دالتی کاروائی ہوئی تو اپنی سٹوری کے دفاع میں ثبوت پیش کروں گا،امریکی صحافی

دالتی کاروائی ہوئی تو اپنی سٹوری کے دفاع میں ثبوت پیش کروں گا،امریکی صحافی

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) ایگزیکٹ آئی ٹی کمپنی کے جعلی ڈگریوں کا سکینڈل سامنے لانے والے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے صحافی ڈیکلین والش نے بتایا ہے کہ انہیں پاکستانی میڈیا کے بارے میں تحقیق کے دوران ایگزیکٹ کمپنی کے کاروبار کا علم ہوا ۔تفصیلات کے مطابق بی بی سی اردو سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے ڈیکلین والش کا کہنا تھا کہ پاکستان میں میڈیا انڈسٹری میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں کام کر رہے تھے اور اسی سلسلے میں نئے آنے والے چینل بول کے بارے میں بھی انہوں نے تحقیق کا آغاز کیا ۔ اس کمپنی کے اصل کام کا پتا لگانے کی کوشش کی تو انہیں معلوم ہوا کہ ایگزیکٹ آئی ٹی کمپنی جعلی ڈگریوں کے کاروبار میں ملوث ہے ۔ ڈیکلین والش کا کہنا تھا کہ اس ادارے سے منسلک بہت سے صحافیوں سے بات کرنے کے بعد انہیں حقیقت معلوم ہوئی اور بہت سے شواہد ملے جن کا ذکر انہوں نے اپنی رپورٹ میں نہیں کیا ۔امریکی صحافی کا کہنا تھا کہ صحافت کے شعبے میں اپنے ذرائع کا دفاع کرنا آج کی بات نہیں ہے اور اگر ایگزیکٹ کی جانب سے عدالتی کاروائی کی گئی تو وہ بھی اپنی سٹوری کے دفاع میں ثبوت پیش کریں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایگزیکٹ کمپنی کے سابق ملازمین سے بات کر کے انہیں پتا چلا کہ یہ کمپنی ملازمین سے قانونی معاہدے پر دستخط کرواتی ہے اور اس کمپنی کا ملازم کھل کر اپنی نوکری کے بارے میں بتا نہیں سکتا ۔ ڈیکلین والش کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ پاکستان میں اس سٹوری کو کاروباری رقابت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ایف آئی اے نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور بہت کچھ مزید سامنے آ رہا ہے ۔

مزید : صفحہ اول