سانحہ صفورہ گوٹھ میں گرفتار دہشتگردوں کا بریگیڈ یئر باسط سمیت اہم شخصیات کے قتل کا اعتراف

سانحہ صفورہ گوٹھ میں گرفتار دہشتگردوں کا بریگیڈ یئر باسط سمیت اہم شخصیات کے ...

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک ،اے این این) سانحہ صفورہ ٹاؤن حملے کے الزام میں گرفتار دہشتگرد وں کا سبین محمود سمیت کئی اہم شخصیات کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا، رپورٹ وزیر اعظم اور آرمی چیف کو ارسال کر دی گئی،ملزمان نے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار پر حملے کا بھی منصوبہ بنا رکھا تھا،سانحہ صفورا میں ملوث دہشت گرد کا پولیس اہلکاروں، ڈاکٹرز اور اہم شخصیات کوقتل کرنے کا اعتراف، گرفتار دہشت گردوں نے رینجرز کے بریگیڈیر باسط پر حملے، دس پولیس اہل کاروں کو قتل کرنے، اسکولوں پر گرینیڈ اور بوہری کمیونٹی پر حملوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق صفورا بس حملے کے الزام میں گرفتار چار مبینہ دہشت گردوں نے دیگر اہم وارداتوں میں ملوث ہونیکا اعتراف کرلیا۔ملزمان کی سبین محمود ، بوہری مسجد دھماکے اور پولیس افسروں کے قتل میں ملوث ہونے کی رپورٹ وزیراعظم اور آرمی چیف کو بھجوادی گئی۔ ذرائع کے مطابق پولیس حکام نے دعوی کیا ہے کہ صفورا حملے میں ملوث گرفتار دہشت گردوں نے کئی اہم انکشافات کیے ہیں۔ انھو ں نے سماجی رہنما سبین محمود پر حملے کا اعتراف بھی کیا ہے۔ ایک ملزم نے بتایا ہے کہ اس نے سبین محمود کے فنکشنز میں بھی شرکت کی۔تحقیقات کے دوران گرفتار دہشت گردوں نے رینجرز کے بریگیڈیر باسط پر حملے، دس پولیس اہل کاروں کو قتل کرنے، اسکولوں پر گرینیڈ اور بوہری کمیونٹی پر حملوں کا بھی اعتراف کیاہے۔ملزمان نے کئی ڈاکٹرز، پولیس افسران و اہلکار اور سبین محمود سمیت کئی اہم شخصیات کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ سانحہ صفورا میں ملوث دہشت گرد طاہر حسین اور اس کے بھائی شاہد کا تعلق القاعدہ سے ہے، ملزم 2007 میں اپنے بھائی اور والد خادم حسین کے ساتھ دہشت گردی کے الزام میں حیدر آباد میں گرفتار ہوچکا ہے، وہ 3 سال قبل جیل سے رہا ہوا جس کے بعد وہ اپنے بھائی کے ساتھ مل کر دوبارہ وارداتیں کرنے لگا، دونوں بھائی رواں سال ناظم آباد میں میزان بینک لوٹنے میں بھی ملوث تھے تاہم اس کا بھائی شاہد چند ماہ قبل کراچی میں پولیس مقابلے کے دوران ہلاک ہوگیا تھا۔ دہشت گرد طاہر کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ اس کے گروپ نے کئی دن تک سانحہ صفورا میں نشانہ بنائی گئی بس کی ریکی کی اور پھر اس کی منظم منصوبہ بندی کی گئی، اس حملے کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا تھا، اس کے علاوہ دہشت گرد طاہر نے ایس ایس پی ملیر را انوار پر بھی حملے کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔ان ملزمان کو ماڑی پور سے گرفتار کیا گیا تھا۔

مزید : صفحہ اول