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کے زیر صدارت پنجاب کابینہ کے اجلاس میں تشدد کی شکار خواتین کے تحفظ کے بل2015ء کی منظوری دے دی گئی ۔اجلاس میں پنجاب مٹیرنٹی بینیفٹ آرڈیننس1958ء کی شق 3میں ترمیم ، سٹمپ ایکٹ 1899ء اورپنجاب کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن ایکٹ میں ترامیم کی بھی منظوری دی گئی۔ کابینہ کے اجلاس میں مرحلہ وار پروگرام کے تحت پنجاب بھر میں ای سٹمپ پیپر زکے اجراء کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں گندم خریداری مہم ، صوبے میں امن وامان کی صورتحال اور پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی زمبابوے کی کرکٹ ٹیم کے لئے کئے گئے سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہاکہ صوبے میں ای سٹمپ پیپرز کے اجراء کا فیصلہ کیا گیاہے او راس تاریخی اقدام سے حکومت کو نہ صرف اربوں روپے کا ریونیو حاصل ہوگا بلکہ جعلی اشٹام پیپرز اور دھوکہ دہی کے کاروبار کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ الیکٹرانک اشٹام پیپرز کے جدید نظام سے جعلی اشٹام پیپرز کے ذریعے لوگوں کی اراضی پرنا جائز قبضوں کا خاتمہ ہوگا،اس انقلابی پروگرام کا اجراء جولائی سے کیا جا رہاہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ اراضی کی رجسٹریشن کے حوالے سے بھی ای سٹمپنگ کا پروگرام مرتب کیا جائے او راس ضمن میں جلد حتمی سفارشات پیش کی جائیں۔انہوں نے کہاکہ پنجاب حکومت کی گندم خریداری مہم کامیابی سے جاری ہے اور اب تک 29لاکھ 50ہزار میٹرک ٹن گندم کاشتکاروں سے خریدی جا چکی ہے ۔ کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ کاشتکاروں کے مفادات کا پہلے بھی تحفظ کیا، آئندہ بھی کریں گے ۔مڈل مین یا آڑھتی کو کسانوں کا استحصال نہیں کرنے دیا جائے گا۔پنجاب حکومت نے خریداری مہم کے دوران پہلی مرتبہ 2لاکھ 42ہزارکاشتکاروں کی الیکٹرانک رجسٹریشن کی ہے ۔الیکٹرانک رجسٹریشن کے تحت حاصل ہونے والے ڈیٹا کا فرانزک تجزیہ کیا جائے جس کی روشنی میں آئندہ کے لئے گندم خریداری پالیسی مرتب کی جائے۔وزیراعلیٰ نے گندم خریداری مہم میں اچھی کارکردگی پر صوبائی وزیر خوراک سمیت وزراء،چیف سیکرٹری ، سیکرٹری خوراک اور متعلقہ سیکرٹریز کو شاباش دیتے ہوئے کہاکہ گندم خریداری مہم میں بہترین کارکردگی دکھانے والے پہلے تین ا ضلاع کے انتظامی افسروں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی جبکہ خراب کارکردگی والوں کا احتساب ہوگا ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ زمبابوے کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی جانب اہم پیشرفت ہے۔پنجاب حکومت نے زمبابوے کرکٹ ٹیم کے دورہ کے دوران فول پروف سکیورٹی انتظامات کئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ زمبابوے کرکٹ ٹیم کے دورے کے دوران کابینہ کمیٹی برائے امن امان روزانہ کی بنیاد پر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے۔کابینہ کے اجلاس میں پیش کئے گئے پنجاب ویجیلنس کمیٹی بل 2015 کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ ملک کو دہشت گردی ،انتہا ء پسندی کے سنگین چیلنج کا سامناہے اور معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر دہشت گردی کے عفریت کا مقابلہ کرناہے۔دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے کمیونٹی کی شرکت کو یقینی بنانے کی غرض سے ویجیلینس کمیٹیوں کی تشکیل نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ ویجیلینس کمیٹیوں کا نظام دہشت گردی سے نمٹنے کے حوالے سے موثر کردار ادا کرے گا۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ویجلنس کمیٹی بل کے حوالے سے تمام وزراء، متعلقہ محکموں اور اداروں سے مکمل مشاورت کر کے حتمی سفارشات پیش کی جائیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ شادی بیاہ کی تقریبات کے ایکٹ پر پوری طرح عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی پر بلا امتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔انہوں نے کہاکہ شادی بیاہ کی تقریبات کے حوالے سے1998ء کے قانون کا از سر نو جائزہ لیتے ہوئے ون ڈش ختم کر کے سردیوں میں سوپ او رگرمیوں میں ٹھنڈا مشروب کی تجویز پر غور کیا جائے۔