عمران خان کے حملے، زرداری کے جواب شروع، فقرے بھی کسے!

عمران خان کے حملے، زرداری کے جواب شروع، فقرے بھی کسے!

تجزیہ:چودھری خادم حسین

بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے خیبر پختون خوا میں سیاست خاصی گرم ہو گئی، وہاں تحریک انصاف جماعت اسلامی اور بعض اراکین کے تعاون سے برسر اقتدار ہے۔ وہاں بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں اور خیبر پختون خوا کی پیپلزپارٹی بھی دوسری جماعتوں اے۔ این۔ پی اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کے تحت حصہ لے رہی ہے۔ چند روز قبل عمران خان نے خطاب کیا تو گزشتہ روز سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ورکرز کنونشن سے خطاب کیا اور فقرہ بازی بھی کی ان کے نشانے پر خصوصاً عمران خان اور تحریک انصاف رہی اور وہ یہ تک کہہ گئے کہ ان کو سونامی کی حقیقت معلوم ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، آصف علی زرداری کے حوالے سے بہت کچھ کہتے رہے اور اب بھی کہتے ہیں، اب آصف علی زرداری نے جوابی سلسلہ شروع کیا اور یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اب جلسوں سے خطاب کریں گے کہ اب صدر نہیں ہیں۔

سابق صدر نے یہ دلچسپ بات کہی کہ وہ صدر تھے تو ان سے کہا جاتا تھا کہ وہاں نہ جائیں۔ یہاں نہ جائیں لہٰذا وہ کارکنوں سے بھی نہ مل سکے اب وہ صدر نہیں ہیں اس لئے آزاد ہیں اور کارکنوں سے ملتے رہیں گے۔

یہ خطاب اور باتیں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ہیں یہ ابھی خیبرپختون خوا میں ہو رہے ہیں۔ تو فضا وہاں گرم ہے جس کی تپش یہاں بھی محسوس کی جا رہی ہے کہ قومی راہنما بات کریں گے تو پورے ملک میں تشہیر ہو گی۔

حکومت پنجاب کے مطابق یہاں بلدیاتی انتخابات اسی سال ہوں گے۔ کب ہوں گے تا حال یہ نہیں بتایا گیا۔ امکان ہے کہ عیدین کے بعد ہوں۔ ایسی ہی صورت حال سندھ میں بھی ہے کہ حکومت سندھ نے عدالت عظمیٰ سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ اسی سال انتخاب ہوں گے اور سندھ حکومت مجبور ہو کر بھی دسمبر میں کرانا چاہتی ہے۔

اگلا مہینہ بجٹ سازی کا ہے۔ وفاق اور اس کے بعد صوبائی بجٹ پیش ہوں گے تو چند روز اس پر بات ہو گی اور پھر سوئی بلدیات پر چلی جائے گی اور یہ دونوں صوبے بھی اس بخار کی زد میں آ جائیں گے۔ تا حال کچھ زیادہ سر گرمیاں نظر نہیں آ رہیں۔ امیدوار بھی اندر ہی اندر ہیں کھل کر اعلان نہیں کرتے سوال صرف یہ ہے کہ کیا یہ بلدیاتی انتخابات خوشگوار اور اچھے ماحول میں نہیں ہو سکتے کہ یہ نچلی سطح کے ہیں اور گلی گلی کوچے کوچے مہم ہو گی۔ اگر اخلاقیات کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو تصادم بھی ہو سکتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ کسی ضابطہ اخلاق پر متفق ہوا جائے اور اس کے مطابق عمل کیا جائے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن تمام جماعتوں کے ساتھ میٹنگز کریں اور ان سب کو قانون و قاعدے کے علاوہ ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کی تلقین کرے۔

سیاست میں تبدیلی کوئی بڑی بات نہیں۔ انتخابات کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ عوام کی منشا کے مطابق نمائندے چنے جائیں اور یہ عمل خوش اسلوبی کے ساتھ ہو تو بہتر ہے۔ بہت کچھ کہا گیا۔ کہا جاتا ہے حالات سب کے سامنے ہیں اور سب جانتے ہیں کہ امن اور خوشگوار حالات کیسے اور کیوں رکھے جائیں اور ان کے فوائد کیا ہیں۔

مزید : تجزیہ