’’ایگزیکٹ ‘‘کے مالک شعیب شیخ نے تمام الزامات کی تردید کر دی

’’ایگزیکٹ ‘‘کے مالک شعیب شیخ نے تمام الزامات کی تردید کر دی

 اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) ایگزیکٹ آئی ٹی کمپنی کے سی ای او شعیب شیخ نے اپنے اور ان کی کمپنی پر لگائے جانے والے الزامات کی تردید کر دی ہے ۔ نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے شعیب شیخ کا کہنا تھا کہ جس امریکی صحافی نے ایگزیکٹ آئی ٹی کمپنی پر الزام لگایا ہے اسے پاکستان کے خلاف کام کرنے پر نکالا گیا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ ایگزیکٹ آئی ٹی کمپنی کے 10 مختلف کاروبار ہیں جن میں لوگو ، موبائل ایپس ، ایگزیکٹ آن لائن اپلی کیشنز اور آن لائن ریسرچ کا کام کرتے ہیں ۔ جبکہ آن لائن ایجوکیشن کے کے حوالے سے ان کی کمپنی کام کرتی ہے ۔ انہوں نے امریکی صحافی ڈیکلین والش کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے افرا تفری میں یہ آرٹیکل لکھا ہے اور حقائق کی جانچ پڑتال نہیں کی نہ ہی کوئی ثبوت دیے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر انجان ملازمین کی جانب سے بیانات اور الزامات کی بات کی جا رہی ہے ۔ لیکن یہ نہیں بتایا جا رہا کہ ان کا تعلق واقعی ایگزیکٹ کے ساتھ ہے بھی یا نہیں ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایگزیکٹ کا کام آن لائن ایجوکیشن فراہم کرنا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ جعلی ڈگری جاری کرنے کا کام نہیں کرتے تاہم ان کا پلیٹ فارم منظور شدہ اور غیر منظور شدہ تعلیمی اداروں کے پاس ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایگزیکٹ آئی ٹی کمپنی کے سسٹم میں شاگرد اور استاد کے موڈیول موجود ہیں جبکہ ہمارے سسٹم میں استاد آن لائن پڑھاتا ہے اور شاگرد پڑھتا ہے ۔ ایگزیکٹ آئی ٹی کمپنی کے کراچی دفتر سے برآمد ہونے والی جعلی ڈگریوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کیا کوئی ایسی دستاویزات بھی ملی ہیں جن پر ایگزیکٹ کا نام لکھا ہوا ہے ؟ انہوں نے واضح تردید کی کہ ان کی کمپنی کوئی ڈگری یا ڈپلومہ جاری نہیں کرتی ۔ ٹیکس کے حوالے سے شعیب شیخ کا کہنا تھا کہ جب سے انہوں نے بول چینل کھولنے کا اعلان کیا ہے تب سے ایف بی آر ان کے ٹیکس کا آڈٹ کر رہا ہے لیکن حکومت کو یہ بھی پتا ہونا چاہیے کہ ان کی کمپنی ٹیکس فری ہے ۔ ان کے اثاثوں کی مالیت 20 ارب ڈالر ہے لیکن ان کی آمدنی کوئی نہیں ہے ، وہ ایگزیکٹ کو 20 ارب ڈالر کی وجہ سے اس کمپنی کو اپنا سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہمارے پیچھے کوئی مخصوص ہاتھ ہے لیکن اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ ان کے پیچھے کوئی ہاتھ نہیں ہے ۔ انہوں نے ای سی ایل میں نام ڈالنے کے حوالے سے کہا ہے کہ ہم ایسی افواہوں سے نہیں ڈرتے اور پاکستان میں ہی موجود رہیں گے ۔ آنے والے اپنے چینل بول کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بول چینل آج کل جیسی صحافت نہیں کرے گا اور اپنے پلیٹ فارم کو ذاتی بدلہ لینے کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا ۔

مزید : صفحہ اول