کا بینہ کے اجلاس میں پیش کئے گئے پنجاب میرج فنکشنزبل 2015 کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ اس بل کا تمام پہلوؤں سے جائزہ لیا جائے او رایسا جامع قانون بنایا جائے جس سے غریب اور عام آدمی کو فائدہ ہو،معاشرے میں امیر اور غریب کے درمیان تفاوت کے خاتمے کیلئے ایسے اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔پنجاب حکومت معاشرے کے کم وسیلہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لئے انقلابی اقدامات کررہی ہے او رشادی بیاہ کی تقریبات میں ون ڈش ختم کرنے کی تجویز بھی اسی جانب ایک اہم قد م ہو سکتا ہے جس سے سفید پوش طبقے کو حقیقی معنوں میں فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ کابینہ اجلاس کوصوبے میں امن وامان کی مجموعی صورتحال ، زمبابوے کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے حوالے سے سکیورٹی انتظامات اور گندم خریداری مہم 2015-16 کے حوالے سے کئے جانیوالے اقدامات کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیران ، معاونین خصوصی، چیف سیکرٹری، انسپکٹرجنرل پولیس ، متعلقہ سیکرٹریز او راعلیٰ حکام نے شرکت کی۔علاوہ ازیں مختلف اضلاع کے ارکان اسمبلی سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کی فلاح و بہبود کیلئے متعدد منصوبوں پرعمل پیرا ہے۔ پنجاب میں دیہی سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے اور منفرد ’’خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام‘‘ کا آغاز کیا گیا ہے اور یہ پروگرام دیہی علاقوں کی ترقی و خوشحالی کیلئے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔رواں مالی سال اس پروگرام پر 15ارب روپے کی خطیر رقم صرف کی جا رہی ہے جبکہ اگلے 3 برس کے دوران پنجاب کی تمام دیہی سڑکوں کو اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ’’ خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام ‘‘صوبے کے دیہی علاقوں میں ترقی وخوشحالی لائے گااوردیہی علاقوں میں روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پید ا ہوں گے او ردیہی معیشت مضبوط ہوگی۔ وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرنے والوں میں اراکین قومی اسمبلی سلمان حنیف، محمد صدیق خان بلوچ، محمد خان ڈاہا، اراکین صوبائی اسمبلی علی عباس، ڈاکٹر نادیہ عزیز، امیر محمد خان اور سابق ایم پی اے عرفان احمد خان ڈاہا شامل تھے۔اس موقع پر ایم پی اے منشاء اللہ بٹ اورسابق ایم این اے سعود مجید بھی موجود تھے ۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے شعبہ توانائی کے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے وفد نے ملاقات کی۔ملاقات میں پنجاب میں توانائی خصوصاً گیس اور وِنڈ پاور پراجیکٹس میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو توانائی بحران کا سامنا ہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے مخلصانہ اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم سولر پارک بہاولپور میں 100 میگاواٹ کا سولر منصوبہ پنجاب حکومت نے اپنے وسائل سے مکمل کرکے چلایا ہے۔900 میگاواٹ کے سولر منصوبے پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں گیس سے 3600 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ گیس سے 1200 میگاواٹ کا منصوبہ پنجاب حکومت جبکہ 2400 میگاواٹ کا منصوبہ وفاقی حکومت لگا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے کوریڈور کی بھی نشاندہی ہو چکی ہے۔ بین الاقوامی گروپ کی جانب سے گیس اور وِنڈ پاور منصوبوں میں تعاون کا خیرمقدم کریں گے۔ وفد کے سربراہ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کے ساتھ توانائی کے منصوبوں کے حوالے سے تعاون کریں گے۔

مزید : صفحہ اول